عورت کا اذان و اقامت پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت اذان و اقامت کہہ سکتی ہے یا نہیں رہنمائی فرما دیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
پوچھی گئی صورت کا حکم شرعی یہ کہ عورت کا اذان و اقامت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اگر پڑھے گی تو گنہگار ہونگی،کیونکہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اوراگر وہ آہستہ پڑھے گی کہ لوگ نہ سنیں تو اس صورت میں اعلام کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
نور الایضاح میں ہے:
”سن الاذان والاقامۃ سنۃ مؤکدۃ للفرائض ۔۔۔ و کرھا للنساء“
ترجمہ: فرض نمازوں کیلئے اذان اور اقامت سنت مؤکدہ ہے۔۔۔ اور عورتوں کیلئے یہ دونوں مکروہ ہے۔(نور الایضاح، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، صفحہ118،117، مطبوعہ مکتبہ المدینہ دعوت اسلامی)
اسی کے تحت مراقی الفلاح میں ہے:
”(کرھا)ای: الاذان والاقامۃ (للنساء) لما روی عن ابن عمر من کراھتھما لھن“
ترجمہ: یہ دونوں مکروہ ہیں یعنی اذان و اقامت عورتوں کیلئے کیونکہ حضرت عمر سے روایت ہے کہ یہ دونوں عورتوں کیلئے مکروہ ہیں۔(مراقی الفلاح، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، صفحہ118،117، مطبوعہ مکتبہ المدینہ دعوت اسلامی)
نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:
”یکرہ(اذان الجنب۔۔۔و امراۃ) لانھا ان خفضت صوتھا اخلت بالاعلام وان رفعتہ ارتکبت معصیۃ! لانہ عورۃ“
ترجمہ: مکروہ ہے(اذان دینا جنبی کا۔۔۔ اور عورت کا) کیونکہ اگر وہ اپنی اواز کو پست کریں گی تو اعلام میں خلل پڑے گا اور اگر وہ بلند کریں گی تو گناہ کا ارتکاب ہوگا کیونکہ بے شک وہ پردہ ہے۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب لاذان، صفحہ120، مطبوعہ مکتبہ المدینہ دعوت اسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”و لیس علی النساء اذان ولا اقامۃ فان صلین بجماعۃ یصلین بغیر اذان واقامۃ وان صلین بھما جازت صلاتھن مع الاساءۃ“ ترجمہ:عورتوں پر اذان اور اقامت نہیں اگر وہ جماعت سے پڑھیں تو بغیر اذان و اقامت کے پڑھیں اگر اذان و اقامت کہیں تو اسائت کے ساتھ نماز جائز ہو جائے گی۔(فتاوی ہندیہ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی فی الاذان، الفصل الثانی، جلد1، صفحہ60، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتاوی شرعیہ:
”عورت، مجنون، نشہ سے مدہوش اور نا سمجھ بچہ کا اذان دینا مکروہ ہے۔“(فتاوی شرعیہ، کتاب الصلوۃ، جلد1، صفحہ303، مطبوعہ شبیر برادرز)
بہار شریعت میں ہے:
” عورتیں اپنی نماز ادا پڑھتی ہوں یا قضا، اس میں اذان و اقامت مکروہ ہے، اگرچہ جماعت سے پڑھیں۔“(بہار شریعت، اذان کا بیان، جلد1، حصہ3، صفحہ 466، مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
فیضان فرض علوم میں ہے:
”عورتوں کو اذان و اقامت کہنا مکروہ تحریمی ہے، کہیں گی تو گنہگار ہونگی اور اعادہ کیا جائے گا۔“(فیضان فرض علوم، کتاب الصلوۃ، اذان و اقامت کا بیان، صفحہ297،298، مطبوعہ مکتبہ امام اہلسنت)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ و سلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
19محروم الحرام1447ھ بمطابق/14جولائی2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری