محرم الحرام میں قربانی کا گوشت کھانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہا جاتا ہے کہ محرم الحرام کے مہینے میں قربانی کا گوشت کھانا جائز نہیں لہذا قربانی کا گوشت محرم الحرام کا مہینہ آنے سے پہلے پہلے ختم کر دینا چاہیے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرما دیجئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کے قربانی کا گوشت محرم الحرام کے مہینے میں بلکہ پورے سال میں کھانا جائز ہے اور یہ کہنا کہ محرم الحرام سے پہلے گوشت ختم کردینا چاہیے اور محرم کے مہینے میں کھانا جائز نہیں یہ بات درست نہیں۔ پہلے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تین دن سے زائد گوشت رکھنے سے منع کیا تھا ، پھر بعد میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کی اجازت عطا فرماتے ہوئے پہلے حکم کو منسوخ فرما دیا تھا۔
صحیح بخاری میں حدیث پاک ہے:
”عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي، قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا، وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا“
ترجمہ:حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔(صحیح بخاری ٬کتاب الاضاحی ٬ باب ما یؤکل من لحوم الاضاحی وما یتزود منھا ٬ صفحہ1041 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے:
” عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ أَکْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ کُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا“
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے تین دنوں کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:تم کھاؤ اور زادراہ بناؤ اور جمع کرو۔(صحیح مسلم ٬ کتاب الاضاحی ٬ صفحہ 784 ٬ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
سنن نسائی میں حدیث پاک ہے:
” عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، وَنَدَّخِرَهُ“
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے، پھر حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے، حضرت ابوسعید نے حضرت قتادہ کو گوشت پیش کیا، تو وہ بولے: کیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے روکا نہیں ہے؟ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی۔(سنن النسائی ٬ کتاب الضحایا ٬صفحہ 718 ٬مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
مسند ابی حنیفہ میں حدیث پاک ہے:
” عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَهَيْنَاكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَقَدْ أُذِنَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي، أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَإِنَّا نَهَيْنَاكُمْ، لِيُوَسِّعَ مُوسِرُكُمْ عَلَى فَقِيرِكُمْ، وَالْآنَ قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا“
ترجمہ:علقمہ، سلیمان بن بریدہ، اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ہم نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، (لیکن) اب محمد ﷺ کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دی گئی ہے، پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو اور کوئی فضول و بیہودہ بات نہ کہو۔ ہم نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ روکنے سے بھی منع کیا تھا اور ہم نے یہ منع اس لیے کیا تھا تاکہ تم میں جو مالدار ہیں وہ اپنے غریبوں پر کشادگی کریں، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے تم پر وسعت کر دی ہے، لہٰذا (اب) تم کھاؤ اور زادِ راہ (یعنی ذخیرہ) بھی بناؤ۔(مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي، كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ وَالْأَشْرِبَةِ وَالشُّرْبِ وَالضَّحَايَا وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ، مطبوعہ الآداب ٬ مصر)
شرح مختصر الطحاوی میں ہے:
”والأصل في جواز الأكل والادخار منها: ما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: “كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث، فكلوا وادخرواوروى ابن عباس عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: “ليأكل كل رجل من أضحيته”…..وقال النبي عليه الصلاة والسلام: “فكلوا وادخروا“
ترجمہ:قربانی کے گوشت کو کھانے اور اس کو ذخیرہ کرنے کے جواز کی اصل دلیل یہ ہے:نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:”میں نے تمہیں پہلے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسےکھاؤ اور ذخیرہ کرو۔”
اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا:”ہر شخص اپنی قربانی سے کھائے۔”
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”پس اس میں سے کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔”(شرح مختصر الطحاوي للجصاص، كتاب الضحايا، جلد 7 ٬صفحہ 337 ٬ مطبوعہ دار البشائر الإسلامية ودار السراج)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
” وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام “
ترجمہ: قربانی کرنے والے کے لئے جائز ہے کہ وہ سارا گوشت اپنے لئے تین دن سے زائد جمع کر کے رکھے۔(فتاوی ھندیۃ، کتاب الأضحیۃ، الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب، جلد 5، صفحہ 300،مطبوعہ دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے اگر اس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کے لیے رکھ چھوڑے۔“(بہار شریعت ٬ قربانی کا بیان٬ حصہ15 ٬جلد3 ٬ صفحہ 347 ٬ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
محمد عرفان مدنی قصوری
3 محرم الحرام1446 ھ بمطابق 29 جون 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری