یا محمد کہہ کر پکارنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ “یا محمد” کہہ کر پکارنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کو “یا محمد” کے الفاظ کے ساتھ پکارنا ناجائز و حرام؛ کیونکہ قرآن پاک میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو اس طرح پکارنے سے منع کیا گیا ہے جیسے ہم ایک دوسرے کو اس کا نام لے کر پکارتے ہیں، نیز اس طرح پکارنا سوئے ادب یعنی ادب کے بھی خلاف ہے جیسے والد، پیر، استاد کو نام لیکر پکارنا منع ہے کہ بے ادبی ہے تو نبی کریم علیہ السلام کا نام لیکر پکارنا کیسے جائز ہوسکتا ہے،
لہذا “یا محمد” کہنے کے بجائے اچھے القابات یا صفاتی ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیئے جیسے یا رسول ﷲ، یا حبیب ﷲ، یا نبی ﷲ وغیرہ الفاظ کے ساتھ ندا کی جائے۔
قرآن پاک میں ہے:
﴿لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا﴾
ترجمہ کنز العرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنا لو، جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
(پارہ18، سورۃ النور، آیت63)
تفسیر صاوی میں ہے:
“قوله: (لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ ) أي: نداءه، بمعنى: لا تنادوه باسمه فتقولوا: يا محمد، ولا بكنيته فتقولوا: يا أبا القاسم بل نادوه وخاطبوه بالتعظيم والتكريم والتوقير؛ بأن تقولوا : يا رسول الله يا نبي الله يا إمام المرسلين يا رسول رب العالمين، يا خاتم النبيين … وغير ذلك. واستفيد من الآية: أنه لا يجوز نداء النبي بغير ما يُفيد التعظيم ؛ لا في حياته، ولا بعد وفاته.”
ترجمہ: حضور سید عالم ﷺ کو ان کے نام یا کنیت سے نہ پکارو یعنی یوں نہ کہو یا محمد یا ابا القاسم بلکہ حضور سید عالم ﷺ کو تعظیم وتکریم وتوقیر کے ساتھ پکارو، اور اس طرح عرض کرو یا رسول ﷲ، یانبی ﷲ، یا امام المرسلین، یا رسول رب العلمین، یا خاتم النبیین، اس آیت سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ نبی کو ایسے الفاظ سے ندا کرنی جائز نہیں ہے کہ جن میں تعظیم نہ ہو، نہ حیات ظاہری میں اور نہ حیات ظاہری کے بعد۔
(تفسیر صاوی، پ18، النور:63، جلد4، صفحہ534، دار تحقیق الکتاب)
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
“عن ابن عباس: کانوا یقولون “یا محمد،یا أبا القاسم” فنھاھم ﷲ عز وجل عن ذلک، إعظاما لنبيه، صلوات ﷲ وسلامه عليه قال: فقالوا: يا رسول ﷲ، يا نبي ﷲ.”
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’یا محمد، یا ابا القاسم‘‘ کہتے تھے، تو اپنے نبی کی تعظیم کی خاطر اللہ عزوجل نے انہیں اس سےمنع فرمادیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر صحابہ کرام ’’یارسول اللہ، یا نبی اللہ‘‘ کہا کرتے تھے۔
(تفسیر ابن کثیر، پ18، النور:63، جلد10، صفحہ279، مطبوعہ: دارطیبہ)
فتاوی شارح بخاری میں ہے:
“یہ درود شریف کا صیغہ “صلی ﷲ علیک یا محمد” قابلِ اعتراض ہے، نام نامی لے کر پکارنا، جائز نہیں۔”
(فتاوی شارح بخاری، جلد1، صفحہ290، مطبوعہ: برکات المدینہ)
فتاوی فیض الرسول میں ہے:
“سرکار اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کے ذاتی نام کے پہلے “یا” لگا کر پکارنا حرام ہے۔”
(فتاوی فیض الرسول، جلد2، صفحہ485، مطبوعہ: شبیر برادرز)
فتاوی رضویہ و صراط الجنان میں ہے:
“اس امتِ مرحومہ پر اس نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کا نام پاک لےکر خطاب کرنا ہی حرام ٹھہرایا، قال اللہ تعالی﴿ لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا﴾ اللہ تعالی نے فرمایا: رسول کا پکارنا آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہ اے زید، اے عمرو، بلکہ یوں عرض کرو: یا رسول اللہ، یا نبی اللہ، یاسید المرسلین، یاخاتم النبیین، یاشفیع المذنبین، صلی اللہ تعالی علیک وسلم وعلی اٰلک اجمعین۔۔۔ لہذا علماء تصریح فرماتےہیں: حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نام لےکر ندا کرنی حرام ہے اور واقعی محلِ انصاف ہے، جسے اس کا مالک ومولی تبارک وتعالی نام لےکرنہ پکارے، غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے۔۔۔یہ مسئلہ مہمہ(اہم ترین مسئلہ ہے) جس سے اکثر اہل زمانہ غافل ہیں، نہایت واجب الحفظ ہے۔”
(فتاوی رضویہ، جلد30، صفحہ156تا158، رضا فاؤنڈیشن، لاھور/ صراط الجنان، جلد1، صفحہ48-49، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔
️مؤرخہ 03جمادی الاولی 1446ھ بمطابق 06نومبر 2024ء، بروز بدھ