نابالغ بچوں پر سجدہ سہو
نابالغ بچے اور بچیاں جو قرآن پاک پڑھنا سیکھ رہے ہوتے ہیں وہ اگر آیاتِ سجدہ پڑھیں تو اُن پر بھی سجدہ کرنا لازم ہے ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ میں نابالغ بچے اور بچیاں اَحکام شَرعیہ کے مُکلّف نہیں، لہٰذااگر وہ آیتِ سجدہ تِلاوت کریں یا سُنیں تو ان پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔سجدہ تلاوت لازم ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس پر نماز فرض بنتی ہو اور نابالغ بچے اور بچی پر نماز فرض نہیں ، اس لیے ان پر سجدہ تلاوت بھی لازم نہیں ہوگا ۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”والأصل فی وجوب السجدة ان كل من كان من اهل وجوب الصلاة اما اداء او قضاء كان أهلا لوجوب سجدة التلاوة ومن لا فلا كذا فی الخلاصة حتى لو كان التالی كافرا أو مجنونا أو صبيا أو حائضا أو نفساء لم يلزمهم ۔
ترجمہ:سجدہ تلاوت کے لازم ہونے میں قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ادا یا قضا کے طور پر وجوبِ نماز کا اہل ہو ، وہ سجدہ تلاوت کے وجوب کا اہل ہوگا اور جو شخص ( وجوبِ نماز کا اہل ) نہ ہو ، تو ( وہ سجدہ تلاوت کے وجوب کا بھی اہل ) نہیں ہے ۔جیسا کہ خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے ، یہاں تک کہ اگر تلاوت کرنے والا شخص کافر ، مجنون ، نابالغ بچہ یا حیض و نفاس والی عورت ہو ، تو ان پر سجدہ تلاوت لازم نہیں ہوگا۔
( الفتاویٰ الھندیہ ، کتاب الصلوٰۃ ، باب سجود التلاوۃ ، ج 1 ، ص 146 ، مطبوعہ کراچی )
بہارِ شریعت میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :” آیت سجدہ پڑھنے والے پر اس وقت سجدہ واجب ہوتا ہے کہ وہ وجوب نماز کا اہل ہو یعنی ادا یا قضا کا اسے حکم ہو، لہٰذا اگر کافر یا مجنون یا نابالغ یا حیض و نفاس والی عورت نے آیت پڑھی تو ان پر سجدہ واجب نہیں۔
( بہارِ شریعت ، حصہ 4 ، جلد 1 ، صفحہ 729 ، 730 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
والله اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
رول نمبر Arqf-2025-188
13 ذوالقعدہ 1446ھ بمطابق 11 مئی 2025ء