آفاقی کے عمرہ ادا کرنے کا طریقہ

آفاقی کے عمرہ ادا کرنے کا طریقہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید بنارس (ہند)میں رہتا ہے اور وہ عمرہ کرنا چاہتا ہے،ا سکا آسان طریقہ کار بیان فرمادیں۔

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عمرہ کا طریقہ یہ ہے کہ زید نے اگر بنارس سے سیدھا جدہ ایئر پورٹ پر جانا ہے تو گھر سے ہی غسل کرکے احرام باندھ لے اور احرام کے دو نفل بھی پڑھ لے، اس کے بعد جب جہاز میں بیٹھ جائے اور کچھ وقت گزر جائے تو اس وقت زبان سے عمرہ کی نیت کرے اورتلبیہ( لبیک اللھم لبیک۔۔۔) کا ذکر جاری رکھے۔ جب ہوٹل پہنچے تو کچھ آرام کرکے تازہ دم ہوکر غسل کرکے حرم میں آئے اور خانہ کعبہ کو پہلی نظر دیکھ کر دعا کرے کہ اس وقت جو دعا مانگے گا پوری ہوگی۔

پھرطواف شروع کرنے سے قبل اضطباع کرلے یعنی چادر سیدھے ہاتھ کی بغل کے نیچے سے نکال کر اس کے دونوں پلّے الٹے کندھے پر اس طرح ڈالے کہ سیدھا کندھا کھلا رہے۔ اسی حالت میں کعبہ شریف کی طرف منہ کیے حجر اسود کی بائیں طرف اس طرح کھڑا ہو کہ حجر اسود آپ کے سیدھے ہاتھ کی طرف رہے اب طواف کی نیت کرکے کعبہ معظمہ ہی کی طرف منہ کیے سیدھے ہاتھ کی جانب اتنا چلے کہ حجر اسود آپ کے عین سامنے ہو جائے، اب دونوں ہاتھ کانوں تک اس طرح اٹھائے کہ ہتھیلیاں حجر اسود کی طرف رہیں اور پڑھیے بسم الله والحمد لله والله اکبر والصلوٰۃ والسلام علی رسول الله.اب اگر ممکن ہو تو حجر اسود شریف پر دونوں ہتھیلیاں اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ دے کہ آواز پیدا نہ ہو، تین بار ایسا کرے۔ اگر چومنا ممکن نہ ہو تو ہاتھوں کا اشارہ کرکے اپنے ہاتھوں چوم لے۔ اسی چومنے کو ”استلام“ کہتے ہیں۔ اب کعبہ شریف کو اپنے الٹے ہاتھ کی طرف رکھ کر طواف شروع کرے۔ مرد ابتدائی تین پھیروں میں رمل کرتے چلے یعنی ؛ جلد جلد چھوٹے قدم رکھتے، کندھے ہلاتے چلے جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں ،جہاں بھیڑ زیادہ ہو اور اپنے یا دوسروں کو تکلیف کا اندیشہ ہو اتنی دور رمل چھوڑ دے۔ طواف کے دوران درود پاک اور دعائیں کرتے رہے۔ اب رکن یمانی(کعبہ کا یمن والی جانب کا کنارہ) پر آکر دونوں ہاتھوں سے تبرکاً چھوئے، بلکہ موقع ملے تو بوسہ بھی دے، اگر چومنے یا چھونے کا موقع نہ ملے تو اشارہ نہ کرے ۔ اب مستجاب(رکن یمانی اور رکن اسود کے بیچ کی جنوبی دیوار) پر آکردعا کرے۔ یوں چکر لگاتے ہوئے حجر اسود کے قریب پہنچیے گا، یہاں اس کا ایک چکر پورا ہوگا۔ بتائے گئے مذکورہ طریقہ کے مطابق ساتوں پھیریں مکمل کرے۔

یاد رہے رمل صرف شروع کے تین پھیروں میں کرنا ہے بقیہ چار میں نہیں کرنا، ہر مرتبہ استلام اور دعا کرنا ہے۔ حجر اسود پر پہنچ کر آپ کے سات پھیرے مکمل ہوگئے مگر پھر آٹھویں بار پہلے کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر یہ دعا : بسم الله والحمد لله والله اکبر والصلوٰۃ والسلام علی رسول الله.پڑھ کر استلام کرے اور یہ ہمیشہ یاد رہے کہ جب بھی طواف کرے اس میں پھیرے سات ہوتے ہیں اور استلام آٹھ۔

نماز طواف: اب مقام ابراہیم کے قریب یا پھر مسجد حرام میں جہاں جگہ ملے دو رکعت نماز طواف واجب غیر مکروہ وقت میں ادا کرے۔ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو طواف کے فوراً بعد یہ نماز پڑھنا سنت ہے۔ بعد نماز دعا کرے اور پھر ملتزم سے لپٹ جائے۔ (دوازۂ کعبہ اور حجر اسود کے درمیانی حصے کو ملتزم کہتے ہیں) ملتزم سے کبھی سینہ لگائےتو کبھی پیٹ، اس پر کبھی دایاں تو کبھی بایاں رخسار اور دونوں ہاتھ سر سے اونچے کرکے دیوار مقدس پر پھیلائے یا سیدھا ہاتھ دروازۂ کعبہ اور الٹا ہاتھ حجر اسود کی طرف پھیلائے اور رقت و سوز کے ساتھ دعا کرے کہ مقام قبولیت ہے۔اس کے بعدکعبہ کو منہ کرکے دعا کے بعد زمزم شریف کو دیکھ کر کھڑے ہو کرتین سانسوں میں ہر بار بسم الله سے شروع، الحمد پر ختم کرتا خوب پیٹ بھر کر پیے۔ باقی بدن پر ڈال لے۔ پیتے وقت دعا کرے کہ قبول ہے۔

صفا و مروہ کی سعی: اگر کوئی مجبوری یا زیادہ تھکن وغیرہ نہ ہو تو اب سعی کے لیے حجر اسود کو چومے اور نہ ہوسکے تو فقط اس کی طرف منہ کرکے اللہ اکبر ولا الہ اللہ والحمدللہ اور درود پاک پڑھتے ہوئے فوراً باب الصفا پر آئیے، صفا پہاڑ پر چڑھ کر کعبہ کی طرف منہ کیے ہاتھ اٹھا کر درود پاک پڑھ کر دعا کرے، اس کے بعد ذکر و درود میں مشغول درمیانہ چال میں جانب مروہ چلے، جوں ہی پہلا سبز میل آئے تو دوڑنا شروع کردے، ہاں اگر بھیڑ زیادہ ہو تو رک جائے، اور بھیڑ ختم ہونے پر دوڑے، خیال رہے اس درمیان کسی کو تکلیف نہ پہنچے، جب دوسرا سبز میل آئے تو آہستہ ہوجائے، اور درمیانہ چال چلے، مروہ پر پہنچ کعبہ کو منہ کیے درود پاک پڑھے، دعا کرے۔ مذکورہ طریقہ کے مطابق ساتھ چکر لگائے۔ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہوگا۔ سعی کرنے کے بعد مسجد حرام میں دو رکعت نفل ادا کرے کہ مستحب ہے۔

حلق یا تقصیر:اب مرد حلق کریں یعنی سر منڈائیں یا تقصیر کریں یعنی کم از کم چوتھائی (4/1) سر کے بال انگلی کے پورے کے برابر کٹوائیں۔ اسلامی بہنیں صرف تقصیر کرائیں، ان کے لیے حلق کروانا جائز نہیں ۔ اب آپ کا عمرہ مکمل ہوگیا الحمد للہ ۔

)ماخوذاز،فتاوٰی رضویہ، کتاب الحج، جلد10، صفحہ610تا611، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی(

عمرہ کے حوالے سے امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات710ھ) مشہور زمانہ متن ”کنز الدقائق“ میں لکھتے ہیں:

”وابدأ بالمسجد بدخول مكة وكبر وهلل تلقاء البيت ثم استقبل الحجر الأسود مكبرا مهللا مستلما بلا إيذاء وطف مضطبعا وراء الحطيم آخذا عن يمينك مما يلي الباب سبعة أشواط ترمل في الثلاثة الأول فقط واستلم الحجر كلما مررت به إن استطعت واختم الطواف به وبركعتين في المقام أو حيث تيسر من المسجد للقدوم، وهو سنة لغير المكي ثم اخرج إلى الصفا وقم عليه مستقبلا البيت مهللا مكبرا مصليا على النبي ﷺ داعيا ربك بحاجتك ثم اهبط نحو المروة ساعيا بين الميلين الأخضرين وافعل عليها فعلك على الصفا فطف بينهما سبعة أشواط تبدأ بالصفا وتختم بالمروة“

ترجمہ: مکہ میں مسجد حرام میں داخل ہوکر کعبہ کی طرف منہ کیے تکبیر و تہلیل کہے۔ پھر تکبیر و تہلیل کہتے ہوئے حجر اسود کے سامنے ہوکر بغیر کسی کو تکلیف دیے استلام کرے۔ حالت اضطباع میں حطیم کے باہر سے طواف کے ساتھ چکر لگائے، اس طرح کہ مسجد کا دروازہ اس کے سیدھے ہاتھ کی طرف ہو ،صرف شروع کے تین چکروں میں رمل کرے، اگر استطاعت ہوتو ہر مرتبہ حجر اسود کے پاس سے گزرتے وقت اس کا استلام کرے، اور یہیں پر طواف ختم کرے، اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت پڑھے، یا پھر مسجد میں جہاں جگہ میسر ہو نماز پڑھے۔ پھر صفا کی طرف نکلے اور صفا پر کھڑے ہو کر کعبہ کی طرف منہ کیے تکبیر و تہلیل اور نبی کریم ﷺ پر درود پاک پڑھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اوررب تعالیٰ سے اپنی حاجات کے متعلق دعا کرے۔ پھر میلین اخضرین کے درمیان دوڑتا ہوا مروہ کی طرف آئے، اسی طرح صفا پر کرے، یوں سات چکر لگائے، کہ صفا سے شروع کرے اور مروہ پر ختم کرے۔) کنز الدقائق، کتاب الحج، صفحہ228، مطبوعہ دار السراج(

عمرہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے علامہ ابراہیم حلبی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 956ھ) لکھتے ہیں

”فإذا دخل مكة ابتداء بالمسجد الحرام فإذا عاين البيت كبر وهلل وابتدأ بالحجر الأسود فاستقبله وكبر وهلل رافعا يديه كالصلاة ويقبله إن استطاع من غير إيذاء أو يستلمه أو يمسه شيئا في يده ويقبله أو يشير إليه مستقبلا مكبرا مهللا حامدا الله تعالى مصليا على النبي ويطوف آخذا عن يمينه مما يلي الباب وقد اضطجع راداءه بأن جعله تحت إبطه الأيمن وألقى طرفيه على كتفه الأيسر ويجعل طوافه وراء الخطيم سبعة أشواط يرمل في الثلاثة الأول منها ويمشي في الباقي على هينته ويستلم الحجر كلما مر به ويختم طوافه بالاستلام واستلام الركن اليماني كلما مر به حسن ثم يصلي ركعتين عند المقام أو حيث تيسر من المسجد وهما واجبتان بعد كل أسبوع وهذا طواف القدوم وهو سنة لغير المقيم بمكة ثم يعود ويستلم الحجر ويخرج إلى الصفاء فيصعد عليه ويستقبل البيت ويكبر ويهلل رافعا يديه للدعاء ويدعو بما شاء ثم ينحط نحو المروة ويمشي على مهل فإذا بلغ بطن الوادي بين الميلين الأخضرين سعى سعيا حتى يجاوزهما ويفعل على المروة كفعله على الصفا وهذا شوط فيسعى بينهما سبعة أشواط يبدؤ بالصفا ويختم بالمروة“

ترجمہ: جب مکہ میں داخل ہوکر مسجد حرام میں حاضر ہو جائے تو کعبہ کو دیکھ کر تکبیر و تہلیل کہے، حجر اسود کے سامنے آئے اور جیسے نماز میں ہاتھ اٹھاتا ہے اسی طرح تکبیر و تہلیل کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے، اگر بغیر کسی کو تکلیف دیے ممکن ہو تو اس کو بوسہ دے۔ یا استلام کرے، یا جو چیز اس کے ہاتھ میں ہو اس سے مس کرےیا اور اس کو چوم لے، یا اس کی طرف اشارہ کرے، اس حالت میں کعبہ کی طرف منہ کرکے تکبیر و تہلیل ، اللہ کی حمد اور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھتا رہے، اب مسجد کے دروازے کو اپنے سیدھے ہاتھ کی طرف رکھتے ہوئے طواف کرے، اور اپنی چادر کو الٹ دے، اس طرح کہ چادر کو اپنی سیدھی بغل سے نکال کر الٹے کندھے پر ڈال دے، حطیم کے باہر سے سات پھیرے کرے،شروع کی تین پھیروں میں رمل کرے، باقی پھیروں میں درمیانہ حالت پر چلے، ہر بار حجر اسود کے پاس سے گزرتے وقت استلام کرے، اور استلام کرکے ہی طواف ختم کرے، ہر مرتبہ گزرتے وقت رکن یمانی کا استلام کرنا بھی بہتر ہے۔پھر مقام ابراہیم کے پاس یا مسجد میں جہاں ممکن ہو دو رکعت نماز (طواف)پڑھے، غیر مکی کے لیے یہ نماز سنت ہے۔پھر لوٹے اور حجر اسود کو استلام کرے، اور صفا کی طرف نکلے اور اس پر چڑھے، کعبہ کی طرف منہ کرکے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھاکر تکبیر و تہلیل ، اللہ کی حمد اور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے۔ اور جو چاہے دعا کرے، پھر مروہ کی طرف اترے اور عام حالت پر چلے، جب بطن نخلہ میلین اخضرین کی درمیان پہنچے تو دوڑے حتی کہ وہاں سے گزر جائے، جس طرح صفا پر کیا اسی طرح مروہ پر کرے، یہ ایک چکر ہوا اسی طرح صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے، صفا سے شروع کرے اور مروہ پر ختم کرے۔ )ملتقى الأبحر، کتاب الحج، صفحہ399، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت(

(نوٹ) عمرہ کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب رفیق المعتمرین کا مطالعہ فرمائیں۔

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو حامد عمران رضا عطاری

22ربیع الاخر1444 ھ/ 18 نومبر2022 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں