صلی اللہ جان عالم تیرے ناز اٹھائے اللہ نے ۔ شعر کا حکم
مفتی صاحب! نعت میں اس طرح کا مصرع پڑھنا کیسا ہے کہ “صلی اللہ جان عالم تیرے ناز اٹھائے اللہ نے”؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ)
سوال میں بیان کیا گیا شعر پڑھنا درست ہے، کیونکہ اس شعر میں اللہ عزوجل کی طرف حضور علیہ السلام کے ” ناز اٹھانے ” کی نسبت کی گئی ہے، یہاں ناز اٹھانے سے مراد محبت کرنا، پیار کرنا ہے کیونکہ اردو لغت میں ناز کا مطلب لاڈ، پیار ہے، اور بلاشبہ حضور علیہ السلام کو بارگاہِ خداوند تعالیٰ میں مقامِ محبوبیت حاصل ہے..
اُردو فیروز اللغات میں لفظ ” ناز ” کے مندرجہ ذیل مختلف معانی ہیں : ادا، نخرہ، غمزہ، پیار، لاڈ، بڑائی، عزت وغیرہ…
(فیروز اللغات اردو، رنگین ایڈیشن، صفحہ 1406، فیروز سنز لمیٹڈ)
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : ألا وأنا حبيب الله ولا فخر، وأنا حامل لواء الحمد يوم القيامة ولا فخر، وأنا أول شافع وأول مشفع يوم القيامة ولا فخر، وأنا أول من يحرك حلق الجنة فيفتح الله لي فيدخلنيها ومعي فقراء المؤمنين ولا فخر، وأنا أكرم الأولين والآخرين ولا فخر ” یعنی سن لو ! میں اللہ کا حبیب ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ہے،میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ہے، قیامت کے دن سب سے پہلا شفاعت کرنے والا میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہے ،اور سب سے پہلے جنت کی کنڈی کھٹکھٹانے والا بھی میں ہی ہوں اللہ تعالی میرے لئے اسے کھولے گا اور مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ غریب و فقیر مومنین ہوں گے اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ہے،میں اولین وآخرین میں سب سے زیادہ عزت و شرف والا ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ہے.
[ سنن الترمذي ت شاكر، ابواب المناقب،باب فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث نمبر:3636 ، ٥٨٧/٥]
رسالہ قشیریہ میں ایک حکایت بیان کہ گئی جسمیں عربی لفظ ” یدلل” کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی گئی جبکہ اردو میں اسکا مطلب ناز اٹھانا، لاڈ پیار کرنا وغیرہ بنتے ہیں اور پھر فتاوی رضویہ شریف میں اعلی حضرت علیہ الرحمتہ نے اس حکایت کو نقل فرمایا اور یہی ناز اٹھانے والا ترجمہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کی نسب اللہ تبارک و تعالی کی طرف درست ہے، چنانچہ الرسالۃ القشیریہ میں ہے : ” وحكى أبو على الروذباري قال: دم علينا فقير فمات فدفنته وكشفت عن وجهه لأضعه في التراب ليرحم الله عز وجل غربته ففتح عينيه وقال يا أبا علي أتذللني بين يدي من دللني فقلت: يا سيدي أحياة بعد موت فقال لي: بلى أنا حي وكل محب لله عز وجل حي لا يضرنك غدا بجاهي يا روزباري ” یعنی ابو علی روزباری نے بیان کیا، میں نے ایک فقیر کو قبر میں اتارا، جب کفن کھولا اور ان کا سر خاک پر رکھ دیا کہ اللہ ان کی غربت پر رحم کرے، تو فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا: ” یا اباعلی أتذلنی بین یدی و من دللنى” یعنی
اے ابو علی ! مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھاتا ہے۔ میں نے عرض کی:ا ے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی؟ فرمایا: “بلٰی اناحی وکل محب اﷲ حی لا یضرنک بجاھی غدا یاروذباری” یعنی میں زندہ ہوں اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے بیشک وہ جاہت وعزت جو روز قیامت میں ملے گی اس سے تجھے کوئی ضرر نہ پہنچے گا بلکہ میں تیری مدد کروں گا اے روذ باری۔
[ القشيري، عبد الكريم ، الرسالة القشيرية، باب الأدب، 2/474 ]
(فتاوی رضویہ،جلد 9، ص 746، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی
نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ
( مورخہ 19 جنوری 2023، بمطابق 26 جمادی الاخری 1444ھ، بروز جمعرات )