نماز کا وقت کم رہ جانے کی وجہ سے جنبی کا غسل کیے بغیر فقط وضو کرکے نماز پڑھنےکاحکم
سوال: کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کسی کو احتلام ہو جائے اور فجر کی نماز یا کسی اور نماز کا ٹائم تھوڑا رہتا ہو کہ غسل کرنے کی صورت میں وقت نکل جائے گا تو کیا وضو کر کے نماز پڑھیں، یا پھر بعد میں قضا پڑھیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص تیمم کر کے وقت پر نماز پڑھے پھر بعد میں غسل کر کے دوبارہ نماز پڑھنا لازمی ہے۔ نیز یہاں غسل سے مراد فقط غسل کے تین قرض ہیں، صابن وغیرہ اہتمام کے ساتھ غسل کرنا یہاں مراد نہیں۔یعنی فقط کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور ایک مرتبہ پورے جسم پر پانی بہانے کے بعد فرض نماز کا بھی وقت نہ ہو تب تیمم کی گنجائش ہے، اور جب معلوم ہو کہ بغیر اہتمام کے جلدی جلدی فرض غسل کر کے فرض نماز پوری ہو سکتی ہے تو اب لازم ہے کہ بغیر صابن وغیرہ کے غسل کر کے نماز پڑھے ورنہ گنہگار ہو گا۔
در مختار میں ہے
”(لا) يتيمم (لفوت جمعة ووقت) ولو وترا لفواتها إلى بدل، وقيل يتيمم لفوات الوقت. قال الحلبي: فالأحوط أن يتيمم ويصلي ثم يعيده“
یعنی جمعہ یا وقتی نماز کے فوت ہونے کے خوف سے تیمم نہ کرے، اگرچہ وتر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اگر یہ فوت ہو جائیں تو ان کا بدل موجود ہے اور کہا گیا ہے کہ وقتی نماز کے فوت ہونے کے خوف سے بھی تیمم کیا جائے گا، اور امام حلبی نے فرمایا کہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ تیمم کر کے نماز پڑھے پھر اعادہ کرے۔
اس عبارت کے تحت علامہ شامی، علامی برہان حلبی کی شرح منیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں
” حاصله: ولعل هذا من هؤلاء المشايخ اختيار لقول زفر لقوة دليله، وهو أن التيمم إنما شرع للحاجة إلى أداء الصلاة في الوقت فيتيمم عند خوف فوته“
یعنی گفتگو کا ماحاصل یہ ہے کہ مشائخ کرام نے امام زفر کی دلیل کے قوی ہونے کی وجہ سے اختیار فرمایا اور وہ دلیل یہ کہ تیمم کو حاجت کے پیش نظر وقت میں نماز ادا کرنے کے لیے مشروع کیا گیا، پس نماز فوت ہونے کے خوف سے تیمم کیا جائے گا۔
تفصیلی گفتگو کے بعد علامہ شامی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں
”قلت: وهذا قول متوسط بين القولين، وفيه الخروج عن العهدة بيقين فلذا أقره الشارح، ثم رأيته منقولا في التتارخانية عن أبي نصر بن سلام وهو من كبار الأئمة الحنفية قطعا، فينبغي العمل به احتياطا ولا سيما وكلام ابن الهمام يميل إلى ترجيح قول زفر كما علمته، بل قد علمت من كلام القنية أنه رواية عن مشايخنا الثلاثة “
یعنی علامہ حلبی والا قول ہی متوسط راہ ہے، کیونکہ اس میں بالیقین آدمی اپنے فریضہ نماز کے ذمہ سے بری ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے شارح (صاحب در مختار) نے اس قول کو برقرار رکھا، اور میں نے تاتارخانیہ میں دیکھا ، احناف کے بہت بڑے فقیہ امام ابو نصر بن سلام سے بھی یہی قول منقول ہے، لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس قول پر عمل کیا جائے بالخصوص جبکہ امام ابن ہمام جیسے امام بھی اسی امام زفر و حلبی والے قول کی طرف مائل ہیں جیسا آپ نے جانا، بلکہ قنیہ میں ہے کہ ہمارے آئمہ ثلاثہ کی بھی ایک روایت یہی ہے۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ، کتاب الصلاۃ ، باب التیمم ، سنن التیمم,1/246)
فتاوی رضویہ شریف میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں :
” تیمم کرکے نماز وقت میں پڑھ لے بعد کو نہا کر اعادہ کرے بہ یفتی (اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے۔)“(فتاوی رضویہ ، جلد 3 ، صفحہ 310 ، رضافاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور مقام پر ہے :
” جبکہ نماز کا وقت تنگ ہو نجاست دھو کر تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر نہا کر بعد بلند آفتاب اُس کا اعادہ کرے۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 3 ، صفحہ 307 ، رضافاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے :
” وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ وُضو یا غُسل کرے گا تو نماز قضا ہو جائے گی تو چاہیے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر وُضو یا غُسل کر کے اعادہ کرنا لازم ہے۔“(بہارشریعت ، تیمم کے مسائل، جلد 1 ، حصہ 2 ، صفحہ 355 ، مکتبۃالمدینہ کراچی)
فتاوی فیض رسول میں ہے :
”یہ اس صورت میں ہے جب کہ کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور سارے بدن پر پانی بہانے کے بعد دو رکعت فرض پڑھنے بھر کا بھی وقت نہیں ہے اور اگر اتنا وقت ہے لیکن صابن وغیرہ لگا کر اہتمام سے نہانے بھر کا وقت نہیں ہے تو فرض ہے کہ صابن وغیرہ کے بغیر غسل کے نماز پڑھے. اس صورت میں اگر تیمم کر کے نماز پڑھی تو سخت گناہ گار ہوگا۔“(فتاوی فیض رسول ، جلد1 ، صفحہ 171 ، شبیر برادرز)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی
( مورخہ 23 دسمبر 2022، بمطابق 28 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز جمعۃ المبارک )