وتر کی تیسری رکعت میں قرات نہ کرنے کا حکم

وتر کی تیسری رکعت میں قرات نہ کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میں نے سمجھا صرف پہلی دورکعتوں میں قرات کرنا فرض ہے اس لئے کافی عرصے سے میں وتر کی تیسری رکعت میں قرات نہیں کررہا تو میری نماز کا کیا حکم ہوگا)حسنین ،یوکے)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

آپ کی اتنے عرصہ کی وتر نماز نہ ہوئی دوبارہ پڑھنا لازم ہے کیونکہ وتر کی تیسری رکعت میں بھی مطلقاً قراءت کرنا فرض ہے جبکہ مکمل سورۂ  فاتحہ کےبعدسورت ملانا یا قرآنِ پاک کی ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا ،نیز دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے

فتاوی عالمگیری میں ہے،

محل القراءة ففي الفرائض الركعتان حتى لو لم يقرأ في واحدة منه أو قرأ في واحدة فقط فسدت صلاته. كذا في الشمني شرح النقاية وفي الوتر والنفل الركعات كلها،یعنی،محلِ قراءت کے بارے میں فرض نمازوں کی دو رکعتیں (یعنی جہاں قراءت کی جاتی ہے) محل ہیں، یہاں تک کہ اگر کسی نے ان میں سے کسی ایک رکعت میں قراءت نہ کی یا صرف ایک رکعت میں قراءت کی، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، جیسا کہ شمنی شرح النقایہ میں بھی ذکر ہے۔ وتر اور نفل نمازوں میں تمام رکعتیں محلِ قراءت ہیں۔

رد المحتار میں ہے،

قراءة فاتحة الكتاب)،وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار،یعنی،(نماز کے واجبات میں سے ہے )سورۃ الفاتحہ کی قراءت ، اور مختصر ترین سورہ (جیسے سورۃ الکوثر) یا اس کے قائم مقام (تین مختصر آیات) کو پڑھنا لازم ہے۔(رد المحتار ،واجبات الصلوٰۃ،جلد اول،صفحہ نمبر 458،التراث)

البحر الرائق میں ہے،

قراءة القنوت في الوتر واجبة،یعنی وتر میں قنوت پڑھنا واجب ہے۔(البحر الرائق،کتاب الصلوة،جلد اول،صفحہ نمبر 318،التراث)

ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی اللہ علیہ وآله وسلم بالصواب

کتبه ،

رول نمبر ۴ ،

19نومبر ۲۰۲۴ بمطابق 17جمادی الاولی ۱۴۴۶

اپنا تبصرہ بھیجیں