بڑی عمر میں مسلمان ہوا تو ختنہ کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ بڑی عمر میں اسلام قبول کرے تو اس کے ختنے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جو بندہ بڑی عمر میں مسلمان ہوااگر طاقت رکھتاہے پھر تو ختنہ کرے کیونکہ حدیث پاک میں اس کا حکم دیا گیا ہے اگر خود کر سکتا ہے خود کرے یا کسی ایسی عورت سے شادی کرے جو ختنہ کر سکتی ہو اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو حجام ختنہ کرے کیونکہ ضرورت کے وقت ستر دیکھا جا سکتا ہے اور اگر ختنے کی طاقت نہ ہو پھر معاف ہے۔
ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی عمر میں اسلام لانے والے سے فرمایا:
”الق عنک شعر الکفر ثم اختتن“
ترجمہ: اپنے کفر کے بال دور کرو اور ختنہ کراؤ ۔(سنن ابی داؤد حدیث ،کتاب الطہارۃ، جلد 1،ص52، آفتاب عالم پریس لاہور)
در مختار میں ہے:
”وقيل في ختان الكبير: إذا أمكنه أن يختن نفسه فعل، وإلا لم يفعل إلا أن لا يمكنه النكاح أو شراء الجارية، والظاهر في الكبير أنه يختن“
ترجمہ:بڑی عمرکے آدمی کے ختنے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ خود اپنا ختنہ کرسکے تو خود کرے ورنہ کیا ہی نہ جائے، ہاں اگر اس کے لئے نکاح کرنا یا لونڈی خریدنا ممکن ہو تو ان سے ختنہ کرائے اور ظاہر یہ ہے کہ بڑے آدمی کا بھی ختنہ کیا جائے۔ (درمختار ، جلد9 ،کتاب الحظروالاباحۃ، باب الاستبراء، ص 631)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”الشیخ الضعیف اذااسلم ولا یطیق الختان ان قال اھل البصر لا یطیق یترک کذا فی الخلاصۃ قیل فی الختان الکبیر اذا امکن ان یختتن نفسہ فعل والا لم یفعل الا ان یمکنہ ان یتزوج او یشتری ختانۃ فتختنہ وذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ الحمامی کذا فی الفتاوی العتابیہ “
ترجمہ:کمزور بوڑھا مسلمان ہوا اور ختنہ کی طاقت نہ رکھے اگر نگاہ والے کہ دیں اس کو طاقت نہیں تو ختنہ چھوڑ دیا جائے گا یہ خلاصہ میں ہے بالغ کے ختنہ میں کہا گیا کہ آپ اپنا ختنہ کر سکے تو کرے ورنہ نہ کرے مگر ہاں کوئی عورت ختنہ کر سکے اور وہ اس سے نکاح پر راضی ہو یا کنیز ہے اور یہ اسے خرید سکے تو ایسا کرے اور امام کرخی نے شرح جامع صغیر میں فرمایا کہ بالغ کا ختنہ بھی نائی کرے یہ فتاوی عتابیہ میں ہے ۔(فتاوی عالمگیری ، جلد5، کتاب الکراہیۃ ،الباب التاسع عشر فی الختان ،ص 357، اسلامی کتب خانہ ،لاہور)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
”اگر ختنہ کی طاقت رکھتا ہو تو ضرور کیا جائےہاں ا گر خود کر سکتا ہو توآپ اپنے ہاتھ سے کرلے یا کوئی عورت جو اس کام کو کرسکتی ہو ممکن ہو تو اس سے نکاح کرادیا جا ئے وہ ختنہ کردے اس کے بعد چاہے تو اسے چھوڑ دے یاکوئی کنیز شرعی واقف ہو تو وہ خریدی جائے۔ اور اگر یہ تینوں صورتیں نہ ہوسکیں تو حجام ختنہ کردے کہ ایسی ضرورت کے لئے ستر دیکھنا دکھانا منع نہیں۔“(فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 593،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
”وکذا المجوسی اذا اسلم وھو شیخ ضعیف اخبر اھل البصر انہ لا یطیق الختان یترک“
ترجمہ:اسی طرح مجوسی جب اسلام لایا حال یہ ہے کہ بوڑھا ہے نگاہ والوں نے خبر دی کہ اسکو ختنہ کی طاقت نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔(فتاوی قاضی خان ، جلد 3 کتاب الحظر والاباحۃ، ص 312،مکتبہ رشیدیہ ، کوئیٹہ)
فتاوی افریقہ میں ہے:
” ایک روایت میں خود اس کے لئے وسعت ہے کہ جوان آدمی آپ اپنا ختنہ کر سکے تو کرے ورنہ ممکن ہو تو ایسی عورت سے نکاح کرے یا ایسی کنیز شرعی خریدے جو ختنہ کر سکے یہ بھی نہ ہو سکے تو اسے ختنہ معاف ہے ۔“(فتاوی افریقہ ، ص 39 شبیر برادرز)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی الله عليه وسلم
ابوبکر نیلمی
19/ 12 /2022