کعبہ میں حضرت علی کی ولادت
سوال۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کیا کعبہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور کسی کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی تھی؟ رہنمائی فرمادیں؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حضرت علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحیح قول کے مطابق خانہ کعبہ میں نہیں بلکہ شعب ابی طالب میں پیدا ہوئے اور خانہ کعبہ میں پیدائش والا قول ضعیف ہے اور کعبہ کے اندر صحابی رسول حضرت حکیم بن حزام بن خویلد رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تھی جس کے بارے میں سب متفق ہیں اور یہ بات کتب روافض سے بھی ثابت ہے۔
عمدة القاری میں ہے
” (حکیم بن حزام) ولد فی بطنہ الکعبۃ”
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی 2اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
(عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری، جلد 13، صفحہ 142، دارالکتب العلمیہ بیروت)
الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے
“وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ”
ترجمہ حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی.
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ ،جلد 2، صفحہ 98، دار الکتب العلمیہ بیروت)
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی میں ہے
“قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ”
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی,شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے.
(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، صفحہ 356 ،دارالکتاب العربی بیروت)
تاریخ خلیفہ بن خیاط میں امام حافظ ابوعمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ لکھتے فرماتے ہیں
“ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم”
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
(تاریخ خلیفہ بن خیاط، صفحہ 199، دار حلبیۃ الریاض)
تاریخ دمشق الکبیر میں ہے
“ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم”
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
(تاریخ دمشق الکبیر، جلد 45، صفحہ 448، دار احیاء التراث العربی بیروت)
بہار شریعت میں ہے
“مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو.
(بہار شریعت ،جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1150،مکتبۃ المدینہ کراچی)
المستدرک علی الصحیحین میں ہے “فقد تواتر الاخبار ان فاطمتہ بنت اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہہ فی جوف الکعبہ”
ترجمہ : پس تحقیق اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد (رضیﷲعنہا) نے امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کعبہ میں جنم دیا ۔
(المستدرک علی الصحیحین ، الجزء الثالث کتاب معرفتہ الصحابہ ،الرقم 6044 ،صفحہ550 ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
شاہ عبد العزیز دهلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
“والصحیح فی ذلک أن عادة الجاهلیة أن یفتح باب الکعبة فی الیوم الخامس عشر من رجب ویدخلون جمیعهم للزیارة وکانت العادة أن النساء یدخلن قبل الرجال بیوم أو یومین وقد کانت فاطمة قریبة الوضع فاتفق أن ولدت هناک لما أصابها من شدة المزاحمة والمجاذبة”
ترجمہ صحیح بات یہ ہے کہ عرب کی جاھلی رسم یہ تھی کہ وہ ۱۵ رجب کو کعبہ کے دروازے کھول دیتے اور سب اندر سے کعبہ کی زیارت کرتے ۔ عورتوں کی عادت یہ تھی کہ اس تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے کعبہ میں داخل ہوتیں ، فاطمہ بنت اسد حاملہ تھی اور اتفاق ایسا ہوا کہ بچہ جننے کے وقت رش کی وجہ سے آپ نے بچے کو جن لیا ۔
(مختصر التحفة الاثنی عشریة،ص48، مطبوعہ دہلی ہند)
شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمہ اللہ نے لکھتے ہیں
:حضرت مولا علی علیہ السلام کی ولادت کے وقت آپ علیہ السلام کے جو مناقب ظاہر ھوئے ان میں سے ایک یہ ھے کہ کعبہ معظمہ کے اندر آپ کی ولادت ھوئی۔ امام حاکم نے فرمایا : متواتر اخبار سے ثابت ھے کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کو آپکی والدہ فاطمہ بنت اسد نے خانہ کعبہ کے اندر میں جنم دیا۔
(إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء مترجم، ج 4 ص 262، مطبوعہ کراچی)
سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جانِ رحمت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہلِ سریت کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ جوفِ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ (سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ،جلد 4 ،صفحہ 783، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
شارح بخاری علاّمہ سیّد محمود احمد رضوی محدث لاہوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ 13 رجب کو کعبۃ اللہ کے اند ر پیدا ہوئے ۔ (شان صحابہ رضی اللہ عنہم، صفحہ 135، مطبوعہ رضوان کتبخانہ گنج بخش روڈ لاہور)
اُستاذِ العلماء علامہ عطاء محمد بندیالوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کعبۃ اللہ میں ہوئی ۔
(ذِکرِ عطاء فی حیاتِ اُستاذِ العلماء صفحہ نمبر 108 ،مطبوعہ اُستاذِ العماء اکیڈمی)
شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ لاہور علاّمہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ عام الفیل کے تیس سال بعد کعبۃُ اللہ میں پیدا ہوئے ۔(بدائع منظوم مترجم، حاشیہ نمبر 2، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور)
“علاّمہ برہان الدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کعبۃُ اللہ میں پیدا ہوئے بعض نے کہا حضرت حکیم بن حزام اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں کعبۃُ اللہ میں پیدا ہوئے ۔”
(سیرتِ حلبیہ مترجم ،جلد 1، صفحہ 440 ،مطبوعہ داراشاعت کراچی)
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرّحمٰن صاحب لکھتے ہیں :حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کعبۃُ اللہ میں ہوئی اس سلسلہ میں روایات موجود ہیں ۔ (تفہیم المسائل ،جلد ششم ،صفحہ 47،48،49، مطبوعہ کراچی)
شرح نہج البلاغہ میں شیعہ ذاکر علی بن حسین بن موسیٰ لکھتا ہے۔
“واختلف في مولد علي (رضي اللہ عنه) أین کان؟ فكثیر من الشیعة یزعمون أنه ولد في الکعبة، والمحدثون لا یعترفون بذٰلك، ویزعمون أن المولود في الکعبة حکیم بن حزام بن خویلد بن أسد بن عبد العزي بن قصي”․
اور اختلاف ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کہاں ہوئی؟ پس کثیر شیعوں کا یہ خیال ہے کہ آپ کی ولادت کعبہ میں ہوئی اور محدثین اس بارے میں آگاہ نہیں اور ان کے خیال ہے کہ حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی کی ولادت کعبہ میں ہوئی۔
(شرح نہج البلاغہ ،القول في نسب أمیر الموٴمنین علي بن أبي طالب وذکر لمع بسیرة من فضائلہ، ج1، ص:14، ط:دارالجیل)
تاریخ الخمیس في أحوال أنفس النفیس میں شیعہ ذاکر حسين بن محمد الدياربكري لکھتا ہے
“ویقال: ولادتہ في داخل الکعبة، ولم یثبت”․
اور کہا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی لیکن یہ ثابت نہیں ہے۔
(تاریخ الخمیس في أحوال أنفس النفیس ،ذکر علي بن أبي طالب، ج 2، ص 275،ط:دار صادر)
الشريف الرضي میں شیعہ ذاکر لکھتا ہے
“ولد ع بمكة في البيت الحرام لثلاث عشرة ليلة خلت من رجب بعد عام الفيل بثلاثين سنة و لا نعلم مولودا ولد في الكعبة غيره”
آپ جمعہ کے دن ،۱۳ رجب ، ۳۰ عام الفيل کو مکہ میں اللہ کے گھر میں پیدا ہوئے
ان کے علاوہ کسی اور کی ولادت خانہ کعبہ میں نہیں ہوئی ہے.
(الشريف الرضي، خصائص الأئمة، ص 39، ناشر: مجمع البحوث الإسلامية – الآستانة الرضوية المقدسة)
الحدائق الناضرة في أحكام العترة الطاهرة میں شیعہ ذاکر شیخ یوسف بحرانی لکھتا ہے۔
“ولد بمكة في البيت الحرام ولم يولد فيه أحد قبله ولا بعده وهي فضيلة خص بها عليه الصلاة والسلام وكان ذلك يوم الجمعة لثلاث عشر ليلة خلت من رجب”
امام علي عليه السلام اللہ کے گھر میں پیدا ہوئے ،آپ کے سوا کوئی اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد اللہ کے گھر میں پیدا نہیں ہوئے ،یہ فضیلت آپ کے ساتھ مخصوص ہے. اور وااقعہ جمعہ کے دن ،۱۳ رجب کو پیش آیا ۔
(الحدائق الناضرة في أحكام العترة الطاهرة، ج 17، ص 432 / 433، مؤسسة النشر الإسلامي)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ARQF-01-2023
17جمادی الاولی 1446ھ 19نومبر 2024ء