اسلامی یا غیر اسلامی ملک میں اسمگلنگ کرنے کا حکم

اسلامی یا غیر اسلامی ملک میں اسمگلنگ کرنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین وشرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی اسلامی ملک جسکا قانون غیر اسلامی ہو ،اس ملک کے اندر کوئی شخص اسلحہ کا غیر قانونی کاروبار کرتا ہو یا سونے، چاندی یا راشن وغیرہ کی سمگلنگ کرتا ہو جبکہ اس ملک کاقانون جو کہ غیر اسلامی قانون ہو اسکی اجازت نہیں دیتا آیا کہ اس قسم کا کاروبا ر اس ملک میں کرنا شرعا کیسا ہے؟ جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں ۔اجرکم من اللہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ (پوچھی گئی صورت)میں غیر قانونی طور پر اس طرح اسلحہ کی خریدو فروخت یا اسمگلنگ کا کام شرعاً ناجائز و گناہ ہے (اگرچہ ملک غیر اسلامی ہو یا قوانین غیر اسلامی ہوں) کیونکہ یہ اپنے آپ کو ذلت و رسوائی پر پیش کرنا ہے اور شریعتِ مطہرہ نے اس کام سے منع فرمایا ہے جو ہلاکت اور ذلت و رسوائی کا باعث ہو۔

جہاں تک کمائی کا تعلق ہے تو اگر وہ کاروبار فی نفسہٖ جائز ہے تو اس کی کمائی بھی جائز اور اگر کاروبارفی نفسہٖ حرام ہے تو اس کی کمائی بھی حرام ہے۔

ابن ماجہ شریف میں ہے :

”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه»“

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مومن کے لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلت و رسوائی میں پیش کرے۔(ابن ماجه، سنن ابن ماجه،کتاب الفتن، حدیث نمبر 4016 ، 1332/2)

مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث کے تحت فرمایا

”(لا ينبغي للمؤمن) أي لا يجوز له (أن يذل نفسہ)“

ترجمہ:کسی مؤمن کے لیے مناسب نہیں یعنی جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے۔( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ٢٨٥/٨)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے

” وإذلال النفس حرام“

ترجمہ:خود کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے ۔[بدر الدين العيني، البناية شرح الهداية، ١٠٩/٥]

فتاوی رضویہ میں ہے :

”کسی قانونی جرم کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا بھی منع ہے۔ حدیث میں ہے : ” من اعطی الذلۃ من نفسہ طائعا غیر مکرہ فلیس منّا ” یعنی جو شخص بغیر کسی مجبوری کے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“(فتاویٰ رضویہ ، جلد 29 ، صفحہ 93 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پر ہے :

” ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہے ، اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔“(فتاویٰ رضویہ ، جلد 20 ، صفحہ 192 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وقار الفتاوی میں خاص اسملنگ کے متعلق ارشاد فرمایا :

”اسمگلنگ کرنا یا اسمگلنگ کا مال بیچنا اور خریدنا اس لیے ناجائز ہے کہ یہ ملک کے قانون کے خلاف ہے اور مسلمان کو خلاف قانون کام کرنا جائز نہیں ،اس لیے کہ خلاف قانون کام کرنے سے جب پکڑا جائے گا تو پہلے جھوٹ بولے گا ،اگر جھوٹ سے کام نہ چلا تو رشوت دے گا،اور رشوت سے بھی کام نہ چلا تو سزا ہو گی جس میں اس کی بےعزتی ہے ،مسلمان کوئی ایسا کام ہی نہ کرے جس سے جھوٹ بولنا یا رشوت دینا پڑے یا جس سے اس کی بےعزتی ہو۔“(وقار الفتاوی،ج اول،ص252)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

کتبہ : محمد یاسر عباسی

مورخہ 25 نومبر 2022

اپنا تبصرہ بھیجیں