ماتم کرنے والوں کیلئے چھریاں تیز کرنا اور ان پر اجرت لینا کیسا؟

ماتم کرنے والوں کیلئے چھریاں تیز کرنا اور ان پر اجرت لینا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ماتم کرنے والوں کے لیے چھریاں تیز کرنا اور ان پر اجرت لینا کیسا ہے؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

ماتم میں خود کو نقصان پہنچایا اور ہلاکت پر پیش کیا جاتا ہے جوکہ شرعا ناجائز و حرام ہے۔ماتم کی مذمت پر کثیر احادیث ہیں۔رسول اللهﷺ سے جب فقط اپنی گالوں کو پیٹنے والے کے متعلق سخت وعید ہے تو جو شخص خود کو چھریوں اور زنجیروں کے ذریعے زخمی کرتا اور تکلیف پہنچاتا ہے اس پر تو بدرجہ اولیٰ زیادہ وبال ہے۔لہذا ایسے ناجائز کام پر تعاون کرتے ہوئے مفت یا اجرت پرچھریاں تیز کرکے دیناناجائز وحرام ہے۔

الله پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

”وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“

ترجمہ: خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مبتلا مت کرو۔(پارہ:02، سورۃ البقرۃ، جزء آیت:195)

ایک مقام پر الله پاک ارشاد فرماتا ہے:

”وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللہِ اِنَّ اللہ شَدِیْدُ الْعِقَابِ“

ترجمہ: اور گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور الله سے ڈرو بے شک الله سخت ترین عذاب دینے والا ہے۔(پارہ:06، سورۃ المائدۃ، جزء آیت:02)

حدیث شریف میں ہے:

”قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ:‏‏‏‏ ضَرَبَ الْخُدُودَ،‏‏‏‏ وَشَقَّ الْجُيُوبَ،‏‏‏‏ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ“

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص گالوں کو پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت والا چیخ و پکار کرے وہ ہم میں سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1298)

فتاوی عالمگیری ہے

’’النوح العالی لایجوز‘‘ (فتاوی ہندیہ،ج1،ص167،نورانی کتب خانہ،پشاور)

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” ماتم کرنا، چھاتی پیٹنا بھی حرام ہے۔۔۔ یوہیں عَلَم، تعزیے، تخت، جریدے، باجے، کھیل تماشے سب بیہودہ وبدعت وممنوع ہیں۔ یوہیں تعزیہ، چڑھاوا، امام باڑے کا مکان، اس کی نوبت، روشنی، آرائش سب بشرح صدرہیں، غم والم کانام اور لہوولعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امیدخوشنودی حضرت امام۔ اور اس الٹی مت کاکیاٹھکانا کہ یہ توتعزیہ کی وہ تعظیم کہ گویا معاذاﷲ بعینہٖ یہی نعش مبارک حضورپرنور امام عالی مقام ہے بلکہ اس سے بھی زائد، یہاں تک کہ اسے سجدہ کرنے سے بھی باک نہیں۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد24،صفحہ496،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمة فرماتے ہیں:

”گناہ کے کام پر اجارہ ناجائز ہے۔“ (بہارِ شریعت، اجارہ فاسدہ کا بیان، جلد:3، صفحہ:144، مکتبة المدینه، کراچی)

والله تعالیٰ أعلم و رسوله أعلم بالصواب

کتبہ

سید محمد سعود جامی

14 محرم الحرام 1447ھ بمطابق10 جولائی 2025ء

نظرثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں