مسجد حرام و مسجد نبوی میں نماز ی کے آگے سے گزرنا

مسجد حرام و مسجد نبوی میں نماز ی کے آگے سے گزرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرہ یا حج کے دنوں میں چونکہ رش زیادہ ہوتا ہے لہذا اس بنا پر مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نمازی کے آ گے سے گزرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرما دیجئے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مسجد صغیر(چھوٹی مسجد) یا چھوٹے مکان میں نمازی کے آگے سے گزرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ نمازی کے آگے کوئی سترہ(آڑ) نہ ہو،اور شریعت میں کم از کم ایک شرعی گز (ایک ہاتھ)کے برابر اونچی ہو تو سترہ کہلاتی ہے لہذا اس پیمائش کے مطابق چیز کو آڑ بنا کر نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے کہ احادیث طیبہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔

البتہ مسجد کبیر (بڑی مسجد) یا میدان ہو تو اتنے فاصلے سے نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے کہ اگر نمازی اپنی نظر سجدے کی جگہ پر رکھے تو گزرنے والا اسے نظر نہ آئے جس کا اندازہ نمازی کی جائے قیام سے تین صف آگے تک کیا گیا ہے، یہ اندازہ کھلے میدان یا بڑی جگہ کے بارے میں ہے۔

مسجد کبیر کی پیمائش کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے بعض نے کہا کہ ساٹھ شرعی گز لمبی اور ساٹھ شرعی گز چوڑی ہو اور بعض نے چالیس شرعی گز لمبی اور چالیس گز چوڑی مسجد کو مسجد کبیر قرار دیا ہے جبکہ راجح قول یہ ہے کہ مسجد کبیر صرف وہ ہے جس میں مثل صحراء اتصال صفوف شرط ہے جیسے مسجد خوارزم کل سولہ ہزار ستون پر ہے اس کے علاوہ عام مساجد اگرچہ دس ہزار گز مکسر ہوں مسجد صغیر ہیں اور ان میں دیوار قبلہ تک بلا حائل گزرنا ناجائز ہے۔

اس تفصیل کے بعد سوال میں پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ مسجد حرام یا مسجد نبوی میں اتنی توسیع کردی گئی ہے کہ اب ان کو بھی بڑی مساجد میں شمار کیا جاتا ہے لہذا ان مساجد میں نمازی کے سامنے سے نمازی کی جگہ سے تین صفوں کے فاصلے سے گزرنا جائز ہے اس سے کم فاصلے سے بغیر سترے کے نمازی کے سجدے کی جگہ سے گزرنے کی اجازت نہیں اگرچہ رش کثیر ہو۔البتہ طواف کرنے والوں کو نمازی کے سامنے سے گزرنے کی اجازت ہے کہ طواف بھی نماز ہی کی مانند ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

”عن ‌بسر بن سعيد: «أن زيد بن خالد أرسله إلى أبي جهيم، يسأله: ماذا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدي المصلي؟ فقال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه. قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة“

ترجمہ:حضرت بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم ﷺ سے کیا سنا ہے۔ ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال۔(صحیح البخاری،کتاب الصلوۃ٬باب اثم المار بین یدی المصلی٬صفحہ107 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

صحیح البخاری میں حدیث پاک ہے:

”حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا“

ترجمہ:ہم سے عون بن ابو حجیفہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ ابو حجیفہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا گیا، جس سے آپ ﷺ نے وضو کیا۔ پھر ہمیں آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر کی، آپ ﷺ کے سامنے نیزہ گاڑ دیا گیا تھا اور عورتیں اور گدھے پر سوار لوگ اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔(صحیح البخاری٬کتاب الصلوۃ٬ باب الصلوۃ الی العنزۃ٬صفحہ 106 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

عمدة القاري شرح صحيح البخاری میں ہے:

”وذكر شيخ الإسلام في مبسوطه من حديث أبي جحيفة الآتي ذكره أن مقدار العنزة طول ذراع في غلظ أصبع ويؤيد هذا قول ابن مسعود يجزىء من السترة السهم وفي الذخيرة طول السهم ذراع وعرضه قدر أصبع“

ترجمہ :شیخ الاسلام نے اپنی کتاب مبسوط میں ابو جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنے والی روایت کے تحت ذکر کیا ہے کہ عنزہ یعنی نیزہ کی مقدار لمبائی کے اعتبار سے ایک ذراع ( ہاتھ) اور موٹائی کے اعتبار سے ایک انگلی کے برابر ہوتی ہے اور اس کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ سترہ کے لیے سہم کافی ہوتا ہے اور ذخیرہ میں ہے کہ سہم کی مقدار لمبائی کے اعتبار سے ایک ذراع یعنی ہاتھ اور چوڑائی کے اعتبار سے انگلی کے برابر ہے۔(عمدة القاري شرح صحيح البخاری٬ جلد 4 ٬صفحہ277 ٬ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

فتاوی ھندیہ میں ہے:

”‌وينبغي ‌لمن ‌يصلي ‌في ‌الصحراء أن يتخذ أمامه سترة طولها ذراع وغلظها غلظ الأصبع ويقرب من السترة ويجعلها على حاجبه الأيمن أو الأيسر والأيمن أفضل. هكذا في التبيين“

ترجمہ:”صحراء میں نماز پڑھنے والے کے لیے مناسب ہے کہ اپنے سامنے ایک سترہ رکھے، جس کی لمبائی ایک ہاتھ (ذراع) ہو اور موٹائی ایک انگلی کے برابر ہو۔ وہ سترہ کے قریب کھڑا ہو اور اسے اپنے دائیں یا بائیں ابرو کے سامنے رکھے، اور دائیں جانب رکھنا افضل ہے۔ یہی بات التبیین میں ہے۔(فتاوی ہندیہ٬ کتاب الصلاۃ ، الفصل الأول مایفسدھا٬ جلد1، صفحہ104 ٬مطبوعہ دار الفکر بیروت)

درمختار میں ہے:

”مرور مار في الصحراء اوفى مسجد كبير بموضع سجوده فى الاصح“

ترجمہ:نمازی کے آگے سے صحرا اور بڑی مسجد میں گزرنا اصح قول کے مطابق اس کی سجدہ کی جگہ سے گزرنا ہے۔(درمختار٬ باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها٬جلد 1 ٬صفحہ91 ٬ مطبوعه مجتبائی دہلی، بھارت)

ردالمحتار میں ہے:

”في النھایۃ والفتح انه قدر ما يقع بصره على المار لوصلى بخشوع اى راميا ببصره الى موضع سجوده مختصرا“

ترجمہ:نہایہ اور فتح میں ہے کہ اس کی مقدار یہ ہے کہ خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نمازی کی نظر گزرنے والے پر پڑے، اور خشوع سے مراد یہ ہے کہ وہ سجدہ کی جگہ دیکھنے کا ارادہ کئے ہوئے ہو۔(ردالمحتار٬ باب ما يفسد الصلوة وما يكر وفيها٬جلد 1 ٬ صفحہ 469 ٬ مطبوعه مصطفی البابی مصر)

منحۃ الخالق حاشیہ البحر الرائق میں ہے :

”الصحيح مقدار منتهى بصره وهو موضع سجودہ وقال ابو نصر رحمة الله تعالى علیه مقدار ما بین الصف الأول وبين مقام الامام وهذا عين الأول ولكن بعبارة اخرى قال رضى الله تعالى عنه وفيما قرأنا علی شيخنا منهاج الائمة رحمه الله تعالى ان يمر بحيث يقع بصره وهو يصلى صلاة الخاشعين وهذه العبارة اوضح“

ترجمہ:صحیح یہ ہے کہ اس کی مقدار نمازی کی انتہاء نگاہ ہے اور وہ اس کے سجدہ کی جگہ ہے۔ ابو نصر نے فرمایا کہ اس کی مقدار صف اول اور امام کی درمیانی جگہ ہے اور یہ پہلے کے عین مطابق ہے البتہ دوسرے الفاظ میں ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اپنے شیخ منہاج الائمہ رحمہ اللہ تعالی سے جو پڑھا وہ یہ ہے کہ نمازی خشوع والوں کی نماز ادا كر رہا ہے اس کی نگاہ گزرنے والے پر پڑ سکتی ہے، اور یہ عبارت نہایت ہی واضح ہے۔ (منحۃ الخالق حاشیة البحر الرائق٬ باب ما يفسد الصلوة و ما یکره فیها٬جلد 2 ٬صفحہ15 ٬ مطبوعہ سعید کمپنی کراچی)

فتاوی تاتارخانیہ میں مسجد کبیر میں نمازی کے آگے سے گزرنے کے حوالے سے ہے:

” فی مقدار ما یجب أن یکون المصلی والمار حتی لا یکره المرور….. ومنهم من قدره بقدر صفین أو ثلاثة“

ترجمہ: اس (فاصلہ) کی مقدار کے بارے میں کہ نمازی اور گزرنے والے کے درمیان کتنی مقدار ہونی چاہیے تاکہ گزرنا مکروہ نہ ہو… بعض فقہاء نے اس(نمازی کے آگے سے گزرنے)کا اندازہ دو یا تین صفوں کی مقدار کے برابر لگایا ہے۔(فتاوی تاتارخانیہ٬کتاب الصلوۃ٬ الفصل التاسع فی المار بین یدی المصلی٬جلد2 ٬صفحہ 285 ٬ مطبوعہ مکتبہ زکریا ہند)

ردالمحتار علی الدرالمختار میں علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

”ثم رأيت في حاشية المدني عن جواهر الفتاوى أن قاضي خان سئل عن ذلك، فقال: اختلفوا فيه، فقدره بعضهم بستين ذراعا، وبعضهم قال: إن كانت أربعين ذراعا فهي كبيرة وإلا فصغيرة، هذا هو المختار. اهـ“

ترجمہ: پھر میں نے حاشیہ مدنی میں، جواہر الفتاویٰ کے حوالے سے دیکھا کہ امام قاضی خان رحمہ اللہ تعالی سے اس (مسجد کبیر کے) بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض نے اس کی مقدار ساٹھ ہاتھ بتائی ہے، اور بعض نے کہا: اگر وہ چالیس ہاتھ ہو تو مسجد کبیر ہے، ورنہ مسجد صغیر اور یہی قول مختار ہے۔(ردالمحتار علی الدرالمختار٬ کتاب الصلاۃ، باب الإمامة،جلد 1،صفحہ 585،مطبوعہ سعید کمپنی)

امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتےہیں:

”مسجد كبير صرف وہ ہے جس میں مثلِ صحرا اتصال صفوف شرط ہے جیسے مسجد خوارزم کل سوله بزار ستون پر ہے باقی عام مساجد اگرچه دس ہزار گز مکسر ہوں مسجد صغیر ہیں اور ان میں دیوار قبلہ تک بلا حائل مرور ناجائز۔“ (فتاوی رضویہ، جلد7 ٬صفحہ257 ، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن،لاہور)

شرعی کونسل آف بریلی شریف کے فیصلے میں ہے:

”بعض فقہاء کرام کا قول مختار یہ ہے کہ 60 گز وسیع و عریض مسجد، مسجد کبیر ہے مگر اعلی حضرت کا مختار یہ ہے کہ جو مسجد نہایت وسیع و عریض جس میں مثل صحراء اتصال صفوف شرط ہے ، جیسے مسجد قدس اور مسجد خوارزم ہے ، ان کے علاوه مسجدیں، مسجد صغیر ہیں۔ باتفاق رائے یہ طے ہوا کہ اب مسجد نبوی اور مسجد حرام، مسجد کبیر ہوگئی ہیں کہ اعلی حضرت نے جامع قدس کو مسجد کبیر مانا جس کا کل رقبہ 144000 (ایک لاکھ چوالیس ہزار )میٹر ہے اور مسجد نبوی اور مسجد حرام کا کل رقبہ جامع قدس کے رقبہ سے کئی گنا زائد ہے کیونکہ مسجد حرام کا کل رقبہ 356000 (تین لاکھ چھپن ہزار)مربع میٹر ہے اور مسجد نبوی کا کل رقبہ365000 (تین لاکھ پینسٹھ ہزار) مربع میٹر ہے تو یہ دونوں مسجدیں بدرجہ اولی مسجد کبیر ہیں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔“ (پندرہواں سالانہ فقہی سیمینار شرعی کونسل آف انڈیا ، بریلی شریف )

بہار شریعت میں ہے:

” میدان اور بڑی مسجد میں مصلّی کے قدم سے موضع سجود تک گزرنا ناجائز ہے۔ موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کرے تو جتنی دور تک نگاہ پھیلے وہ موضع سجود ہے اس کے درمیان سے گزرنا ناجائز ہے۔“(بہار شریعت٬نماز فاسد کرنے والی چیزوں کا بیان٬ جلد 1 ٬حصہ3 ٬ صفحہ619 ٬مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:

”ذكر في حاشية المدني لا يمنع المار داخل الكعبة وخلف المقام وحاشية المطاف، لما روى أحمد وأبو داود عن «المطلب بن أبي وداعة أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي مما يلي باب بني سهم والناس يمرون بين يديه وليس بينهما سترة» وهو محمول على الطائفين فيما يظهر لأن الطواف صلاة، فصار كمن بين يديه صفوف من المصلين انتهى“

ترجمہ:حاشیہ مدنی میں ذکر کیا گیا ہے کہ کعبہ کے اندر اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے، اور مطاف (طواف کی جگہ) کی حدود میں گزرنے والے کو (نمازی کے سامنے سے) گزرنے سے منع نہیں ہے، کیونکہ امام احمد اور امام ابوداود نے مطلب بن أبی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی سہم کے دروازے کے قریب نماز پڑھتے دیکھا، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزر رہے تھے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے درمیان کوئی سترہ (آڑ) نہ تھی۔یہ روایت بظاہر طواف کرنے والوں کے بارے میں ہے، کیونکہ طواف بھی نماز ہی کی مانند ہے،لہٰذا یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے نمازی کے سامنے دوسرے نمازیوں کی صفیں ہوں۔” کلام ختم ہوا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ٬ جلد 1 ٬صفحہ 635 ٬مطبوعہ دار الفکر بیروت )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

محمد عرفان مدنی قصوری

16 صفرالمظفر 1447ھ بمطابق 11 اگست 2025ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں