زیر موئے ناف بلوغت سےپہلے نکل آئیں تو حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موئے زیر ناف کی صفائی کا تعلق بلوغت سے ہے یا اگر کسی کو بالغ ہونے سے پہلے قبل ہی یہ بال نکل آئیں تو صفائی کر سکتے ہیں یا نہیں نیز غیر ضروری بال ہمیشہ کے لیے ختم کرسکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
بغل اور موئے زیر ناف عام طور سے بلوغت کے وقت یا بلوغت کے قریب ہی آتے ہیں، لہٰذاگر نابالغ کو آجائیں تو اختیار ہے چاہے تو کاٹ لے یا یوہی چھوڑ دے چونکہ یہ ابھی مکلف نہیں اس لیے گناہ گار نہیں ہوگا مگر جیسے ہی بالغ ہوگیا اب اگر 40دن سے زائد تاخیر کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔ واضح رہے کہ چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں ۔ چالیس روز کے بعد گناہ گار ہوں گے ۔ ایک آدھ بار میں گناہ صغیرہ ہوگا ، عادت ڈالنے سے کبیرہ ہو جائے گا ۔ جسم کے غیر ضروری( موئے زیر ناف، بغل وغیرہ کے) بال مستقل طور پر بھی ختم کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہےالبتہ اس کے لئے کوئی ایسا کام کروانا جائز نہیں ہوگا جس میں غیر کے سامنے بے ستری ہو مثلاً لیزر سے ریموو کروانا کیونکہ اس میں اپنے اعضائے ستر غیر کے سامنے ظاہر کرنے ہوں گے اور یہ ہرگز جائز نہیں ۔
سنن دارمی میں ہے:
عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم , قال: “رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصغير حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل”. وقد قال حماد ايضا:”وعن المعتوه حتى يعقل”.
ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص سے قلم اٹھا دی گئی ہے (یعنی ان کی نیکی بدی پر مواخذہ نہیں) سونے والے سے جاگنے تک، بچے سے بالغ ہونے تک، اور دیوانے سے جب تک اس کو عقل نہ آئے۔“
(سنن دارمی،حدیث 3535،موسوعۃ القرآن و الحدیث)
صحیح مسلم میں ہے:
الفطرۃخمس اوخمس من الفطرۃالختان، والاستحداد ،وتقلیم الاظفار،ونتف الابط،وقص الشارب
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”پانچ چیزیں فطرت ہیں یاپانچ چیزیں فطرت سے ہیں ختنہ کرنا، صفائی کرنا،ناخن کاٹنا،بغل کی صفائی کرنا اورمونچھیں چھوٹی کرنا۔
(صحیح مسلم ،جلد1،صفحہ221،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
عن أنس بن مالك، قال: وقت لنا في قص الشارب وحلق العانة ونتف الإبط، وتقليم الأظفار: أن لا تترك أكثر من أربعين ليلةً۔
ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہمارے لیے مونچھیں تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے، بغلوں کو نوچنے اور ناخن تراشنے کا وقت یہ ہے کہ اسے چالیس راتوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔
(سنن ابن ماجہ،باب الفطرة (1/ 197) برقم (295)،ط. دار الرسالة العالمية)
فتاوی رضویہ میں ہے:
چالیس40 روز سےزیادہ ناخن یاموئے بغل(بغل کے بال) یاموئے زیرِ ناف( ناف کے نیچے کے بال) رکھنے کی اجازت نہیں ، بعد چالیس(40)روز کے گنہگار ہوں گے ، ایک آدھ بارمیں گناہِ صغیرہ ہوگا ، عادت ڈالنے سے کبیرہ ہو جائےگا ، فسق ہوگا۔
( فتاویٰ رضویہ ، جلد22 ،صفحہ 678،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
سنن ابی داود میں ہے:
نبی پاک صلی اللہ علیہ والہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا :
’’ لا ينظر الرجل إلى عرية الرجل ولا المرأة إلى عرية المرأة ‘‘
یعنی ایک مرد دوسرے مرد کے اور ایک عورت دوسری عورت کےستر ( یعنی جسم کے جن حصوں کو چھپانا شرعاً لازم ہے ، ان) کو نہ دیکھے ۔
( سنن ابی داؤد ،جلد 2 ، صفحہ 201 ، مطبوعہ: لاھور )
ہدایہ میں ہے:
’’ وينظر الرجل من الرجل إلى جميع بدنه إلا ما بين سرته إلى ركبته ۔۔۔ وتنظر المرأة من المرأة إلى ما يجوز للرجل أن ينظرإليه من الرجل ‘‘
یعنی ایک مرد دوسرے مرد کے تمام جسم کو دیکھ سکتا ہے ، سوائے ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے تک (اس حصے کو نہیں دیکھ سکتا ، اسی طرح ) ایک عورت دوسری عورت کا وہی حصہ دیکھ سکتی ہے ، جو ایک مرد دوسرے مرد کا حصہ دیکھ سکتا ہے ۔
( الھدایہ ، جلد 4 ، صفحہ 419 ، 420 ، مطبوعہ: بیروت )
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس۰۱
17ربیع الآخر 1446 ھ /21اکتوبر 2024 ء