حالت اقامت میں موزے پر مسح کرنے کےبعد سفر کرنے پر کونسی مدت تسلیم ہوگی۔

حالت اقامت میں موزے پر مسح کرنے کےبعد سفر کرنے پر کونسی مدت تسلیم ہوگی۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں یوکے سے کراچی سفر کے لئے جا رہا ہوں تو حالت اقامت میں موزے پر مسح کیا اور اس کے بعد مسافر ہوگیا تو اب کون سی مدت پوری کرنی ہوگی ؟ (توقیر ،یوکے)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

مقیم شخص نے طہارت حاصل کر کے موزے پہن لیے اور مدتِ مسح کے دوران شرعی مسافر ہو گیا، تو اس کے حق میں مدتِ مسح مسافر والی ہو جائے گی، یعنی اب وہ شخص ابتدائے حدث سے لے کر تین دن، تین راتوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی شرعی مسافر شخص مقیم ہو گیا، تو اب اس کے حق میں مدتِ مسح مقیم والی ہو جائے گی، لہذا اگر مقیم والی مدت (ایک دن ایک رات) پوری ہو چکی ہے، تو مقیم ہوتے ہی اس کا مسح جاتا رہا، اب نماز وغیرہ ادا کرنے کےلیے موزے اتار کر پاؤں دھونے ہوں گے، البتہ اگر ایک دن رات (ابتدائے حدث سے لے کر اب تک چوبیس گھنٹے) نہیں گزرے تھے، تو اس میں جتنا وقت باقی ہے، موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔

بہار شریعت میں ہے:

’’مقیم کو ایک دن رات پورا نہ ہوا تھا کہ سفر کیا، تو اب ابتدائے حدث سے تین دن، تین راتوں تک مسح کر سکتا ہے اور مسافر نے اقامت کی نیت کر لی، تو اگر ایک دن رات پورا کر چکا ہے، مسح جاتا رہا اور پاؤں دھونا فرض ہو گیا اور نماز میں تھا تو نماز جاتی رہی اور اگر چوبیس گھنٹے پورے نہ ہوئے، تو جتنا باقی ہے، پورا کر لے۔‘‘      

(بھار شریعت، حصہ 2، صفحہ 365، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی اللہ علیہ وآله وسلم بالصواب

کتبه ،

رول نمبر ۴ ،

19نومبر ۲۰۲۴ بمطابق 17جمادی الاولی ۱۴۴۶

اپنا تبصرہ بھیجیں