خود کو مشقت میں ڈال کر روزہ توڑنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کئی سال پہلے ایک اسلامی بہن رمضان کا روزہ رکھ کر شاپنگ کے لئے گئی ،گرمیوں کے دن تھے اور واپس آئی تو طبیعت ان کی خراب تھی چکر آرہے تھے تو انہوں نے پانی پی کر روزہ توڑ دیا،مزید ان کا کہنا ہے کہ ان دنوں میں کمزوری کافی ہوتی تھی اور کبھی کبھار چکر آنے کیوجہ سے بیہوش بھی ہوجایا کرتی تھیں لیکن ان کو یہ یاد نہیں کہ روزہ اس لئے توڑا تھا کہ مزید طبیعت خراب ہونے کی صورت میں بیہوشی کی کیفیت ہوسکتی تھی یا نہیں ،تواس صورت میں کیا ان کو صرف قضا کرنی ہو گی یا کفا رہ بھی دینا ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق وا لصواب
پوچھی گئی صورت کاحکم شرعی یہ ہے کہ اس اسلامی بہن کو روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی دینا ہوگا ،کفارہ لازم ہونے کی دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ روزہ توڑنے کا یقینی شرعی عذر ہی نہیں پایاگیا۔ممکن ہے کہ طبیعت خراب ہونے سےپہلے ہی روزہ توڑ دیا ہو۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ کتب فقہ میں یہ جزئیہ موجود ہے کہ کفارہ اس صورت میں لازم نہیں ہوگا جب روزے دار نے خود کو جان بوجھ کر مشقت میں نہ ڈالا ہو جیسا کہ دررالحکام سے اس کی تائید ملتی ہے اور شاپنگ کرنا کوئی ایسا ضروری کام نہیں تھا کہ جس کیوجہ سے پیاس کی شدت اتنی ہوجائے جس سے روزے کو پورا کرنا مشکل ہو اور سوال میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان دنوں میں ان کو کمزوری کی وجہ سے چکر آنے اور بیہوش ہونے کا مسئلہ بھی تھا تو ایسی صورت میں مزید ان کو احتیاط کرنا لازم تھا کہ شاپنگ کے لئے جاکر اپنے آپ کو مزید مشقت میں نہ ڈالے ،مگر انہوں نے شاپنگ کی جس کیوجہ سے پیاس کی شدت میں چکر آنے لگے اور پانی پی لیا تو یہ سارا عمل چونکہ جان بوجھ کرکیا گیا لہذا کفارہ دینا ہوگا ۔
نیز اس مسئلہ میں احتیاطاً بھی کفارے کا حکم ہوگا کہ عبادات میں احتیاط واجب ہے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
”ومنها المرض، المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر، كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض، والاجتهاد غير مجرد الوهم، بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق، كذا في فتح القدير“
ترجمہ:اور ان (روزہ توڑنے کے شرعی عذر) میں سے ایک بیماری بھی ہے۔پس جو مریض یہ اندیشہ رکھے کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان جانے کا خطرہ ہے، یا کوئی عضو (جسم کا حصہ) ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، تو وہ روزہ توڑ سکتا ہے، اور اس پر اجماع (تمام فقہاء کا اتفاق) ہے۔اور اگر کسی کو بیماری کے بڑھ جانے یا پھیلنے کا اندیشہ ہو، تو ہمارے نزدیک اس صورت میں بھی روزہ توڑنا جائز ہے۔البتہ اگر اس نے روزہ توڑا، تو بعد میں اس کی قضا لازم ہوگی، جیسا کہ کتاب المحیط میں ہے۔پھر اس اندیشے (یعنی روزہ رکھنے سے نقصان کا خدشہ) کا علم مریض کے اجتہاد (سمجھ بوجھ اور غور و فکر) سے ہوگا۔اور اجتہاد کا مطلب صرف وہم (اندازہ) نہیں ہوتا، بلکہ ایسا غالب گمان ہوتا ہے جو کسی نشانی، تجربے یا کسی مسلمان دیندار ڈاکٹر کی رائے پر مبنی ہو، جو ظاہر الفسق (یعنی کھلا فاسق) نہ ہو۔یہ بات فتح القدیر میں لکھی ہے۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الصوم،جلد۱،صفحہ نمبر۲۰۶،دارالفکر،بیروت)
حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں امام احمد بن محمد طحطاوی رحمة اللہ علیہ (متوفی،۱۲۳۱ھ) فرماتے ہیں :
وإن أجهد الإنسان بالشغل نفسه. … فأفطر في التكفير قولين سطروا.قال المؤلف في شرحها صورتها صائم أتعب نفسه في عمل حتى أجهده العطش فأفطر لزمته الكفارة،وقيل لا تلزمه ترجمہ:” اگر کسی انسان نے کام کے ذریعے خود کو تھکا دیا…پھر اُس نے روزہ توڑ دیا،تو کفّارہ کے بارے میں دو قول بیان کیے گئے ہیں۔“مصنف نے اس کی شرح میں فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک روزے دار کسی کام میں ایسا مشغول ہوا کہ اس نے خود کو بہت زیادہ تھکا دیا، یہاں تک کہ اُسے سخت پیاس محسوس ہونے لگی۔ پھر اُس نے روزہ توڑ دیا۔اس بارے میں دو رائے پائی جاتی ہیں:ایک قول یہ ہے کہ ایسے شخص پر کفارہ لازم آتا ہے، کیونکہ اس نے روزہ توڑا ہےاور دوسرا قول یہ کہاگیا ہے کہ کفارہ لازم نہیں ہوگا۔(حاشیة الطحطاوی،کتاب الصوم،صفحہ نمبر۶۶۹،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
البنایہ شرح ہدایہ میں علامہ بدرالدین عینی رحمة اللہ علیہ (متوفی،۷۵۵ھ)فرماتے ہیں:
ولو أتعب نفسه في عمل حتى أجهده العطش فأفطر كفر، لأنه ليس بمريض ولا مسافر، وقيل بخلافه وبه قال البقالي،ترجمہ:اگر کسی نے خود کو کسی کام میں اتنا مشغول کیا کہ اُس پر پیاس غالب آ گئی اور اُس نے روزہ توڑ دیا، تو اُس پر کفارہ لازم ہوگا، کیونکہ وہ نہ مریض ہے اور نہ مسافر۔لیکن ایک قول اس کے برخلاف بھی ہے، اور اسی قول کو امام بقالی رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔(البنایہ،کتاب الصوم،جلد۴،صفحہ نمبر۷۷،دارالکتب العلمیہ ،بیروت)
در ر الحکام فی شرح غررالاحکام میں ملا خسرورحمة اللہ علیہ(متوفی،۸۸۵ھ)فرماتے ہیں:
وقال في المبتغى العطش الشديد والجوع الذي يخاف منه الهلاك يبيح الافطار أي إذا لم يكن بإتْعاب نفسه لقوله بعده ومن أتعب نفسه في شيء أو عمل حتى أجهده العطش فأفطر كفر وقيل لا،ترجمہ :المبتغى میں فرمایا گیا ہے کہ شدید پیاس اور ایسی بھوک جس سے جان جانے کا خوف ہو، روزہ توڑنے کی اجازت دیتی ہے یعنی اس وقت جب یہ حالت انسان نے خود پر مشقت ڈال کر پیدا نہ کی ہو۔کیونکہ اس کے فوراً بعد فرمایا: اور جو شخص کسی چیز یا کام میں خود کو اتنا تھکا دے کہ اس پر پیاس غالب آ جائے اور وہ روزہ توڑ دے، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔البتہ بعض نے کہا کہ اس پر کفارہ نہیں ہوگا۔(دررالحکام،کتاب الصوم،جلد۱،صفحہ نمبر۲۰۸،دار إحياء الكتب العربية)
فتاوی شامی میں علامہ ابن عابدین شامی رحمة اللہ علیہ (متوفی،۱۲۵۲ھ)فرماتے ہیں:
فإن أجهد الانسان بالشغل نفسه فأفطر في التكفير قولين سطروا قال الشرنبلالي صورته: صائم أتعب نفسه في عمل حتى أجهده العطش فأفطر لزمته الكفارة، وقيل لا وبه أفتى البقالي، وهذا بخلاف الأمة إذا أجهدت نفسها لأنها معذورة تحت قهر المولى، ولها أن تمتنع من ذلك وكذا العبد. اهـ.ح وظاهره وهو الذي في الشرنبلالية عن المنتقى ترجيح وجوب الكفارة ط. قلت: مقتضى قوله ولها أن تمتنع لزوم الكفارة عليها أيضا لو فعلت مختارة فيكون ما قبله محمولا على ما إذا كان بغير اختيارها بدليل التعليل، والله أعلم،ترجمہ :اگر کسی انسان نے کام کے ذریعے خود کو تھکا دیا، پھر روزہ توڑ دیا، تو اس پر کفارہ واجب ہونے کے بارے میں دو اقوال نقل کیے گئے ہیں۔علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی مثال یہ ہے کہ ایک روزے دار کسی کام میں مشغول ہوا اور اس نے خود کو اتنا تھکا دیا کہ شدید پیاس کا شکار ہو گیا، پھر اس نے روزہ توڑ دیا تو اس پر کفارہ لازم آئے گا۔ جبکہ ایک دوسرا قول یہ ہے کہ اس پر کفارہ لازم نہیں، اور اسی قول پر امام بقالی رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا ہے۔یہ حکم لونڈی کے برعکس ہے، اگر وہ خود کو کسی کام میں مشقت میں ڈالے، کیونکہ وہ اپنے مالک کے تسلط میں معذور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود، اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسا کام کرنے سے انکار کر دے۔ یہی حکم غلام کا بھی ہے۔فتح القدیر کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس عبارت کا ظاہر مطلب یہی ہے اور یہی بات الشرنبلالیہ عن المنتقى میں بھی ہے کہ کفارہ واجب ہونے کے قول کو ترجیح دی گئی ہے۔میں (مصنف) کہتا ہوں: ان کے اس قول “ولها أن تمتنع” یعنی “اسے رکنے کا اختیار ہے” کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اگر لونڈی نے یہ کام اپنی مرضی سے کیا اور روزہ توڑا، تو اس پر بھی کفارہ واجب ہوگا۔ چنانچہ اس سے پہلے جو بات کہی گئی ہے (کہ وہ معذور ہے)، وہ اس وقت کے لیے ہے جب وہ مجبوری میں ایسا کرے، اور اس کی دلیل یہی ہے کہ وہاں علت بھی بیان کی گئی ہے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔(فتاوی شامی،کتاب الصوم،جلد۲،صفحہ نمبر۴۲۰،دارالفکر،بیروت)
رد المحتار میں ایک اور جگہ علامہ ابن عابدین شامی رحمة اللہ علیہ (متوفی،۱۲۵۲ھ)فرماتے ہیں:
الاحتياط في العبادة واجب كما صرحوا فيه في كثير من المسائل،ترجمہ: عبادت میں احتیاط واجب ہے، جیسا کہ مشائخ نے کئی مسائل میں واضح فرمایا ہے۔(ردالمحتار،کتاب الزکوۃ،جلد۲،صفحہ نمبر۳۰۰،دارالفکر،بیروت)
ھذا ماظھر للعبد الضعیف والله اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی الله علیه وآله وسلم
کتبہ،ابو الامین مولانا مبین اختر مدنی
۲۶ ذوالقعدة الحرام ۱۴۴۶ھ/۲۴مئی ۲۰۲۵ء