مناسخہ

مناسخہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد رمضان نے (رشیدہ بی بی سے)شادی کی، جس سے فقط ایک بیٹی(شہناز بی بی ) پیدا ہوئی ۔تقریباً بارہ سال بعد دوسری شادی(سکینہ بی بی کے ساتھ)کی،جس سے سات بیٹے (یسین، سلیم، شعبان، عمران، کامران، فرقان، عرفان) اور دو بیٹیاں(طاہرہ ،نسیم)پیداہوئیں۔محمد رمضان فوت ہوگئے ۔ان کے وارثوں میں ایک بیوی چھ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں جبکہ پہلی بیوی(رشیدہ بی بی) اور بڑا بیٹا (یسین)ان کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھےنیز ان کے والدین ،دادا ،دادی اور نانی بھی ان کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔ابھی محمد رمضان کی وراثت تقسیم نہ ہوئی تھی کہ ان کی بیوی (سکینہ بی بی) بھی فوت ہوگئی ۔ان کے وارث بھی وہی تھے جو محمد رمضان کے وارث تھے ۔ان کے بھی ماں ،باپ ،دادا ،دادی ،نانی ان کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔نیز ان کی تجہیز وتکفین کا خرچہ میکے والوں نے ذاتی رقم سے کیا اورواپس لینے کا ارادہ نہیں تھا۔سوال یہ ہے کہ ان کی وراثت میں کون کون حق دار ہے اور کس وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟ جو بیٹازندگی میں ہی فوت ہوگیا اس کی بیوی ،بچے موجود ہیں ۔کیا ان کو حصہ ملے گا؟اس بارے میں رہنمائی فرمادیں ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سوال میں بیان کردہ صورتحال اگر درست ہے تو بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کی ایک تہائی میں سے جائز وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد)محمد رمضان کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے کل 1680 حصے کریں ، جن میں سے (سلیم، شعبان، عمران، کامران، فرقان، عرفان)ہر ایک کو 226، شہناز بی بی کو 98 اور جبکہ طاہرہ اور نسیم بی بی میں سے ہر ایک کو 113 حصے دئیے جائیں گے ، اور شہناز بی بی دوسری میت یعنی اپنی سوتیلی ماں کی وراثت میں سے حصہ نہیں پائی گی، کیونکہ شوہر کی اولاد وارث نہیں بنتی ۔

یہ حصے قرآن مجید میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق نکالے گئے ہیں،چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-

ترجمہ : پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔)

( پارہ 4، سورہ نساء ،آیت نمبر 12)

فتاوی ہندیہ میں ہے کہ

وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهم ، ترجمہ اور زوجہ کے چوتھا حصہ اولاد کی عدم موجودگی میں اور اولاد کے ساتھ آٹھواں ۔

(…’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6 ،ص 450۔)

جب بیٹیوں کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو وہ بیٹیوں کو عصبہ بنا دے گا ، اور مال اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی سے دگناہ دیاجائے گا ، قرآن مجید میں ہے کہ:

لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ- ترجمہ :بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ،

( پارہ 4، سورہ نساء ، آیت نمبر 11)

فتاوی ہندیہ میں ہے کہ

وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين،

ترجمہ : اور جب بیٹے اور بیٹیاں آپس میں مل جائیں تو بیٹے بیٹیوں کو عصبہ بنا دیتے ہیں ، تو ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا ،

(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)

فتاوی ہندیہ میں ہے کہ

وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال۔

ترجمہ : وہ یعنی عصبہ ہر وہ فرد ہے جس کے لئے کوئی حصہ بیان نہیں کیا گیا اور یہ ذوی الفروض سے جو کچھ بچے گا وہ لے لے گا اور جب اکیلا ہو تو تمام مال لے لے گا ۔

(الفتاوی الھندیہ، الباب الثالث فی العصبات،جزء 6،صفحہ نمبر 500)

خلاصۃ المیراث میں مناسخہ کا مسئلہ حل کرنے کا طریقہ ہے کہ

میت اول کا مکمل مسئلہ بنائیں یہ تصحیح اول ہو گی اور اس سے میت ثانی کو ملنے والے سہام کو مافی الید قرار دیں ، پھر میت ثانی کا مکمل مسئلہ بنائیں یہ تصحیح ثانی ہو گی ،

اس کے بعد تصحیح ثانی اور ما فی الید میں نسبت دیکھیں ، اگر دونوں میں تماثل ہو مسئلہ مکمل ہو گیا ، مزید کسی عمل کی حاجت نہیں ۔

اگر دونوں میں تباین ہو تو دونوں کا پورا پورا عدد محفوظ کر لیں اور توافق یا تداخل ہو تو دونوں کا وفق محفوظ کر لیں ،اس طرح دو محفوظ حاصل ہوں گے ، 1- تصحیح ثانی کا محفوظ 2- ما فی الید کا محفوظ ، اب مسئلے کی تکمیل کے لئے دو عمل درکار ہیں ،

پہلا عمل۔ تصحیح ثانی کے محفوظ کو تصحیح اول میں اور اوپر کے زندہ تمام وارثوں کے سہام میں ضرب دیں ۔

دوسرا عمل ۔ ما فی الید کے محفوظ کو میت ثانی کے وارثوں میں ضرب دیں ۔

(خلاصۃ المیراث، صفحہ نمبر 60، مکتبۃ المدینہ کراچی)

میت محمد رمضان

مسئلہ از 8×15=120×14=1680

می____________ت

زوجہ (سکینہ) 6بیٹے(سلیم، شعبان، عمران، کامران، فرقان، عرفان) 3بیٹیاں(شہناز،طاہرہ،نسیم)

1/8۔۔ عصبہ عصبہ (کل عصبہ حصے15)

۔۔ 1×15=15 7×15=105

۔۔ 15۔ (14,14,14,14,14,14)(7,7,7,)

۔(14,14,14,14,14,14)×14=196،196،196, 196، 196 ، 196 (7,7,7,)×14= 98,98,98

میت سکینہ بی بی مافی الید 15

مسئلہ از 14

می__________ت

6بیٹے(سلیم، شعبان، عمران، کامران، فرقان، عرفان)۔ 2 بیٹیاں (طاہرہ، نسیم)

عصبہ۔ عصبہ

۔(2,2,2,2,2,2)۔ ( 1,1)

۔ ( 2,2,2,2,2,2)×15۔ (1,1)×15

۔30, 30,30,30,30,30۔ 15, 15

۔(196,196,196,196,196,196)+30=

۔ 226,226,226,226,226,226

۔ (98,98)+15= 113,113

الأحیاء___المبلغ___1680

سلیم، شعبان، عمران، کامران، فرقان، عرفان،طاہرہ، نسیم ، شہناز

۔226,226,226,226,226,226، 113,113، 98

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

ارشاد حسین عفی عنہ

20/12/2022

اپنا تبصرہ بھیجیں