ڈلیوری کا خرچہ کس پرلازم ہے
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ڈلیوری کا خرچہ کس پر لازم ہے؟ ہمارے یہاں یہ طریقہ رائج ہے کہ پہلے بچہ کی باری میکے والے سارا خرچہ اٹھاتے ہیں اور بقیہ بچوں کا خرچہ شوہر پر ہوتا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بچے کی پیدائش کا خرچ اس پر لازم ہے جس نے پیدائش کے معاملات( یعنی ہاسپٹل لے جانے آنے کا خرچ ڈاکٹرز وغیرہ کی فیس وغیرہ) سنبھالے ہوں (چاہے بچہ پہلا ہو یا دوسرا یا تیسرا ) شوہر پر خرچہ تب لازم ہے جبکہ شوہر نے ڈلیوری کے تمام اخراجات کا انتظام کیا ہو اور اگر شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی نے انتظامات کیے تو خرچہ بیوی پر لازم ہو گا اور اگر بغیر کسی کے انتظامات کیے ڈلیوری ہوئی تو راجح یہی ہے کہ خرچہ شوہر کے ذمہ ہو گا ۔
اور سوال میں پوچھی گئی صورت میں پہلی بار کا خرچہ میکے والوں پر ہی لازم ہو گا کیونکہ وہ خود یہ انتظامات اپنے اوپر لیتے ہیں ۔ البتہ مستحب ہے کہ ہر حال میں خرچہ شوہر ہی کرے کیونکہ یہ جماع کا شکرانہ ہے۔
در مختار میں ہے:
”وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، قيل: عليه، و قيل: عليها“
ترجمہ: اور اس میں دائی کی اجرت اس پر ہے جس نے دائی کو اجارے پر بلایا شوہر اور بیوی میں سے اور اگر دائی بغیر اجارہ کیے آئی تو کہا گیا کہ مرد پر خرچ لازم ہو گا اور ایک قول یہ کیا گیا کہ بیوی پر لازم ہو گا۔
اسکے تحت شامی میں ہے:
”(قوله: قيل: عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول: عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول: عليها كأجرة الطبيب وكذا ذكر غيره، ۔۔۔۔ ويظهر لي ترجيح الأول لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل. ملتقطا“
ترجمہ:ماتن کا قول کہا گیا کہ مرد پر خرچہ لازم ہو گاالخ بحر کی عبارت خلاصہ سے: کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مرد پر خرچ لازم ہو کیونکہ یہ جماع کا شکرانہ ہے اور کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ عورت پر لازم ہو جیسے طبیب کہ اجرت عورت پر لازم ہوتی ہے۔ اور ایسے ہی اسکے علاوہ نے بھی ذکر کیا۔۔۔۔اور میرے لیے پہلے قول کی ترجیح ظاہر ہوئی کیونکہ دائی کا نفع بڑا ہے جو بچے کی طرف لوٹے گا تو اس کا خرچہ باپ پر ہو گا۔(ردالمحتار علی الدر المختار ،باب النفقة،مَطْلَبٌ لَا تَجِبُ عَلَى الْأَبِ نَفَقَةُ زَوْجَةِ ابْنِهِ الصَّغِيرِجلد3،صفحہ579-580،دار الفكربيروت)
ہندیہ میں ہے:
”وَأُجْرَةُ الْقَابِلَةِ عَلَيْهَا حِينَ اسْتَأْجَرَتْهَا، وَلَوْ اسْتَأْجَرَهَا الزَّوْجُ، فَعَلَيْهِ، وَإِنْ حَضَرَ بِلَا إجَارَةٍ فَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ: عَلَى الزَّوْجِ؛ لِأَنَّهُ مُؤْنَةُ الْوَطْءِ وَجُوِّزَ أَنْ يُقَالَ: عَلَيْهَا كَأُجْرَةِ الطَّبِيبِ كَذَا فِي الْوَجِيزِ لِلْكَرْدَرِيِّ“
ترجمہ:اور دائی کی اجرت عورت پر لازم ہے جبکہ عورت دائی کا اجارہ کرے اور اگر دائی کا اجارہ شوہر نے کیا تو شوہر پر اسکی اجرت لازم ہے اور اگر دائی بغیر اجارے کے حاضر ہوئی تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مرد پر خرچ لازم ہو کیونکہ یہ جماع کا شکرانہ ہے اور کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ عورت پر لازم ہو جیسے طبیب کہ اجرت عورت پر لازم ہوتی ہے ایسے ہی امام کردری کی وجیر میں ہے۔(الفتاوى الهندية،الْبَابُ السَّابِعُ عَشَرَ فِي النَّفَقَاتِ وَفِيهِ سِتَّةُ فُصُولٍ،الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ،جلد1، صفحہ539،دارالفکر بیروت)
اسی میں دوسرے مقام پر ہے:
”وَأُجْرَةُ الْقَابِلَةِ عَلَى مَنْ دَعَاهَا مِنْ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ وَلَا يُجْبَرُ الزَّوْجُ عَلَى اسْتِئْجَارِ الْقَابِلَةِ“
ترجمہ:اور دائی کی اجرت اس پر ہے میاں بیوی میں سے جس نے دائی کو بلایا اور شوہر کا اجارہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارۃ،الْبَابُ الثَّانِي وَالثَّلَاثُونَ فِي الْمُتَفَرِّقَاتِ،جلد4،صفحہ527)
البحر الرائق میں ہے:
”وَأُجْرَةُ الْقَابِلَةِ عَلَى مَنْ اسْتَأْجَرَهَا مِنْ الزَّوْجَةِ وَالزَّوْجِ فَإِنْ جَاءَتْ بِغَيْرِ اسْتِئْجَارٍ فَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ مُؤْنَةُ الْجِمَاعِ وَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيْهَا كَأُجْرَةِ الطَّبِيبِ“
ترجمہ:دائی کی اجرت اس پر ہے شوہر اور بیوی میں سے جس نے دائی کو اجارے پر بلایا اور اگر دائی بغیر اجارہ کیے آئی تو کہا گیا کہ شوہر پر خرچ لازم ہو گا کیونکہ یہ جماع کا شکرانہ ہے اور ایک قول یہ کیا گیا کہ بیوی پر لازم ہو گا جیسے طبیب کی اجرت بیوی پر لازم ہوتی۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،باب النفقۃ،الزوجیہ،اسباب وجوب النفقۃ،جلد4،صفحہ192دارالفکربیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”بچہ پیدا ہو تو جنائی کی اُجرت شوہر پر ہے اگر شوہر نے بُلایا۔ اور عورت پر ہے اگر عورت نے بلوایا۔ اور اگر وہ خود بغیر ان دونوں میں کسی کے بُلائے آجائے تو ظاہر یہ ہے کہ شوہر پر ہے۔“(بہار شریعت،نفقہ کا بیان،جلد2،حصہ8،صفحہ208 مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
20/12/2022