نقد میں چیز کم قیمت اورادھار میں زائد قیمت پربیچنا

نقد میں چیز کم قیمت اورادھار میں زائد قیمت پربیچنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر سے ایک پروڈکٹ خریدنی ہے، اور صورتِ عقد یہ ہے کہ اگر زید فی الفور پروڈکٹ کی مکمل قیمت ادا کرتا ہے تو اسے یہ پروڈکٹ 1 یورو کی ملے گی، اور اگر پروڈکٹ کی قیمت 30 دن بعد ادا کرتا ہے تو 1.5 یورو کی ملے گی اور اگر پروڈکٹ کی قیمت 90 دن بعد ادا کرتا ہے تو 2 یورو کی ملے گی۔ کیا یوں یہ زید اور بکر اس پروڈکٹ کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ نوٹ: یہ صورت کنٹریکٹ میں نہیں لکھی ہوئی ہوتی بلکہ پیمنٹ سکیل لگا ہوا ہوتا ہے، اس میں سے خریدار نے اپنا آپشن منتخب کرنا ہوتا ہے۔ اس اسکیل میں مدت اور قیمت درج ہوتی ہے۔ جیسے: کیش- 1 یورو / 30 دن -1.5 یورو / 90 دن – 2 یورو۔ جو آپشن منتخب کرے گا اسی کے مطابق ادائیگی کی مدت اور رقم کا تعین ہوگا۔ سائل: انس عطاری (بارسلونا)

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هدایة الحق والصواب

مذکورہ صورت میں پیمنٹ اسکیل PAYMENT SCALE کے ذریعے مدت و رقم کا تعین کرنا درست ہے، اور یوں معاہدہ طے کرنے سے خرید و فروخت میں حرج نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زید اپنی اس پروڈکٹ کا مالک ہے وہ چاہے تو 1 یورو کی بیچے یا 2 یورو کی، اب جب کہ اس معاہدے کے وقت ہی قیمت طے ہو رہی ہے کہ اگر خریدار فی الفور کیش میں قیمت ادا کر رہا ہے تو زید اسے اپنی پروڈکٹ 1 یورو کی بیچ رہا ہے اور یوں ہی جب خریدار 1 ماہ بعد قیمت ادا کرنے کا وعدہ کر رہا ہے تو زید اسے اپنی پروڈکٹ 1.5 یورو کی بیچ رہا ہےتو اس میں سود و جوئے یا کوئی حرام صورت نہیں بلکہ تراضی طرفین پائے جانے کے باعث خرید و فروخت منعقد ہو رہی ہے۔ نیز زید جو کہ اس پروڈکٹ کا مالک ہے اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ جتنے کی چاہے اپنی پروڈکٹ بیچ سکتا ہے اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ وہ نقدی بیچے یا ادھار پر۔

البتہ اس میں یہ خیال رہے کہ خریدار اگر قیمت ادا کرنے میں مدتِ معینہ سے تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے تو معاہدے میں اس پر جرمانہ وغیرہ نہ لگایا گیا ہو، کیونکہ اسلام میں تعذیر بالمال منسوخ ہو چکی ہے اور اس جرمانے کی شرط لگانے سے یہ معاہدہ فاسد ہو جائے گا۔

چنانچہ قرآن کریم میں الله پاک کا ارشاد ہے:﴿وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔

(سورة البقرة 2، آیت نمبر 232)

شمس الائمہ علامہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفى:483ھ) فرماتے ہیں:”وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد“ ترجمہ: اور جب عقد کیا اس شرط پر کہ یہ ادھار پر اتنی چیز اتنے کی اور نقدی پر اتنے کی، یا کہا کہ ایک ماہ تک ادھار پر یہ اتنے کی یا دو ماہ کے ادھار پر یہ اتنے کی تو یہ بیع فاسد ہے۔ اس لیے کہ کوئی خاص قیمتِ معلومہ طے نہیں ہوئی اور اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بیع میں دو شرطیں کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہی ایک بیع میں دو شرطیں کرنے کی تفسیر ہے، اور مطلق نہی عقود شرعیہ میں فسادِ عقد کا باعث بنتی ہے۔ البتہ یہ حکم تب ہے جب وہ دونوں اسی بات پر جدا ہو جائیں، چونکہ اگر دونوں عاقدین کے مابین اس پر رضا مندی ہوجاتی ہے اور دونوں قیمتِ معلومہ طے کر کے ہی جدا ہوتے ہیں اور دونوں اسی پر عقد تمام کرتے ہیں تو یہ جائز ہے، کیونکہ عاقدین صحتِ عقد کی شرط کو پورا کرنے کے بعد ہی جدا ہوئے۔

(المبسوط للسرخسی، کتاب البیوع، جلد 13، صفحہ 7، مطبوعہ: دار المعرفة بيروت)

علامہ علاء الدين أبو بكر بن مسعود الكاسانی الحنفی (المتوفى: 587ھ) فرماتے ہیں: ”وكذا إذا قال: ‌بعتك ‌هذا ‌العبد بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين؛ لأن الثمن مجهول، … فإذا علم ورضي به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد“ ترجمہ: اور یوں ہی جب یہ کہا کہ میں نے تمہیں یہ غلام ایک سال کے ادھار پر ہزار درہم کا بیچا یا دو سال کے ادھار پر 1500 درھم کا بیچا کیونکہ ثمن مجہول ہے۔ … لیکن جب مدت و ثمن کا علم ہو گیا اور وہ اس پر راضی ہے تو بیع جائز ہے کیونکہ جواز بیع کے مانع چیز جو کہ وقتِ عقد جہالتِ ثمن تھی وہ مجلس ہی میں زائل ہو گئی۔ اور اس کے لیے حالتِ عقد ہی کا حکم ہوگا لہذا وہ یوں ہی ہو گیا گویا کہ وہ عقد کرتے وقت ہی معلوم ہو، اور اگر ثمن کاعلم نہ ہوا یہاں تک کہ عاقدین جدا ہو گئے تو فسادِ عقد کا حکم لوٹ آئے گا۔

(البدائع الصنائع، کتاب البیوع، جلد نمبر 5، صفحه نمبر 158، مطبوعه دار الكتب العلمية)

والله اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی الله تعالی علیه واله وسلم

کتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه

احمدرضا عطاری حنفی عفی عنہ

27 جمادی الاول 1444ھ/ 22 دسمبر 2022ء

اپنا تبصرہ بھیجیں