سرکاری جنگل سے پتھر اٹھا کر مکان بنانا اور پتھر بیچنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیا گورنمٹ کےجنگل سے پتھر اٹھا کر مکان بنانا اور پتھر بیچنا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب الھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر پہاڑ کے پتھر ہیں تو اٹھانا اور مکان میں لگانا یا بیچنا جائز ہے۔کیونکہ پہاڑ وغیرہ کے پتھر کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ہاں اگر حکومت کی طرف سے سختی ہو اور پکڑے جانے کا خطرہ ہو تو اپنی عزت بچاناچونکہ ضروری ہے اس لیے غیر قانونی کام نہیں کیاجائے گا۔ اگر وہ پتھر حکومت نے خود خرید کر کوئی تعمیروغیرہ کرنے کے لیے رکھے ہیں تو یوں اٹھانا اور آگے بیچنا جائز نہیں کہ یہ کسی کی ملکیت میں تصرف کرنا ہے اور ایک ناجائز کام کے ساتھ ساتھ عرفا چوری بھی ہے جس پر پکڑے جانے کی صورت میں ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بخاری شریف میں ہے:
عن الزبير بن العوام رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لأن يأخذ أحدكم حبله، فيأتي بحزمة الحطب على ظهره فيبيعها، فيكف الله بها وجهه، خير له من أن يسأل الناس، أعطوه أو منعوه.ترجمہ: روایت ہے حضرت زبیر ابن عوام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے پھر اپنی پیٹھ پرلکڑیوں کا گٹھا لادے اسے بیچے جس سے ﷲ اس کی عزت بچائے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگے لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔
(بخاری شریف،کتاب الزکوۃ،با ب استعفاف عن المسئلہ،2/123،حدیث:1471)
مفتی احمد یارخان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
اس حدیث سے اشارۃً یہ معلوم ہوا کہ جنگل کے خودرو درخت مباح ہیں ان پر جو قبضہ کرکے کاٹ لے وہ اس کا مالک ہوجائے گا جیسے جنگلی شکاریا عام کنوؤں کا پانی کیونکہ اگر یہ لکڑی کاٹنے والا اس کا مالک نہ ہوتا تو اس کا بپچنا جائز کیونکر ہوتا اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو خیر کیوں فرماتے۔(مراۃ المناجیح،کتاب الزکوۃ،جلد3،حدیث:1841،دعوت اسلامی ایپ)
در مختار میں ہے:
لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته
ترجمہ:کسی کے مال میں اسکی اجازت اور ولایت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ۔
(( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،کتاب الغصب،صفحہ 617)) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں خرید و فروخت کی شرائط بیان کرتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں:
مبیع کا موجود ہونا مال متقوم ہونا ۔مملوک ہونا۔۔۔۔ ضرورہے اور اگر بائع اُس چیز کو اپنے لیے بیچتا ہو تو اُس چیز کا ملک بائع میں ہونا ضرور ی ہے۔
((بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 11، صفحہ621 ،مکتبۃ المدینہ کراچی))
فتاوی رضویہ میں ہے:
” ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہے ، اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔” (فتاویٰ رضویہ ، جلد 20 ، صفحہ 192 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
27/12/2022