طواف کے بعد کےنفل عصرکے بعد پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ طواف کے بعد جو نفل پڑھے جاتے ہیں وہ عصر کے بعد پڑھ سکتے ہیں ؟لوگ کہتے ہیں کہ یہاں حرم شریف میں مکروہ وقت نہیں ہوتا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
طواف کے بعد دورکعت نفل نماز غیر مکروہ وقت میں پڑھے جائیں گے اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہے۔نیز سائل کا یہ کہنا کہ حرم شریف میں مکروہ وقت نہیں ہوتا خودساختہ ہے کہ کتب فقہ میں عصر کے بعد نوافل ِ طواف نہ پڑھنے کی صراحت ہے اور طواف کا تعلق حرم سے ہی ہے۔
درمختار میں ہے: (ثم صلی شفعا)فی وقت مباح“ترجمہ:پھرطواف کے بعد مباح وقت میں دورکعت پڑھے۔ (شامی،کتا ب الحج،2/499،بیروت)
شامی میں ہے: فتکرہ فی وقت الکراھۃ بخلاف الطواف ۔۔۔ولو طاف بعد العصر یصلی المغرب ثم رکعتی الطواف “ترجمہ:یہ نمازمکروہ وقت میں مکروہ ہے طواف جائز ہے تو اگر عصر کے بعد طواف کیا تو اب مغرب کے بعد طواف کے نوافل پڑھیں گے۔ ٍ(شامی،کتا ب الحج،2/499،بیروت)
بہار شریعت میں ہے: طواف کے بعد ۔۔۔ دو رکعت طواف پڑھے ا۔۔۔ بشرطیکہ وقتِ کراہت مثلاً طلوع صبح سے بلندی آفتاب تک یا دوپہر یا نمازِ عصر کے بعد غروب تک نہ ہو، ورنہ وقتِ کراہت نکل جانے پر پڑھے۔ (بہا ر شریعت،نماز طواف،1/1109)
تیمور احمد صدیقی
08.12.22
14جمادی الاول 1444