مسجد کی صحیح اور ناکارہ چیز کا حکم

مسجد کی صحیح اور ناکارہ چیز کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی مسجد میں ایک شخص نے نئے پنکھے لگوادیے ہیں، اب پرانے پنکھے اضافی ہیں نہ استعمال ہورہے ہیں نہ مستقبل میں استعمال ہونے کی کوئی صورت ہے اور پڑے پڑے خراب ہونے کا خدشہ ہے ،تو کیا ان پنکھوں کو فروخت کرنا جائز ہے ؟یونہی اگر مسجد کی کوئی چیز ناکارہ ہوجائے تو اسکے احکام کیا ہوں گے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لاجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایت الحق والصواب

صورت مسئولہ کا حکم شرعی یہ ہے کہ جب مسجد کے پرانے پنکھے صحیح چل رہے تھے تو ان کو یوں اتروا کر نئے لگوالینا ہی درست نہیں ہے۔ پھر جو پرانے پنکھے مسجد کے چندے سے لگوائے گئے تھے تو انکو فروخت کرکے ان سے حاصل ہونے والی رقم مسجد کے دوسرے کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں۔ لیکن جو پنکھے کسی شخص نے لگوائے تھے اگر وہ ناکارہ نہیں ہوئے لیکن استعمال نہیں بھی ہونے کی امید نہیں اور پڑے پڑے خراب ہونے کا خدشہ ہے تو اسے بھی بیچ کر رقم مسجد کے چندے میں شامل کرلیں گے کہ وقف کی چیز جب تک قابل استعمال ہو وہ واقف کی ملکیت واپس نہیں جاتی ہے بلکہ وقف کے ادارے ہی کی ہوتی ہے۔ البتہ اگروہ پنکھے یا کوئی بھی چیزناکارہ ہو جائے تو واقف کو واپس کرنا ہوتی ہے یا اسکی اجازت سے فروخت کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ واقف فوت ہوگیا ہو اور اس کے وارث بھی نہیں مل رہے تو اس ناکارہ چیز کا حکم لقطہ کا ہے،اسے صدقہ کریں گےیا بیچ کر اس کی رقم مسجد میں لگادیں گے۔

فتح القدیر میں ہے:

” ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺤﺼﻴﺮ ﻭاﻟﻘﻨﺪﻳﻞ ﻓﺎﻟﺼﺤﻴﺢ ﻣﻦ ﻣﺬﻫﺐ ﺃﺑﻲ ﻳﻮﺳﻒ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻌﻮﺩ ﺇﻟﻰ ﻣﻠﻚ ﻣﺘﺨﺬﻩ ﺑﻞ ﻳﺤﻮﻝ ﺇﻟﻰ ﻣﺴﺠﺪ ﺁﺧﺮ ﺃﻭ ﻳﺒﻴﻌﻪ ﻗﻴﻢ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﻠﻤﺴﺠﺪ، ﻭﻷﻧﻪ ﻣﺎ ﺟﻌﻠﻪ ﻣﺴﺠﺪا ﻟﻴﺼﻠﻲ ﻓﻴﻪ ﺃﻫﻞ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻻ ﻏﻴﺮ ﺑﻞ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﻴﻪ اﻟﻌﺎﻣﺔ ﻣﻄﻠﻘﺎ ﺃﻫﻞ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﻢ“

ترجمہ:رہی بات چٹائی (حصیر) اور قندیل (چراغ) کی، تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے صحیح قول کے مطابق یہ چیزیں اس کے مالک کی ملکیت میں واپس نہیں جاتیں، بلکہ انہیں کسی اور مسجد کی طرف منتقل کر دیا جائے یا مسجد کا متولی ان کو مسجد کے فائدے کے لیے بیچ دے، کیونکہ ان چیزوں کو مسجد کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ان میں اس محلے کے لوگ نماز پڑھیں، نہ کہ کسی خاص فرد کے لیے، بلکہ ان میں عام طور پر سب لوگ نماز پڑھتے ہیں، چاہے وہ اسی محلے کے ہوں یا کسی اور جگہ کے۔

(فتح القدیر ،کتاب الوقف ،فصلﺇﺫا ﺑﻨﻰ ﻣﺴﺠﺪا ﻟﻢ ﻳﺰﻝ ﻣﻠﻜﻪ ﻋﻨﻪ،جلد6صفحہ237مطبوعہ مکتبہ دارالفکر)

ردالمختار میں ہے:

”اﻟﺤﺎﻛﻢ ﺃﻭ اﻟﻤﺘﻮﻟﻲ ﺣﺎﻭﻱ (ﻧﻘﻀﻪ) ﺃﻭ ﺛﻤﻨﻪ ﺇﻥ ﺗﻌﺬﺭ ﺇﻋﺎﺩﺓ ﻋﻴﻨﻪ (ﺇﻟﻰ ﻋﻤﺎﺭﺗﻪ ﺇﻥ اﺣﺘﺎﺝ ﻭﺇﻻ ﺣﻔﻈﻪ ﻟﻪ ﻟﻴﺤﺘﺎﺝ) ﺇﻻ ﺇﺫا ﺧﺎﻑ ﺿﻴﺎﻋﻪ ﻓﻴﺒﻴﻌﻪ ﻭﻳﻤﺴﻚ ﺛﻤﻨﻪ ﻟﻴﺤﺘﺎﺝ“

ترجمہ:قاضی یا متولی وقف شدہ چیز کو (اگر وہ خراب ہو جائے) یا اس کی قیمت کو محفوظ رکھے، اگر اس چیز کو اصل حالت میں واپس لانا ممکن نہ ہو؛ پھر اگر وقف کی عمارت کو اس کی ضرورت ہو تو اس میں خرچ کرے، اور اگر فوری ضرورت نہ ہو تو قیمت کو محفوظ رکھے یہاں تک کہ ضرورت پیش آئے الا یہ کہ اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، تو وہ اسے بیچ دے اور اس کی قیمت کو محفوظ رکھے تاکہ وقتِ ضرورت خرچ کرے۔(رد المحتار ،کتاب الوقف ،فصلﻓﻲ اﻟﻮﻗﻒ ﺇﺫا ﺧﺮﺏ ﻭﻟﻢ ﻳﻤﻜﻦ ﻋﻤﺎﺭﺗﻪ،جلد4صفحہ376مطبوعہ مکتبہ دارالفکر بیرت)

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

” قال محمد في القناديل سوى في رواية إبراهيم بين القناديل والبواري.بوارى المسجد إذا صارت خلقا واستغنى أهل المسجد عنها وقد طرحها إنسان، فإن كان الذي طرحها حيا فهى له، وإن كان ميتا ولم يدع وارثا أرجو أن لا بأس بأن يدفع أهل المسجد إلى فقير أو يبيعوه ويشتروا بثمنه حصيرا، ويكون حكمه حكم اللقطة، قال الصدر الشهيد: هكذا ذكر الفقيه أبو الليث في فتاواه، قال: والفتوى على أنه لا يجوز إذا فعلوا ذلك من غير أمر القاضي، وفي المنتقى بوارى المسجد إذا خلقت فصارت لا ينتفع بها، فأراد الذي بسطها أن يأخذها ويتصدق بها ويشترى مكانها فله ذلك، وإن كان هو غائبا فأراد أهل المحلة أن يأخذوا البوارى فتصدقوا بها بعد ما خلقت لم يكن لهم ذلك إن كان لها قيمة، وإن لم يكن لها قيمة فلا بأس بذلك“

ترجمہ: محمد رحمہ اللہ نے قندیلوں (چراغ دانوں) کے بارے میں بھی یہی کہا۔ابراہیم کی روایت میں قندیل اور بوریاں دونوں کے حکم کو برابر رکھا گیا۔مسجد کی بوریاں جب پرانی ہو جائیں اور اہل مسجد انہیں چھوڑ دیں، اور کوئی شخص انہیں پہلے سے وہاں رکھ چکا ہو:اگر وہ شخص زندہ ہو، تو بوریاں اسی کی ہیں۔اگر وہ مر چکا ہو اور اس نے کوئی وارث نہ چھوڑا ہو، تو امید ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ اہل مسجد انہیں کسی فقیر کو دے دیں یا بیچ کر ان کی قیمت سے نئی چٹائی خرید لیں۔اس کا حکم “لقطہ” (گم شدہ مال) کے حکم کے مطابق ہوگا۔صدر الشهید نے کہا کہ: فقیہ ابو اللیث نے اپنی فتاویٰ میں یہی ذکر کیا، لیکن فتویٰ یہ ہے کہ اگر یہ کام بغیر قاضی کے حکم کے کریں تو جائز نہیں۔المنتقى میں ہے:جب مسجد کی بوریاں پرانی ہو جائیں کہ ان سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے،تو اگر وہ شخص جس نے انہیں بچھایا ہے، چاہے کہ انہیں صدقہ دے دے یا ان کی جگہ نئی خریدے، تو وہ کر سکتا ہے۔لیکن اگر وہ شخص غائب ہو، اور اہل محلہ ان بوریوں کو لے کر صدقہ کرنا چاہیں،تو جب تک ان کی کچھ قیمت باقی ہو، انہیں یہ اجازت نہیں۔البتہ اگر ان کی کوئی قیمت نہ رہے، تو ان کا صدقہ کرنے یا ہٹانے میں کوئی حرج نہیں۔(الفتاوى التاتارخانية” کتاب الوقف، فصل: مسائل وقف المساجد جلد 8 صفحہ 168مطبوعہ مکتبہ زکریا ہند)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”آلات مسجد : یعنی مسجد کا اسباب جیسے بوریا، مصلی، فرش، قندیل، وہ گھاس کہ گرمی کے لئے جاڑوں میں بچھائی جاتی ہے وغیر ذلک، اگر سالم و قابل انتفاع ہیں اور مسجد کو ان کی طرف حاجت ہے تو ان کے بچنے کی اجازت نہیں، اور اگر خراب و بیکار ہو گئی یا معاذ اللہ بوجہ ویرانی مسجد ان کی حاجت نہ رہی، تو اگر مال مسجد سے ہیں تو متولی ، اور متولی نہ ہو تو اہل محلہ متدین امین باذن قاضی بیچ سکتے ہیں، اور اگر کسی شخص نے اپنے مال سے مسجد کو دئے تھے تو مذہب مفتی بہ پر اس کی ملک کی طرف عود کرے گی جو وہ چاہے کرے، وہ نہ رہا ہو اور اس کے وارث وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتا نہ ہو تو ان کا حکم مثل لفظ ہے، کسی فقیر کو دے دیں، خواہ باذن قاضی کسی مسجد میں صرف کر دیں۔“(فتاویٰ رضویہ ،جلد16صفحہ265مطبع رضا فائونڈیشن لاہور )

فتاوی بحر العلوم میں سوال ہوا:

’’زید نے ایک لاؤڈ اسپیکر کا سیٹ مسجد مدرسہ اور مجالس خیرکیلئے مشترکہ طور پر وقف کیا مسجد میں پہلے سے لاؤڈ اسپیکر موجود تھا جو صرف مسجد میں مستعمل تھا زید کے وقف کردہ لاؤڈ اسپیکر کے بعد رائے یہ ہورہی ہے کہ مسجد کا پرانا لاؤڈ اسپیکر مدرسہ میں کردیا جائے اور نیا سیٹ مسجد میں کردیا جائے کیا از روئے شرع ایسا کرنا جائز ہے؟نیز نئے لاؤڈ اسپیکر کو وقتا فوقتا مدرسہ اور مجالس خیر کیلئے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جوابا فرمایا:

” سائل کے بیان سے ظاہر ہے کہ مسجد میں پہلے سے جو لاؤڈ اسپیکر موجود تھا وہ مسجد کیلئے خاص تھا توشرعا اب اسے کسی دوسرے مدرسہ یا مسجد میں پر دیا نہیں جاسکتا تمام فقہ کی کتابوں میں یہ تصریح ہے : لا یجوز تغیر الوقف من ھیئتہ (عالمگیری ج۲/۵۱۶)اور زید نے جو سیٹ وقف کیا وہ مسجد مدرسہ اور مجالس خیر کیلئے مشترکہ طور سے دیا ہے تو مسجد کا کام اس لاؤڈ اسپیکر سے بھی چلے گا ایسی صورت میں آپ مسجد کا کام نئے لاؤڈ اسپیکر سے بھی چلائیے مگر پرانے لاؤڈ اسپیکر کو بھی مسجد کے لئے ہی محفوظ رکھئے اور اگر رکھنے سے اسکے خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کو مناسب دام پر کسی کے ہاتھ بیچ دیجئے اور اسکی قیمت کی رقم بینک میں محفوظ کردیجئے یا کسی امانت دار اور ایمان دار کے پاس رکھ دیجئے اور جب کبھی ضرورت پڑے تو مسجد کے لئے لاؤڈ اسپیکر کی ہی مد میں اسے صرف کیجئے بہار شریعت حصہ دوم صفحہ۶۱میں عالمگیری کے حوالہ سے ہے کہ ـ:پہلے کا بچا ہوا سامان اگریہ خیال ہو کہ آئندہ ضرورت کے وقت اِسی وقف میں کام آسکتا ہے جب تو محفوظ رکھا جائے ورنہ فروخت کرکے قیمت کو مرمت میں صرف کریں اور اگر رکھ چھوڑ نے میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے جب بھی فروخت کر ڈالیں اور قیمت کو محفوظ رکھیں ۔‘‘ (فتاوی بحر العلوم ،جلد5، صفحہ109،شیبر بردارز،لاہور)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

کتبہ

مولانا محمد طارق قادری(ممبر فقہ کورس)

2صفر المظفر 1447پیر 28جولائ2025

نظرثانی وترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں