حاملہ عورت کو طلاق دینے کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی یا یہ کہا جاتا ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق دینا جائز نہیں کیا یہ بات درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرما دیجئے۔ نیز رجوع کا طریقہ کار بھی ارشاد فرما دیجیے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ حالت حمل میں طلاق دینا جائز ہے اور طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لوگوں میں یہ بات غلط مشہور ہے کہ حاملہ عورت کو طلاق نہیں ہوتی یا حاملہ کو طلاق دینا جائز نہیں ہے کیونکہ حدیث پاک اور کتب فقہ میں کثیر آئمہ کے اقوال اس کے جواز پر موجود ہیں اور اس صورت میں حاملہ کی عدت وضع حمل (بچہ جننے) تک ہے۔اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں ایک یا دو طلاق رجعی دی تو عدت کے اندر اندر رجوع کرسکتا ہے اور اگر اس نے ایک یا دو طلاق بائن دی تو نکاح ختم ہو جائے گا اس صورت میں عورت چاہے عدت میں ہو یا عدت گزار چکی ہو شوہر کو اس سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا. بغیر نکاح کیے شوہر کا ہمبستری کرنا حلال نہیں۔ اگر تین طلاقیں دیں تو حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی لہذا اب بغیر حلالہ شرعیہ کے بیوی کے ساتھ رہنا ناجائز و حرام ہے۔
قرآن مجید میں حاملہ عورت کی عدت کے حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔(پارہ28،سورۃ الطلاق،آیت4)
صحیح مسلم میں ہے.
” عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا“
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے رجوع کرنے کا حکم دو پھر چاہیے کہ حالت طہر یا حمل میں طلاق دے۔(صحیح مسلم٬ کتاب الطلاق٬ باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا وأنہ لو خالف وقع الطلاق و یؤمر برجعتھا ٬ صفحہ 558 ٬ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
المحیط البرہانی میں ہے:
”إن كانت ممن لا تحيض لصغر أو كبر طلقها متى شاء واحدة، و إن كان عقيب الجماع وكذلك الحامل“
ترجمہ:اگرعورت کوکم سنی یابڑھاپے کی بناء پرحیض نہ آتاہوتواُسے جب چاہے ایک طلاق دے خواہ صحبت کے بعدہی سہی،یوں ہی حاملہ عورت کو بھی طلاق دیناجائزہے۔(المحیط البرہانی،کتاب الطلاق، الفصل فی بیان اَنواع الطلاق،جلد3،صفحہ200، بیروت)
مجمع الانھر میں ہے:
”(وجاز طلاقهن)أي الآيسة والصغيرة والحامل عقيب الجماع) لان الكراهة في ذوات الحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا“
ترجمہ:اور ان کو طلاق دینا جائز ہے۔یعنی (ایسی عورتوں کو) جو کہ آیِسہ (یعنی حیض سے مایوس ہوچکی ہوں)، چھوٹی بچی، اور حاملہ عورت (جماع کے بعد)کیونکہ حیض والی عورتوں میں طلاق دینے کی کراہت اس لیے تھی کہ حمل کا گمان ہوسکتا تھا، اور یہاں (آیِسہ، چھوٹی بچی اور حاملہ میں) یہ گمان موجود نہیں ہے۔(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر٬ کتاب الرضاع٬ جلد1′ صفحہ 382 ٬ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع “
ترجمہ : اور حاملہ عورت کو جماع کے بعد طلاق دینا جائز ہے۔(فتاوی ہندیہ٬ کتاب الطلاق٬ الباب الاول فی تفسیرہ و رکنہ و شرطہ٬ صفحہ 384 ٬ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
الدرالمختار علی تنویر الابصار میں ہے:
”(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل“
ترجمہ(اور ان کو طلاق دینا حلال ہے)یعنی (ایسی عورتوں کو) جو کہ آیِسہ (یعنی حیض سے مایوس ہوچکی ہوں)، چھوٹی بچی، اور حاملہ عورت۔(الدرالمختار علی تنویر الابصار ٬ کتاب الطلاق ٬مطلب:طلاق الدور ٬جلد 4 صفحہ 422 مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ:” حمل کی حالت میں طلاق دینا جائز ہے یا نہیں؟”
آپ نےارشاد فرمایا:
”جائز و حلال ہے اگرچہ ایام حمل میں بلکہ آج ہی بلکہ ابھی ابھی اس سے جماع کرچکا ہو۔“
مزید ایک مقام پر فرمایا:
” عورت کو حمل ہونا مانعِ وقوع طلاق نہیں۔“( فتاوی رضویہ ،جلد12، صفحہ 374 ،375 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي“
ترجمہ:حاملہ عورت کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کرے۔’ اسی طرح یہ بات کتاب ‘الکافی’ میں بھی مذکور ہے۔(فتاوی ہندیہ٬ کتاب الطلاق٬الباب الثالث عشر فی العدۃ ٬جلد 1 ٬صفحہ 528 ٬ مطبوعہ دارالفکر بیروت)
ردالمحتار علی الدر المختار میں ہے:
”(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع کذا فی جواهر الفتاوى. (وضع) جميع (حملها)“
ترجمہ:اور حاملہ عورت کے حق میں مطلق طور پر (عدت) وضعِ حمل (بچہ جننے) سے پوری ہو جاتی ہے، خواہ وہ لونڈی ہو، یا کتابیہ یا زنا سے حاملہ ہو یعنی اگر کوئی شخص کسی زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کرے اور اس سے صحبت کرے، پھر فوت ہو جائے یا طلاق دے دے، تو وہ عورت بچہ جننے کے ساتھ ہی عدت پوری کر لے گی، جیسا کہ ‘جواہر الفتاویٰ’ میں ہے۔ (یہ عدت تب مکمل ہو گی جب) وہ اپنے پورے حمل کو وضع کر دے۔(رد المحتارعلی الدرالمختار ٬كتاب الطلاق، باب العدة ٬جلد 3 ، صفحہ 511 ٬مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية“
ترجمہ:اور جب مرد اپنی بیوی کو ایک رجعی طلاق دے یا دو طلاقیں دے، تو اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ عدت کے اندر اس سے رجوع کر لے، چاہے عورت راضی ہو یا نہ ہو ہدایہ میں اسی طرح ہے۔(الفتاوی الہندیۃ ٬ کتاب الطلاق٬ الباب السادس في الرجعة، جلد 1 ٬ صفحہ 470، مطبوعہ رشيدية کوئٹہ )
بدائع الصنائع میں ہے:
”فالحكم الأصلي…من الواحدة البائنةوالثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا،حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد“
ترجمہ:اصل حکم… ایک بائنہ طلاق اور دو بائنہ طلاقوں کا یہ ہے کہ طلاق کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور (نکاح کی) مِلک بھی زائل ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ شوہر کے لیے اس عورت سے ہمبستری حلال نہیں ہوتی مگر نئے نکاح کے ذریعے۔(بدائع الصنائع ٬كتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن ٬جلد 3 ، صفحہ 57 ٬مطبوعہ دار الكتب العلمية بیروت لبنان)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”إذا كان الطلاق بائنًا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها“
ترجمہ:جب تین سے کم طلاق بائن ہوں تو عدت کے دوران اور عدت ختم ہونے کے بعد بھی مرد کو اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ (فتاوی ہندیہ٬ کتاب الطلاق٬باب فیما تحلّ به المطلقة ٬جلد 1 ٬صفحہ 473،مطبوعہ دار الفکر بیروت )
قدوری شریف میں ہے:
”وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها“
ترجمہ:اور اگر طلاق آزاد عورت کو تین مرتبہ دی گئی ہو یا باندی (کنیز) کو دو مرتبہ دی گئی ہو تو وہ (عورت) اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاحِ صحیح نہ کرے اور دوسرا شوہر اس سے صحبت (ہمبستری) نہ کرلے، پھر وہ اسے طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے۔(مختصر القدوری٬ کتاب الطلاق ٬ جلد 1 ٬صفحہ 159 ٬ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”و إن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية“
ترجمہ:اور اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں دی ہوں، یا باندی کو دو طلاقیں دی ہوں، تو وہ (مطلقہ عورت) اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس سے نکاحِ صحیح کر لےاور اس کے ساتھ صحبت (مباشرت) کرلے، پھر وہ اسے طلاق دے یا اس کا انتقال ہو جائے۔ “ہدایہ” میں بھی اسی طر ح ہے۔(ہندیۃ،کتاب الطلاق، باب فیما تحلّ به المطلقة ٬جلد 1، صفحہ 473 ٬مطبوعہ دار الفکر بیروت)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے.
”ذهب الفقهاء إلى أن من طلق زوجته طلقة رجعية أو طلقتين رجعيتين جاز له إرجاعها في العدة۔۔۔أما إذا طلق زوجته ثلاثا، فإن الحكم الأصلي للطلقات الثلاث هو زوال ملك الاستمتاع وزوال حل المحلية أيضا، حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر، لقوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره“
ترجمہ: فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاقِ رجعی یا دو طلاقِ رجعی دی ہوں، تو عدت کے دوران اسے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔۔۔ لیکن اگر اس نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو تین طلاقوں کا اصل حکم یہ ہے کہ مرد کا استمتاع (یعنی ازدواجی تعلق) کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے اور بیوی کا اس کے لیے حلال ہونا بھی ختم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {پھر اگر وہ اسے (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لیے حلال نہ ہوگی جب تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ٬ جلد 10 صفحہ 255 ٬مطبوعہ دارالسلاسل)
بہار شریعت میں ہے:
”اور تین طلاقیں دی ہوں یا لونڈی کو دو تو بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگرچہ دخول نہ کیا ہو۔“(بہار شریعت٬ طلاق کا بیان ٬ جلد 2 حصہ ہشتم ٬ صفحہ 179 ‘مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد عرفان مدنی قصوری
29 شوال المکرم 1446ھ بمطابق28 اپریل 2025ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری