دو بیویوں کےنفقے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (1) جس شخص کی دوبیویاں ہوں توہرایک کاکتنااورکس قسم کانفقہ اس پرلازم ہوگا؟ (2)اگرشوہرایک بیوی کوبلاوجہ شرعی اپنے گھرسے باہرنکال دے اوراسے نفقہ وغیرہ نہ دے تو اس کے متعلق شرعی حکم کیاہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
(1) جس شخص کی دو بیویاں ہوں تو ہر ایک بیوی کے لیے شوہر پر اصل نفقہ واجب ہے دونوں بیویوں کے درمیان رہائش کھانے پیسے لباس وغیرہ میں عدل(برابری) کرنا مرد پر واجب ہے کسی ایک طرف زیادہ مائل ہو جانا اور ایک کو زیادہ نفقہ دینا مرد کے لیے جائز نہیں ۔ اصل نفقہ جیسے کھانے پینے رہائش لباس وغیرہ میں برابری تب واجب ہے جبکہ دونوں بیویاں امیری اور فقیری میں ایک جیسی ہوں ورنہ جیسی بیوی کی حالت شادی سے پہلے تھی اسی اعتبار سے اس کا نفقہ مرد پر لازم ہو گا امیر کے لیے اسی طرح کا نفقہ دینا مرد پر لازم ہو گا اور فقیر بیوی کو اس کے مطابق نفقہ دینا ہو گا یہی عدل ہے۔
اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
”وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْا“
ترجمہ:
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔(( سورۃنساء آیت 3))
اسکے تحت صراط الجنان میں ہے:
آیت میں چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی صورت میں سب کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے تو صرف ایک سے شادی کرو۔اسی سے یہ معلوم ہوا کہ اگرکوئی چار میں عدل نہیں کرسکتا لیکن تین میں کرسکتا ہے تو تین شادیاں کرسکتا ہے اور تین میں عدل نہیں کرسکتا لیکن دو میں کرسکتا ہے تو دو کی اجازت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا فرض ہے، اس میں نئی، پرانی، کنواری یا دوسرے کی مُطَلَّقہ، بیوہ سب برابر ہیں۔ یہ عدل لباس میں ، کھانے پینے میں ، رہنے کی جگہ میں اوررات کوساتھ رہنے میں لازم ہے۔ ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔
سنن ابی داؤد میں ہے:
”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ “
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور پھر وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس کیفیت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا ۔“((سنن ابی داؤد حدیث 2133))
بحرالرائق میں ہے:
”وَفِي الْبَدَائِعِ يَجِبُ عَلَيْهِ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْحُرَّتَيْنِ أَوْ الْأَمَتَيْنِ فِي الْمَأْكُولِ، وَالْمَشْرُوبِ، وَالْمَلْبُوسِ، وَالسُّكْنَى، وَالْبَيْتُوتَةِ “
ترجمہ:اور بدائع میں کہ مرد پر دو آزاد عورتوں اور دو غلام عورتوں کے درمیان کھانے پینے لباس اور رہائش اور گھر دینے میں برابری واجب ہے ۔((البحر الرائق شرح كنز الدقائق ,باب القسم،جلد 3 ،صفحہ 234))
اسی میں ہے:
”(قَوْلُهُ: وَإِنَّمَا الْمُرَادُ بِهِ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْمَنْكُوحَاتِ) لَا يَخْفَى أَنَّهُ إذَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ التَّسْوِيَةُ وَتَرَكَهَا كَانَ جَوْرًا“
ترجمہ:اور مصنف کا قول اور بے شک اس سے مراد بیویوں کے درمیان برابری ہے پوشیدہ نہیں کہ مرد پر برابری واجب ہے اور اگر وہ برابری نا کرے تو یہ ظلم ہو گا۔((البحر الرائق شرح كنز الدقائق باب القسم،جلد 3 ،صفحہ 234)) تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
درمختار میں ہے:
”یجب ان یعدل ای لایجوز فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ لافی المجامعۃ کالمحبۃ بل یستحب۔“
ترجمہ: بیویوں میں عدل کرنا واجب ہے یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی، لباسِ خوردونوش اور صحبت وموانست میں برابری کرے نہ کہ جماع میں مثل محبت کے بلکہ جما ع میں برابری مستحب ہے۔ (درمختار باب القسم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۱)
سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ دوسری بیوی کے نفقہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
”مرد اپنی دو۲ زوجہ حرّہ کو کھلانے اور پہنانے اور پاس رہنے وغیرہا امور اختیار میں برابر رکھنا واجب ہے اور اس امر میں طوائف وغیر طوائف شریف و رذیل میں کچھ فرق نہیں کہ آیت قسم مطلق ہے۔“((فتاوی رضویہ ،باب القسم،جلد 12 ،صفحہ 275، رضا فاؤنڈیشن لاہور))
بہار شریعت میں ہے:
”جس عورت سے نکاح صحیح ہوا اُس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے عورت مسلمان ہو یا کافرہ، آزاد ہو یا مکاتبہ، محتاج ہو یا مالدار، دخول ہوا ہو یا نہیں ، بالغہ ہویا نا بالغہ مگر نابالغہ میں شرط یہ ہے کہ جماع کی طاقت رکھتی ہو یا مشتہاۃ ہو۔ اور شوہرکی جانب کوئی شرط نہیں بلکہ کتنا ہی صغیرالسِن(کم عمر) ہواُس پرنفقہ واجب ہے اُس کے مال سے دیا جائے گا۔“((بہار شریعت،نفقہ کا بیان، جلد 2 حصہ 8صفحہ 262،مکتبۃالمدینہ کراچی))
بہار شریعت میں ہے:
”اگر مرد و عورت دونوں مالدار ہوں تو نفقہ مالداروں کاسا ہوگا اور دونوں محتاج ہوں تو محتاجوں کا سا اورایک مالدار ہے، دوسرا محتاج تو متوسط درجہ کا یعنی محتاج جیسا کھاتے ہوں اُس سے عمدہ اور اغنیا جیسا کھاتے ہوں اُس سے کم اور شوہر مالدار ہواور عورت محتاج تو بہتر یہ ہے کہ جیسا آپ کھاتا ہو عورت کو بھی کھلائے، مگر یہ واجب نہیں واجب متوسط ہے۔“((بہار شریعت جلد 2 حصہ 8 صفحہ267،مکتبۃ المدینہ کراچی))
دو بیویوں کو نفقہ کس طرح کا دیا جائے اس حوالے سے اعلی حضرت فرماتے ہیں:
”کھانا دو۲ قسم ہے ایک اصل نفقہ جوزوجہ کے لئے زوج پر واجب ہے، دُوسرا اس سے زائد مثل فواکہ وپان و الائچی وعطایا وہدایا، قسم اوّل میں برابری صرف اُس صورت میں واجب ہے جب دونوں عورتیں مال حا لت فقروغنا میں یکساں ہوں ورنہ لحاظ حا ل زوج کے ساتھ غنیہ کے لئے اس کے لائق واجب ہوگا اور فقیرہ کے لئے اس کے لائق مثلاً زوج اور ایک زوجہ دونوں امیر کبیر ہیں کہ اپنے اپنے یہاں اُن کی خوراک باقرخانی ومُرغ پلاؤ ہے، اور دوسری زوجہ فقیرہ ہے کہ جوار باجرے کی روٹی کھاتی ہے اور آپ پیستی پکاتی ہے، ان دونوں کے نفقہ میں مساوات واجب نہیں ہوسکتی، پہلی کے لئے وہی بریانی اور مرغ لازم ہے اور دوسری کے لئے گیہوں کی روٹی اور بکری کا گوشت، پہلی کے لئے خادم بھی ضرور ہوگا دوسری آپ خدمت کرلے گی، پہلی کریب اور زربفت پہنے گی دوسری کوتنزیب اور ساٹھن بہت ہے، پہلی کے لئے مکان بھی عالی شان درکار ہوگا دوسری کے لئے متوسط۔ اور قسم دوم میں مطلقاً برابری چاہئے، جو چیز جتنی اور جیسی ایک کو دے اُتنی ہی اور ویسی ہی دوسری کو بھی دے۔ دُودھ، چائے، میوے، پان، چھالیا، الائچی، برف کی قلفیاں، سُرمہ، مہندی وغیرہ وغیرہ تمام زوائد میں مساوات رکھے کہ وہاں فرق اصل وجوب میں تھا یہ اشیاء واجب نہیں ان میں ایک کو مرجح رکھنا اس کی طرف میل کرنا ہوگا اور میل ممنوع ہے فرمائشوں کا حال بھی یہیں سے واضح ہوگیا اگر اس نے وہ فرمائش اپنے نفقہ کے متعلق کی ہے اور وہ اسکی مستحق ہے اور دوسری مستحق نہیں تو اس پر لازم نہ ہو کہ دوسری کو بھی وہی چیز دے اور نفقہ سے زائدشَے کی تو برابری درکار ہوگی کہ وُہ بعد فرمائش بھی عطیہ کی حد سے خارج نہیں۔“((فتاویٰ رضویہ باب القسم،جلد 12 ،صفحہ 276-277، رضا فاؤنڈیشن لاہور))
(2) اور اگر شوہر ایک بیوی کو بلا وجہ شرعی اپنے گھر سے نکال دے اور نفقہ وغیرہ نا دے تو سخت گنہگار ہو گا اس پر لازم ہے کہ بیوی کو نفقہ دے ۔
سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بلا وجہ بیوی کو گھر سے نکال دینے اور نفقہ نا دینے والے کے متعلق جواب دیتے ہوے ارشاد فرماتے ہیں:
”بکر پر نان ونفقہ ومسکنِ ہندہ کا انتظام لازم ہے جبکہ ہندہ اپنے آپ کو اس کی قید میں رکھے،آوارہ گردکانان نفقہ نہیں ہوتا، اگر ہندہ اپنی جانب سے کوئی بات سقط نان ونفقہ نہ کرے اور بکر پھر بھی نفقہ نہ دے تو حاکم بکر کو مجبور کرے کہ نفقہ دے ورنہ طلاق دے، یا بکر راضی ہوتو ہندہ اس سے مہر وغیرہ مال پر خُلع کرلے بغیر اس کے جب تک بکر زندہ ہے اگر چہ بیمار ہے ناقابلِ صحبت ہوگیا ہندہ خود مختار نہیں ہوسکتی، واﷲ تعالٰی اعلم۔“((فتاوی رضویہ،باب القسم، جلد 12 صفحہ 475 رضا فاؤنڈیشن لاہور))
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
13/12/2022