ٹانگ سے معذور شخص پر حج کرنے کا حکم

ٹانگ سے معذور شخص پر حج کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید میں حج کے تمام شرائط موجود ہیں مگر وہ لنگڑا ہے ، کیا اس پر حج کرنا فرض ہے؟ (عمران عطاری ، یوپی )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

حج کے فرض ہونے کے شرائط میں ایک شرط تندرست ہونا ہے اور لنگڑے میں یہ شرط نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ خود بخود حج ادا کرنے پر قادر نہیں ہوتا، اگر اس پر حج فرض ہوگا تو وہ حرج میں پڑھ جائے گا ، اس لیے اس پر حج کرنا فرض نہیں ۔

نوٹ:

ایک پاوں کٹا ہو یا دونوں پاوں کٹے ہوں دونوں صورتوں میں یہی حکم ہوگا۔

لنگڑے شخص کے حج کے متعلق علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات:970ھ) فرماتے ہیں: ”لا يجب أداء الحج على مقعد ولا على زمن ولا مفلوج ولا مقطوع الرجلين ولا على المريض. “ ترجمہ : لُنجے ، لنگڑے، اور فالج زدہ شخص اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے شخص پر حج ادا کرنا فرض نہیں، اور نہ ہی مریض پر فرض ہے۔

(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحج، جلد2، صفحہ545، مطبوعہ زکریا بکڈیپو ،انڈیا)

مقطوع الرجلین (جس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہوں)کے تحت علامہ ابن عابدین شامی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات:1252) فرماتے ہیں: ” الظاهر أن مقطوع الرجل الواحدة ومقطوع اليدين كذلك لظهور الحرج عليهما إن وقع التكليف للحج بأنفسهما ثم رأيت الكرماني نص على مقطوع اليدين أيضاً فمقطوع الرجل الواحدة بالأولى. كذا في شرح اللباب لمنلا علي القاري. ” ترجمہ: ظاہر یہ ہے ایک پاؤں کٹا ہوا شخص اور جس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہوں ان کا بھی حکم یہی ہوگا(ان پر حج فرض نہیں ہوگا) کیوں اگر دونوں حج کی تکلیف اٹھائیں گے تو ان دونوں پر حرج واقع ہوگا، پھر میں نے علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ آپ نے صراحت فرمائی ہے کہ جس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہوں اس یہی حکم ہے تو جس کے ایک پاؤں کٹے ہوئے ہوں اس پر بدرجہ اولیٰ حج فرض نہیں ہوگا۔

(منحة الخالق حاشیۃ علی البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحج، جلد2، صفحہ545، مطبوعہ زکریا بکڈیپو ،انڈیا)

فقہِ حنفی کا مشہور انسائیکلوپیڈیا بنام فتاوی ہندیہ میں حج کے فرض ہونے کے شرائط میں ہے: ”منھا سلامة البدن حتى أن المقعد والزمن

والمفلوج ومقطوع الرّجلين لا يجب عليهم.“ ترجمہ: (حج کے شرائط میں سے) بدن کا سلامت ہونا ہے، یہاں تک کہ لُنجے ، لنگڑے، اور فالج زدہ شخص اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے شخص پر حج فرض نہیں۔

(فتاوی ہندیہ، کتاب المناسک، جلد1، صفحہ241، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

حج فرض ہونے کے شرائط کے تحت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات:1369ھ) فرماتے ہیں: ” تندرست ہو کہ حج کو جاسکے، اعضاسلامت ہوں ، انکھیارا ہو، اپاہج اور فالج والے اور جس کے پاؤں کٹے ہوں اور بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں ۔ یوہیں اندھے پر بھی واجب نہیں اگرچہ ہاتھ پکڑکر لے چلنے والااُسے ملے۔ ان سب پر یہ بھی واجب نہیں کہ کسی کوبھیج کر اپنی طرف سے حج کرا دیں یا وصیت کر جائیں اور اگر تکلیف اُٹھا کر حج کرلیا تو صحیح ہو گیا اور حجۃالاسلام ادا ہوا یعنی اس کے بعد اگر اعضا درست ہوگئے تو اب دوبارہ حج فرض نہ ہوگا وہی پہلا حج کافی ہے“۔

(بہار شریعت، حج کا بیان، جلد1، حصہ6، صفحہ1039، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ دہلی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو حامد عمران رضا عطاری

27 جمادی الاولی 1444 ھ/24دسمبر2022 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں