خطبہ کے دوران امام کا وضو ٹوٹ جانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ امام خطبہ جمعہ دے رہا تھا اور ہوا خارج ہوگئی، اس حالت میں اب امام کیا کرے؟ اسی حالت میں خطبہ جمعہ مکمل کرے، یا وضو کر کے دوبارہ خطبہ دے؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اگر دوران خطبہ خطیب صاحب کا وضو ٹوٹ جائے تو بہتر یہ ہے کہ وضو کر کے پھر خطبہ مکمل کرلیں تا کہ وضو کی حالت میں خطبہ ادا ہوجائے؛ اس لئے کہ وضو کی سنتوں میں سے ایک سنت با وضو خطبہ دینا ہے، لیکن اگر اسی حالت میں خطبہ مکمل کرلیا تو ایسا کرنا بھی جائز ہے؛ اس لئے کہ خطبہ کے لئے وضو شرط نہیں ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ خطبہ ذکر ہے اور بے وضو شخص کو ذکر کرنا منع نہیں ہے، اسی لئے قبلہ کے علاوہ کسی سمت کی طرف منہ کرنے سے بھی ادا ہوجاتا ہے، اور گفتگو کرنے سے فاسد بھی نہیں ہوتا۔
رد المحتار میں ہے:
“والطهارة سنة عندنا لا شرط حتى إن الإمام إذا خطب جنبا أو محدثا فإنه يعتبر شرطا لجواز الجمعة. اهـ.”
ترجمہ: ہمارے نزدیک خطبہ میں طہارت سنت ہے شرط نہیں حتی کہ اگر امام نے جنبی ہونے کی حالت میں یا بے وضو ہونے کی صورت میں خطبہ دیا تو جمعہ جائز ہونے کی شرط کے طور پر اس کا اعتبار کیا جائے گا۔
(رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، جلد3، صفحہ26، دار المعرفۃ، بیروت)
بحر الرائق میں ہے:
ولو خطب محدثا أو جنبا ثم توضأ أو اغتسل وصلى جاز، ولو خطب ثم رجع إلى بيته فتغدى أو جامع واغتسل ثم جاء استقبل الخطبة، وكذا في المحيط معللا بأن الأول من أعمال الصلاة.
ترجمہ: اگر بے وضو یا جنبی ہونے کی حالت میں خطبہ دیا لیکن پھر وضو یا غسل کر کے نماز پڑھائی تو ایسا کرنا جائز ہے، اور اگر خطبہ دے کر گھر لوٹ گیا اور دوپہر کا کھانا کھایا یا ہمبستری کی اور غسل کر کے آگیا تو اب دوبارہ شروع سے خطبہ دے گا۔ اور ایسا ہی محیط میں ہے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ پہلی صورت کا تعلق نماز کے اعمال سے ہے۔
(البحر الرائق، کتاب الصلاة، باب صلاۃ الجمعة، جلد2، صفحہ258، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:
“ومنها “الطهارة” حال الخطبة؛ لأنها ليست صلاة ولا كشطرها.”
ترجمہ: خطبہ کی سنتوں میں سے ایک سنت با وضو خطبہ دینا ہے؛ اس لئے کہ خطبہ نہ نماز ہے اور نہ نماز کا جز۔
(نور الایضاح مع مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، صفحہ266، مطبوعہ: مکتبۃ المدینۃ)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
“لأنها ليست صلاة” بل ذكر والجنب والمحدث لا يمنعان منه قوله: “ولا كشطرها” بدليل أنها تؤدى إلى غير جهة القبلة ولا يفسدها الكلام.”
ترجمہ: اس لئے کہ خطبہ نماز نہیں ہے۔ بلکہ ذکر ہے اور جنبی و بے وضو شخص کو ذکر کرنا منع نہیں ہے۔
مصنف کا قول: “اور خطبہ نہ ہی نماز کے جز کی طرح ہے” اسکی دلیل یہ ہے کہ قبلہ کے علاوہ کسی سمت کی طرف منہ کرنے سے بھی خطبہ ادا ہوجاتا ہے، اور گفتگو کرنے سے فاسد بھی نہیں ہوتا۔
(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ص514-515، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
خطبہ میں یہ چیزیں سنت ہیں:
(1) خطیب کا پاک ہونا۔
(بہار شریعت، جمعہ کا بیان، جلد1، صفحہ767، مطبوعہ: مکتبۃ المدینۃ)
واللّٰه تعالی أعلم بالصواب۔
کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
️مؤرخہ 01 رجب المرجب 1444ھ بمطابق 24جنوری 2023ء، بروز منگل