دس محرم کو رزق میں وسعت کرنے والی حدیث کی صحت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 10 محرم الحرام کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: جو یوم عاشورہ(دس محرم)کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں وسعت کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی سارا سال اس کے رزق میں وسعت یعنی کشادگی عطا فرماتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث محض موضوع(من گھڑت)ہے اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیا یہ بات درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرما دیجئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ دس محرم الحرام کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے والی حدیث جھوٹی ہے کیونکہ کئی جلیل القدر صحابہ کرام نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور محدثین نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور اپنا تجربہ بیان فرمایا کہ ہم نے حدیث پر عمل کیا تو بالکل ایسا ہی فائدہ ہوا جیسا حضور علیہ السلام نے فرمایا۔بعض محدثین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس عنوان پر روایت ہونے والی حدیث کا ضعف بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن کثرت طرق(کئی سندوں) کے ساتھ روایت ہونے کی وجہ سے تقویت حاصل کر گئی ہے اس وجہ سے یہ حدیث قابل استدلال ہے۔
المعجم الاوسط میں حدیث پاک ہے:
عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وسع على أهله في يوم عاشوراء أوسع الله عليه سنته كلها»
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے عاشوراء کے دن اپنے گھر والوں پر وسعت (یعنی کشادگی) کی، اللہ تعالیٰ اُس پر سارا سال وسعت فرما دیتا ہے۔(المعجم الأوسط للطبراني، جلد 9، صفحہ121، مطبوعہ دار الحرمین)
مشکوۃ المصابیح میں حدیث پاک ہے:
”وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وسع على عياله في النفقة يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته» . قال سفيان: إنا قد جربناه فوجدناه كذلك. رواه رزين“
ترجمہ:”حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«جس نے عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر (رزق و خرچ میں) وسعت کی، اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائے گا۔امام سفیان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ہم نے اس کو آزمایا تو اسی طرح پایا۔ اسے امام رزین نے روایت کیا۔(مشکوۃ المصابیح ٬ کتاب الزکوۃ، باب فضل الصدقۃ، الفصل الثالث، جلد 1، صفحہ 601، مطبوعہ سعید کمپنی)
علامہ ابن عبد البر علیہ الرحمۃ (متوفی 463)اپنی کتاب ”الاستذکار” میں فرماتے ہیں:
”عن جابر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من وسع على نفسه وأهله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته. . . قال جابر جربناه فوجدناه كذلك. . . . وقال أبو الزبير وقال شعبة مثله۔۔۔قال يحيى بن سعيد جربنا ذلك فوجدناه حقا… قال سفيان جربنا ذلك فوجدناه كذلك“
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص عاشورے کے دن اپنے اور اپنے اہل پر (رزق میں) کشادگی کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے لیے کشادگی فرما دے گا۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا اسی طرح کا قول حضرت ابو زبیر، امام شعبہ،امام یحیی بن سعید، امام سفیان رحمہم اللہ تعالیٰ کا ہے۔(الاستذكار، كتاب الصيام، باب صوم يوم الفطر، جلد 3، صفحہ 331، دار الكتب العلمية بيروت)
امام جلال الدین سیوطى فرماتے ہیں:
”(حديث) مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ” قال الدارقطني : لا يثبت ، إنما هو من كلام محمد بن المنتشر. قلت: كلا بل هو ثابت صحیح“
ترجمہ:حدیث کہ جس شخص نے عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر کشادگی کی، اللہ تعالیٰ اس پر ساری سال کشادگی فرماتا ہے۔امام دارقطنی نے کہا: یہ حدیث ثابت نہیں بلکہ یہ محمد بن المنتشر کا قول ہے۔(امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں: “نہیں، بلکہ یہ حدیث ثابت اور صحیح ہے۔”( الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة، صفحہ 186، مطبوعہ عمادۃ شؤون المکتبات)
الدررالمنتثرہ میں مزید امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
”قال : وله طريق عن جابر على شرط مسلم أخرجها ابن عبد البر في الاستذكار من رواية أبي الزبير عنه، وهي أصح طرقه “
ترجمہ:اس حدیث کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک سند ہے جو امام مسلم کی شرط پر پوری اُترتی ہے، اور اسے ابن عبد البر نے الاستذکار میں ابو الزبیر کے واسطے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہی اس حدیث کی سب سے صحیح سند ہے۔( الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة، صفحہ 186، مطبوعہ عمادۃ شؤون المکتبات)
ابوزرعه عراقی فرماتے ہیں:
”قال عن رواية ابي الزبير عن جابر : ” وَأَقَلُّ أَحْوَالِ هَذَا الطَّرِيقِ أَنْ يَكُونَ حَسَنًا ، وَحُكْمُهُ حُكْمُ الصَّحِيحِ فِي الاحتجاج به “
ترجمہ:ابو الزبیر کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں فرمایا: اس سند کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ یہ حسن ہے، اور اس کا حکم (یعنی حیثیت) حجت میں صحیح حدیث کی طرح ہے۔(التوسعة على العيال لأبي زرعة، صفحہ 4 ٬ مطبوعہ مخطوط الکتاب ٬ شاملہ)
ردلمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
”وحديث التوسعة على العيال يوم عاشوراء صحيح وحديث الاكتحال فيه ضعيفة لا موضوعة كما زعمه ابن عبد العزيز. (قوله: وحديث التوسعة إلخ) وهو «من وسع على عياله يوم عاشوراء وسع الله عليه السنة كلها» قال جابر: جربته أربعين عاما فلم يتخلف“
ترجمہ:اور اہل و عیال پر عاشوراء کے دن وسعت کرنے کی حدیث صحیح ہے، اور اسی دن سرمہ لگانے کی حدیث ضعیف ہے، موضوع (من گھڑت) نہیں جیسا کہ ابن عبدالعزیز نے گمان کیا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: «جس نے عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر وسعت کی، اللہ تعالیٰ سال بھر اس پر وسعت فرمائے گا۔»حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے چالیس سال اس کو آزمایا تو کبھی خلاف نہیں پایا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ٬کتاب الصوم، جلد 3، صفحہ 459، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ شامی علیہ الرحمۃ مزید فرماتے ہیں:
”نعم حديث التوسعة ثابت صحيح كما قال الحافظ السيوطي في الدرر“
ترجمہ:جی ہاں، یومِ عاشوراء میں (اہل و عیال پر) فراخی کرنے کی حدیث ثابت اور صحیح ہے، جیسا کہ امام حافظ سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے “الدرر”میں فرمایا ہے۔”(ردالمحتار علی الدرالمختار٬ کتاب الصوم ٬ جلد 2 ٬ صفحہ 374 ٬مطبوعہ سعید کمپنی)
حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
”بال بچوں کے لئے دسویں (10) محرم کو خوب اچّھے اچّھے کھانے پکائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی، بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا) پکا کر حضرت شہیدِ کربلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرے بہت مُجَرَّب (آزمایا ہوا) ہے، اسی تا ریخ کو غسل کرے تو تمام سال اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بیماریوں سے اَمْن میں رہے گا کیونکہ اس دن آبِ زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔“(اسلامی زندگی، صفحہ131 ٬مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
الجامع لشعب الایمان میں حدیث پاک ہے:
”عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال من وسع على عیاله وأهله یوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنتہ.هذه الأسانيد وإن كانت ضعيفة فهي إذا ضم بعضها إلى بعض أخذت قوة، والله أعلم“
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر فراخی کرے، اللہ تعالیٰ اُس پر سارا سال فراخی فرماتا ہے۔”
(امام بیہقی اس عنوان پر روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں)ان روایات کی اسناد اگرچہ ضعیف ہیں لیکن جب ان تمام اسانید کو جمع کیا جائے تو یہ حدیث قوت حاصل کرتی ہے. واللہ اعلم۔(الجامع لشعب الایمان ٬جلد 5 ٬صفحہ 333 ٬مطبوعہ مکتبۃ الرشد ناشرون)
المقاصد الحسنۃ میں ہے:
”قال العراقي في أماليه : ” لحديث أبي هريرة طرقٌ، صحح بعضَها ابن ناصر الحافظ “
ترجمہ:امام عراقی نے اپنی کتاب “امالی” میں فرمایا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کے متعدد طرق (أسناد) ہیں، جن میں سے بعض کو حافظ ابن ناصر نے صحیح قرار دیا ہے۔ (المقاصد الحسنة٬ صفحہ: 674 ٬ مکتبۃ الرشد ،رالریاض)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
محمد عرفان مدنی قصوری
10 محرم الحرام 1447ھ بمطابق 6 جولائی 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری