بد عقیدہ شخص کا خود کو سنی ظاہر کرکے سنی عورت سے نکاح کرنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعا بدعقیدہ سے نکاح کرنا ناجائز ہے، اب اگر ایک گمراہ شخص خود کو سنی کہہ کر اہل سنت کی کسی لڑکی سے نکاح کرلے اور نکاح کے بعد پتہ چلے کہ اس نے جھوٹ بولا تھا، یہ سنی نہیں، تو نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوال میں پوچھی گئی صورت میں ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا وہ باطل ہے۔
سیدی امام اہلسنت فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے سوال کے متعلق جواب دیتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں:
”جبکہ ہندہ عاقلہ بالغہ تھی اورنکاح اس کے اذن سے واقع ہوا تو حقیقۃً وہ ہندہ کا خود اپنا نکاح کرنا تھا کہ بالغہ پر سے ولایت منقطع اور فعل وکیل فعل مؤکل ہے خصوصا نکاح میں کہ یہاں تووکیل سفیر ومعبر محض ہوتا ہے اور تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ زید ولی ہندہ کو اس وقت تک عمرو کا رافضی ہونا معلوم نہ تھا عمرو نے براہ فریب اسے مغالطہ دیااور وہ اسے سنی سمجھ کر نکاح پر راضی ہوا تو حاصل ا س صورت کا یہ ٹھہرا کہ عورت نے اپنا نکاح غیر کفو سے کیا اور ولی کو پیش از نکاح اس کے غیر کفو ورافضی ہونے پر اطلاع نہ تھی، ایسی صورت میں ظاہر الروایۃ تو یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی دونوں کو اس نکاح کے فسخ کرانے کا اختیا رہے۔
درمختار میں ہے:
تزوجتہ علی انہ سنی فبان بخلافہ کان لھا الخیار فلیحفظ ،انتھی ملخصاً۔
عورت نے سنی ہونے کی وجہ سے نکاح کیا اور اس کے خلاف پایا تو اسے فسخ کا اختیار ہے اسے محفوظ کرلو انتہی ملخصا
اسی میں ہے:
اذا شرطوا الکفاءۃ اواخبرھم بھا وقت العقد فزوجھا علی ذلک ثم ظھر انہ غیر کفو کان لھم الخیار ولو لوالجیۃ فلیحفظ
اگر کفو ہونے کی شرط پرولیوں نے نکاح دیا یا نکاح کے وقت انھیں کفو کی خبر دی گئی تواس بناپر انھوں نے نکاح کردیا، پھر ظاہر ہواکہ وہ ایسا نہیں یعنی غیر کفو ہے تو اولیاء کو فسخ کااختیار ہے، ولوالجیہ، اسے محفوظ کرلو۔
مگر روایت صحیحہ ومفتی بہاپر نکاح اصلا نہ ہوا، فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی بکر بالغۃ زوجھا اخوھا من غیر کفو باذنھا اجاب تزویجہ لھا باذنھا کتزوجھا بنفسھا وھی مسئلۃ من نکحت غیر کفو بلارضا اولیائھا افتی کثیر بعدم انعقادہ اصلا وھی روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ ففی المعراج معزیا الی قاضی خاں وغیرہ والمختار للفتوی فی زماننا روایۃ الحسن ملخصا
باکرہ بالغہ کا اس کے بھائی نے غیر کفو میں نکاح کردیا جبکہ لڑکی نے اجازت دی ہو، سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا کہ لڑکی کی اجازت سے نکاح ایسے ہے جیسے لڑکی نے خود نکاح کیا ہو، یہ مسئلہ لڑکی کا خود غیر کفو میں اپنے اولیاء کی رضا کے بغیر نکاح کرنے کا ہے ، بہت فقہاء نے اس نکاح کے اصلا منعقد نہ ہونے پر فتوی دیا ہے، اور یہ امام حسن کی امام ابوحنیفہ سے روایت ہے، تو معراج میں اس کو قاضی خاں وغیرہ کی طرف سے منسوب کرکے کہا کہ ہمارے زمانے میں فتوی کے لئے یہی مختار ہے جو امام حسن نے روایت کی ہے۔ ملخصا
درمختار میں ہے:
ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلا تحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ
غیر کفو میں اصلا جائز نہ ہونے کا فتوی دیا جائے گا، فساد زمان کی وجہ سے فتوی کے لئے یہی مختارہے، لہذا مطلقہ ثلاثہ نے اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرلیا تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو اور وہ اس نکاح ثانی پر راضی نہ ہوا ہو، اس کو محفوظ کرلو۔
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بلارضی نفی منصب علی المقید الذی ھو رضی الولی والقید الذی ھو بعد معرفتہ ایاہ فیصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ وبعدمھا وبوجود الرضی مع عدم المعرفۃ ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیرالکفو مع علمہ بانہ کذلک
ماتن کا قول بغیررضا یہ مقید کی نفی ہے اور وہ ولی کی رضا ہے اور اس کی قید_ جبکہ ولی کو شوہر ثانی کے غیر کفو ہونے کا علم ہو_ ہے تو اس کا مصداق یہ تمام صورتیں ہوں گی، غیر کفو ہونے کے علم کے بعد رضا نہ ہو، یا علم غیر کفو او ر رضادونوں نہ ہوں، یا رضا ہو مگر غیر کفو کا علم نہ ہو، تو ان تینوں صورتوں میں وہ حلال نہ ہوگی، صرف ایک چوتھی صورت حلال ہوگی کہ غیر کفو ہونے کا علم ہونے کے باوجود رضا ہو۔
پس صورت مستفسرہ میں حکم یہ ہے کہ عمرو وہندہ کا نکاح اصلا منعقد نہ ہوا، نہ وہ اس کا شوہر ہے نہ یہ اس کی زوجہ، نہ اسے اس کے یہاں بھیجنا یا جانا روا، نہ اس کو اس پر کسی قسم کا اختیار یا دعوی، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔“((فتاویٰ رضویہ جلد 11 صفحہ 698 رضا فاؤنڈیشن لاہور))
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
28/12/2022