مخصوص ایام میں ناخن کاٹنا

مخصوص ایام میں ناخن کاٹنا

سوال:کیا شرعی عذر( حیض و نفاس ) میں اسلامی بہنیں ناخن کاٹ سکتی ہیں ؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں عورت حیض و نفاس کے دوران ناخن کاٹ سکتی ہے جب تک اس پر غسل فرض نا ہوا ہو،کیونکہ اس حالت میں وہ پاک عورت کی طرح ہی ہے۔

اوراگر غسل فرض ہو جائے تو اب بغیر غسل کے ناخن کاٹنا مکروہ ہے کیونکہ اب وہ جنبی کی طرح ہوگی جیسے جنبی کیلئے اس دوران ناخن کاٹنا مکروہ ہے تو اس کیلئے بھی مکروہ ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے :کہ عورت حیض کی وجہ سے اس وقت حدث والی ہوگی جب حیض منقطع ہو جائے اس سے پہلے نا اسے حدث ہے نا غسل کا حکم۔

نوٹ:اس سے ظاہر ہوا کہ جب غسل فرض نہیں تو پاک کی طرح کا حکم ہے تو جیسے پاکی کی حالت میں ناخن کاٹنا جائز ہے تو اس حالت میں بھی جائز ہے۔

(فتاوی رضویہ،جلد3، صفحہ 254، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن)

بہار شریعت میں ہے :جنابت کی حالت میں نا بال منڈوائے جائیں نا ناخن ترشوائے جائیں کیونکہ یہ مکروہ ہے(بہار شریعت،جلد 3،حصہ 16،صفحہ 585،مکتبہ المدینہ باب المدینہ کراچی)

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ: ممبر فقہ کورس

Arqf_2025_215

23 رمضان المبارک 1446ھ 24 مارچ 2025ء

اپنا تبصرہ بھیجیں