بیوہ کے لیے عدت کے دوران کونسے کام کرنا جائز اور کونسے منع ہیں

بیوہ کے لیے عدت کے دوران کونسے کام کرنا جائز اور کونسے منع ہیں

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوہ عورت کی عدت کتنے دن ہے اور عدت کے دوران کونسے کام نہیں کر سکتی وضاحت فرما دیجئے ؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت کا حکم شرعی یہ ہے کہ بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے اور اس دوران عورت پر سوگ کرنا واجب ہے اور اسکا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کی زیب زینت ترک کر دے یعنی ہر قسم کے زیور سونے چاندی جواہرات، یہاں تک کہ کنگن انگوٹھی چھلا چوڑیاں بھی اگرچہ کانچ کی ہوں ،اسی طرح ریشم کے کپڑے چاہے جیسے بھی ہوں ، خوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے، جس کپڑے کا رنگ پرانا ہوچکا ہو اسے پہن سکتی ہے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اس میں خوشبو نہ ہو جیسے زیتون اور کنگھی کرنا ، یونہی سرمہ لگانا اور مہندی لگانا، اسی طرح سرخ ، گلابی اور طرح طرح کے رنگ والے کپڑے جن میں زینت ہوتی ہے سب کو چھوڑ دے۔ البتہ عذر کی وجہ ان میں کچھ چیزیں استعمال کی جاسکتی ہیں جب کوئی دوسرا حل نہ ہو مگر عذر کی حالت میں اس کا استعمال زینت کے ارادے سے نہ ہو مثلا سر درد کی وجہ سے تیل لگا سکتی ہے جبکہ کوئی دوسرا حل نہ ہو یا تیل لگانے کی عادی ہے اور جانتی ہے کہ سر میں تیل نہ لگانے سے سر درد کرنا شروع ہو جائے گا تو لگانا جائز ہے ، یا سر درد کی وجہ سے کنگھی کر سکتی ہے لیکن کنگھی کرنے میں یہ خیال رکھے کہ موٹے دندانوں کی طرف سے کرے باریک دندانوں کی طرف سے نہ کرے کیونکہ یہ بال سنوارنے کے لیے ہوتے ہیں اور یہ ممنوع ہے ۔

قرآن پاک میں ہے:

”وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا“

ترجمہ:اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اوردس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔(قرآن پاک،سورہ بقرہ، آیت نمبر 234)

مختصر القدوری میں ہے:

”واذا مات الرجل عن امراتہ الحرۃ فعدتھا اربعۃ اشھر وعشر“

ترجمہ: اور جب آزاد عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔(مختصر القدوری،جلد 2، صفحہ 164، مکتبہ رشیدیہ)

مختصر القدوری میں ہے:

”وعلی المتوفی عنھا زوجھا—اذا کانت بالغۃ مسلمۃ— الاحداد، وھو: ترک الطیب والزینۃ والدھن والکحل الا من عذر، والا تختضب بالحناء، ولا تلبس ثوبا مصبوغا بعصفر ولا بزعفران“

ترجمہ: اور جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو تو اس پر سوگ ہے، جب وہ بالغہ اور مسلمان ہو سوگ اس طرح ہوگا کہ وہ خوشبو زیب و زینت اور سرمہ وغیرہ لگانا چھوڑ دے گی ،سوائے عذر کے، نا مہندی سے خضاب کرے،عصفر اور زعفران سے رنگا ہوا کپڑا بھی نا پہنے۔ (مختصر القدوری، جلد 2، صفحہ170، مکتبہ رشیدیہ)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”فی الدرالمختار وردالمحتار تحد (ای وجوبا کما فی البحر) مکلفۃ مسلمۃ اذ اکانت معتدۃ بت او موت بترک الزینۃ بحلی ( ای بجمیع انواعہ بحروفی قاضی خاں المعتدۃ تجتنب عن کل زینۃاھ ملتقطا۔درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت سوگ منائے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔ مسلمان عورت سوگ منانے کی پابند ہے خواہ وہ طلاق کی عدت گزار رہی ہو یا وفات کی۔ سوگ منانے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قسم کے زیورات نہ پہنے تاکہ زیبائش نہ ہونے پائے (البحرالرائق) فتاوٰی قاضی خاں میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت ہر قسم کی زیب وزینت سے پرہیز کرے ۔اھ ملتقطا (ت)“( فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ484، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن لاھور )

بہار شریعت میں ہے :

”سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سُرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی۔ دھانی۔ چمپئی اور طرح طرح کے رنگ جن میں تزین ہوتا ہے سب کو ترک کرے ۔ جس کپڑے کا رنگ پُرانا ہوگیا کہ اب اُس کا پہننا زینت نہیں اُسے پہن سکتی ہے۔ یوہیں سیاہ رنگ کے کپڑے میں بھی حرج نہیں جبکہ ریشم کے نہ ہوں ۔عذر کی وجہ سے اِن چیزوں کا استعمال کر سکتی ہے مگر اس حال میں اُسکا استعمال زینت کے قصد سے نہ ہو مثلاً درد سر کی وجہ سے تیل لگاسکتی ہے یا تیل لگانے کی عادی ہے جانتی ہے کہ نہ لگانے میں دردسر ہو جائیگا تو لگانا ، جائز ہے۔ یا دردسر کے وقت کنگھا کرسکتی ہے مگر اُس طرف سے جدھر کے دندانے موٹے ہیں اُدھر سے نہیں جدھر باریک ہوں کہ یہ بال سنوارنے کے لیے ہوتے ہیں اور یہ ممنوع ہے۔‘‘( بہار شریعت، جلد2، حصہ8، صفحہ 242 ،243،مکتبۃ الممدینہ کراچی )

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ

ممبر فقہ کورس

29 شوال المکرم 1446ھ 28 اپریل 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں