تقلید شخصی کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ تقلید شخصی کا شرعی حکم کیا ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی معین امام سے منسوب ایک معین مذہب کو اپنانا تقلید شخصی کہلاتا ہے
تقلید شخصی واجب ہے , اس پر امت کا اجماع ہے اور اس کا منکر گمراہ ہے
النامی حاشیہ حسامی میں ہے کہ
التقلید اتباع الرجل غیرہ فیما سمعہ یقول او فی فعلہ علی زعم انہ محق بلا نظر فی الدلیل
ترجمہ, تقلید کا معنی ہے کسی شخص کا اپنے غیر کی اطاعت کرنا اس میں جو اسکو کہتے ہوئے یا کرتے ہوۓ سن لے یہ سمجھ کر کہ وہ اہل تحقیق میں سے ہے بغیر دلیل میں نظر کیے (حاشیہ حسامی, باب متابعۃ اصحاب رسول اللہ, صفحہ 180 ,مطبوعہ مکتبۃ البشری , تقلید شخصی ضروری ہے صفحہ 31 مطبوعہ اسلامی کتب خانہ یوپی ہند)
اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ ( سورہ نساء آیت نمبر 115)
ترجمۂ کنز الایمان
اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔
اس آیت مبارکہ کے تحت
مفتی احمد یار خان نعیمی جاء الحق میں فرماتے ہیں کہ
اس سے معلوم ہوا کہ جو راستہ عام مسلمانوں کا ہو اس کو اختیار کرنا فرض ہے اور تقلید پر مسلمانوں کا اجماع ہے (جاء الحق, صفحہ 35,مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات)
سنن ابی داود میں حدیث پاک ہے
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی اللّٰہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حِیْنَ بَعَثَہٗ اِلَی الْیَمَنِ قَالَ لَہٗ((کَیْفَ تَقضِی اِذَا عُرِضَ لَکَ قَضَاء؟))قَالَ:أَقْضِیْ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ ، قَالَ((فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ ؟))قَالَ:بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ، قَالَ((فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ))قَالَ:أَجْتَہِدُ رَأْیِ لَا آلُوْ ، قَالَ:فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَدْرَہُ ، قَالَ((أَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِمَا یَرْضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم))
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں(حاکم بنا کر)یمن بھیجا تو ارشاد فرمایا ’’معاذ!تمہارے سامنے جب مقدمات پیش کئے جائیں گے تو تم ان کا فیصلہ کیسے کرو گے؟‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’اللہ کی کتاب کے مطابق ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’اگر وہ بات اللہ کی کتاب میں نہ ہوئی؟‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’تو پھر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’اگر سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی نہ پاؤ تو ؟‘‘حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا’’ پھر اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا او رکوئی کسر اٹھا نہیں رکھوں گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا ’’تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے رسول کے قاصد کو یہ توفیق عطا فرمائی جس سے اللہ کے رسول بھی راضی ہوئے۔‘‘
(سنن ابی داؤد, باب اجتھاد الرأی فی القرآن, حدیث نمبر 3593)
اس حدیث پاک میں اہل یمن کو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی تقلید شخصی کا حکم دیا گیا ہے
مشکوۃ شریف میں حدیث پاک ہے کہ
عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سالت ربي عن اختلاف اصحابي من بعدي فاوحى إلي: يا محمد إن اصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها اقوى من بعض ولكل نور فمن اخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اصحابي كالنجوم فبايهم اقتديتم اهتديتم» حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنے رب سے۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی: ” اے محمد! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ قوی ہیں، اور ہر ایک کی روشنی ہے، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں، عمل کیا تو وہ
میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔ (
مشکوۃ, کتاب المناقب, حدیث نمبر 5964)
اس حدیث میں خود اللہ تبارک و تعالیٰ فرمارہا ہے کہ صحابہ کرام کے اختلافی مسائل میں جو کوئی کسی صحابی کی تقلید کرلے گا وہ میرے نزدیک حق پر ہوگا
مشکوۃ کتاب الامارۃ میں بحوالہ مسلم حدیث پاک ہے کہ
وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مَيتَةً جَاهِلِيَّةً»
ترجمہ:
اور جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کی گردن میں امیر کی بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی سی موت مرا۔‘‘
(مشکوۃ المصابیح, کتاب الارماۃ حدیث نمبر 3674 )
اس حدیث پاک کے تحت جاء الحق میں مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں ”اس میں امام کی بیعت یعنی تقلید اور بیعت اولیاء سب ہی داخل ہیں (جاء الحق,صفحہ 35 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات)
فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’مذاہبِ اربعۂ اہلسنت سب رشد و ہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اسی کا پیرورہے ،کبھی کسی مسئلے میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراطِ مستقیم پر ہے اس پر شرعاً کوئی الزام نہیں ، ان میں سے ہر مذہب انسان کیلئے نجات کو کافی ہے۔ تقلید ِشخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ، ضالین، مُتَّبِعْ غَیْرِ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْن (یعنی مومنوں کے راستے کے علاوہ کی پیروی کرنے والے) ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 27 / صفحہ 644 .مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
کتبہ رولنمبر 7 فقہ کورس
4 مارچ 2025 بمطابق 3 رمضان المبارک 1446 ہجری