وراثت کی تقسیم (بیوہ، 5بیٹے ،2بیٹیاں )
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد مصطفی صاحب کا انتقال ہوا ،انہوں نے وُرثا میں1بیوی(شاہ جہاں)5بیٹے(نعیم سلیم،ندیم،وقار،وسیم) اور2بیٹیاں(صابرہ اورشزہ)چھوڑیں،جبکہ ان کے والدین ،دادا ،دادی اورنانی کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا پھر تقسیمِ وراثت سےقبل ہی ان کی بیٹی صابرہ کا بھی انتقال ہوگیا اِنہوں نےوُرثا میں والدہ(شاہ جہاں)،شوہر(اسرار علی)2بیٹے(عمران،سلمان)اور 2بیٹیاں(صائمہ اور مہوش)چھوڑیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں محمد مصطفی صاحب کا ترکہ ان کے ورثا میں کیسے تقسیم ہوگا ؟کس وارث کوکتنا حصہ ملے گا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں کفن دفن ، قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت ہو تو تہائی میں پورا کرنے کے بعد محمد مصطفی کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے کل 6912 حصے کئے جائیں گے ، ان میں سے بیوہ شاہ جہاں کو 948،بیٹوں (نعیم
سلیم،ندیم،وقار،وسیم)میں سے ہر ایک کو 1008، بیٹی اورشزہ کو 504 ، میت ثانی کے شوہر کو 126، بیٹے عمران ،سلمان میں سے ہر ایک کو 98، اور بیٹی صائمہ ، مہوش میں سے ہر ایک کو 49 حصے دے دئیے جائیں گے ۔
قرآن مجید میں ہے :
فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-
ترجمہ : پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔)
(( پارہ 4، سورہ نساء ،آیت نمبر 12))
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهم ، ترجمہ اور زوجہ کے لئے چوتھا حصہ ہے اولاد کی عدم موجودگی میں اور اولاد کے ساتھ آٹھواں ۔
((…’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6 ،صفحہ 450۔))
قرآن مجید میں ہے:
فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-
ترجمہ : پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے ۔(یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو انہوں نے کی ہو اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے) ۔
(پارہ 4، سورہ نساء،آیت12)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وأما الربع ،،،، فرض الزوج إذا كان للميت ولد۔
ترجمہ : اور بہرحال شوہر کا چوتھا حصہ ہے جب میت کے لئے اولاد ہو ۔
( الفتاوی الہندیہ، کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6، صفحہ 450، دار الکتب العلمیہ،بیروت)
قرآن مجید میں ہے:
وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-
ترجمہ:اوراگر میت کی اولاد ہوتو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا ۔
( پارہ 4، سورہ نساء،آیت نمبر 11)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن ۔
ترجمہ: ماں کے لئے تین احوال ہیں : (میت کی)اولاد یا بیٹے کی اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ ہے ۔
( الفتاوی الہندیہ، کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6،صفحہ449، دار الکتب العلمیہ،بیروت)
قرآن مجید میں ہے :
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-
ترجمہ :بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ۔
(( پارہ 4، سورہ نساء ، آیت نمبر 11))
فتاوی ہندیہ میں ہے :
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين،
ترجمہ : اور جب بیٹے اور بیٹیاں آپس میں مل جائیں تو بیٹے بیٹیوں کو عصبہ بنا دیتے ہیں ، تو ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا ۔
((’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449،))
فتاوی ہندیہ میں ہے :
وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال۔
ترجمہ : وہ یعنی عصبہ ہر وہ فرد ہے جس کے لئے کوئی حصہ بیان نہیں کیا گیا اور یہ ذوی الفروض سے جو کچھ بچے گا وہ لے لے گا اور جب اکیلا ہو تو تمام مال لے لے گا ۔
((الفتاوی الھندیہ، الباب الثالث فی العصبات،جزء 6،صفحہ نمبر 500، دار الکتب العلمیہ،بیروت))
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وهو أن يموت بعض الورثة قبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي،
اور مناسخہ یہ ہے کہ ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے ہی بعض ورثہ کا انتقال ہو جانا ،اسی طرح محیط سرخسی میں ہے ۔
( الفتاوی الھندیہ ،کتاب الفرائض ،الباب الخامس عشر فی المناسخہ ، جلد 6، صفحہ 470، دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
میت محمد مصطفیٰ
مسئلہ از:8×12=96×72=6912
م__________یت
بیوہ(شاہ جہاں) 5بیٹے(نعیم
سلیم،ندیم،وقار،وسیم)2 بیٹیاں ، صابرہ،اورشزہ
۔1/8۔ عصبہ۔ عصبہ (کل حصے 12)
۔1 ( 7 )
۔1×12=12۔ 7×12=84
۔۔ لکل14۔ لکل7
۔ 12×72=864 14×72=1008۔ 7×72=504
۔864۔ لکل1008۔ 504
۔ 864+84= 948
میت ثانی ما فی الید 7
مسئلہ از: 12×6=72
م_________یت
شوہر(اسرار) ماں(شاہ جہاں) 2بیٹے(عمران،سلمان) 2 بیٹیاں(صائمہ،مہوش)
۔1/4۔ 1/6۔ عصبہ۔ عصبہ۔ ( کل حصے6)
۔3۔ 2۔ (۔ 7 )
۔3×6=18۔ 2×6=12۔ 7×6=42
۔۔ 18۔ 12۔ لکل 14۔ لکل7
۔۔18×7 = 126 ، 12×7=84، 14×7=98، 7×7=49
۔126۔ 84۔ لکل 98۔ لکل 49
الاحیاء ___المبلغ___6912
شاہ جہاں، نعیم، سلیم،ندیم،وقار،وسیم،اورشزہ،اسرار علی ، عمران ،سلمان،صائمہ،مہوش
۔948، 1008,1008,1008,1008,1008، 504، 126، 98,98، 49,49
واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ارشاد حسین عفی عنہ
12/01/2023