مستعمل پانی سے ناپاک کپڑے دھونا

مستعمل پانی سے ناپاک کپڑے دھونا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مستعمل(وضو اور غسل کے) پانی سے ناپاک کپڑے وغیرہ دھوئےتو وہ پاک ہو جائیں گے یا نہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ مستعمل پانی سے ناپاک کپڑے وغیرہ دھوئے تو وہ پاک ہو جائیں گے کیونکہ نجاست دو طرح کی ہیں ایک حقیقی اور دوسری حکمی اور شریعت میں نجاست حکمی جیسے وضو اور غسل وغیرہ کے لئے پانی کا غیر مستعمل ہونا ضروری ہے جبکہ اشیاء یعنی کپڑے یا برتن وغیرہ کو پاک کرنے کے لئے پانی کا غیر مستعمل ہونا ضروری نہیں بلکہ مستعمل سے بھی پاکی حاصل ہو جاتی ہے۔

درالمختار شرح تنویر الابصار میں ہے

”(قَوْلُهُ: يَعُمُّ الْحَقِيقِيَّ وَالْحُكْمِيَّ) وَالْخَبَثُ يَخُصُّ الْأَوَّلَ وَالْحَدَثُ الثَّانِيَ بَحْرٌ، (يَجُوزُ رَفْعُ نَجَاسَةٍ حَقِيقِيَّةٍ عَنْ مَحَلِّهَا) وَلَوْ إنَاءً أَوْ مَأْكُولًا عُلِمَ مَحَلُّهَا أَوْ لَا (بِمَاءٍ لَوْ مُسْتَعْمَلًا) بِهِ يُفْتَى۔۔۔“

ترجمہ : مصنف کا قول عام ہے چاہے حقیقی ہو یا حکمی اور خبث یعنی پاخانہ ، پیشاب وغیرہ پہلے کے ساتھ خاص ہے اور حدث یعنی بے وضو یا بے غسل ہونا یہ دوسرے کے ساتھ خاص ہے۔ بحر کے مطابق نجاست حقیقہ کو دور کرنا اس سے محل سے چاہے وہ برتن ہوں یا کوئی مأکول چیز اس نجاست کا محل معلوم ہو یا نہ ہو مستعمل پانی سے جائز ہے اور اس پر ہی فتوی ہے۔(درالمختار شرح تنویر الابصار ، باب الانجاس ، جلد ۱ ، صفحہ 308-309 ، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

” جو چیزیں بذا تہٖ نجس نہیں بلکہ کسی نَجاست کے لگنے سے ناپاک ہوئیں ، ان کے پاک کرنے کے مختلف طریقے ہیں پانی اور ہر رقیق بہنے والی چیز سے (جس سے نَجاست دور ہو جائے) دھو کر نجس چیز کو پاک کر سکتے ہیں ، مثلاً سرکہ اور گلاب کہ ان سے نَجاست کو دور کر سکتے ہیں تو بدن یا کپڑا ان سے دھو کر پاک کر سکتے ہیں ۔

فائدہ: بغیر ضرورت گلاب اور سرکہ وغیرہ سے پاک کرنا ناجائز ہے کہ فضول خرچی ہے۔ مُستَعمَل پانی اور چائے سے دھوئیں پاک ہو جائے گا۔“( بہار شریعت ، حصہ 2 ، ناپاک چیزوں کو پاک کرنے کا بیان ، صفحہ 400 ، ایپ دعوت اسلامی)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

محمد نوشاد عالم قادری

09صفر المظفر 1447بمطابق 04 اگست 2025

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں