بیعت کا ثبوت اور کامل پیر کی شرائط
سوال:کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلے میں کہ بیعت کا ثبوت کہاں سے ثابت ہے اورپیر کس کو بنا سکتے ہیں اس میں کیا شرائط ہیں؟ کچھ لوگ کی سوچ ھوتی ھے کہ مرشد کیا ہے اس کے پیچھے کیو جاتے ہو وہ خود ہی اپنے آپ کو قبر سے چھوڑا نہی سکتے آپ کو کیسے چھڑائیں گے۔۔۔وغیرہ۔ اس بارے میں رہنمائی فرما دیجیے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بیان کی گئی صورت کا حکمِ شرع یہ ہے کہ بیعت کا ثبوت قرآن و حدیث اور دیگر کتبِ فقہ سے ثابت ہے۔ اور لوگوں کا ایسی باتیں کرنا درست نہیں کیونکہ پیرو مرشد راہ حق کی طرف رہنمائی کرنے والا ہوتا ہے۔ پیر کے بغیر انسان بھٹک جاتا ہے ایک دن کے بچے کو بھی بن پیرا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بلکہ یہاں تک فرمایا گیا کہ جس کا کوئی پیر نہیں اسکا پیر شیطان ہے۔ پیر کے لیے چند شرائط ہیں ۔ وہ شرائط اگر کسی میں ہوں تو اسکی بیعت کی جا سکتی ہے۔
قرآن پاک میں رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
”یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ“
ترجمۂ کنز الایمان:اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا شریک کچھ نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پارہ 28 سورت ممتحنہ آیت 12)
اس آیت کے تحت مفتئ دعوت اسلامی مفتی قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں:
”مسلمانوں کا مشائخ کے ہاتھ پر بیعت ہونا سنت ہے کیونکہ یہ مومنہ عورتیں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کی بیعت کرتی تھیں کہ ہم آئندہ گناہوں سے بچیں گی اور یہ ہی مشائخ کی بیعت کا مَنشا ہے۔“(صراط الجنان جلد10 ص:120 ۔مطبوعہ:المدینۃ العلمیہ)
مسلم شریف میں ہے:
”حدثنا اسماعیل وھو ابن جعفر اخبرنی عبد اللہ بن دینار انّہ سمع عبداللہ بن عمر یقُول کُنّا نُبایِعُ رسول اللہ ﷺ علی السمع والطاعۃ یقول لنا فیما استطعت“
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے احکام سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کرتے تھے اور آپ ﷺ ہمیں ارشاد فرماتے تھے، جہاں تک تمہاری استطاعت ہو۔ (صحیح المسلم۔۔کتاب الامارۃ۔۔باب: بیعۃ علی السمع والطاعۃ۔۔حدیث: 4836)
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پیر کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
بیعت کے لئے لازم ہے کہ پیرچارشرطوں کاجامع ہو:
(۱)سنی صحیح العقیدہ
(۲)صاحب سلسلہ
(۳)غیرفاسق معلن
(۴)اتناعلم دین رکھنے والاکہ اپنی ضروریات کاحکم کتاب سے نکال سکے۔
جہان ان شرطوں میں سے کوئی شرط کم ہے بیعت جائزنہیں۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔(فتاویٰ رضویہ۔ج۔26۔۔ص:566 مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن)
فتاویٰ رضویہ ہی میں ایک اور جگہ پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”مریدہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اتصال مسلسل۔تفسیرعزیزی دیکھو آیہ کریمہ:
” صِرٰطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیہِم“
راستہ ان کاجن پرتونے انعام کیا۔(ت)
میں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تك فرمایاگیا:
”من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطٰن“جس کاکوئی پیرنہیں اس کاپیرشیطان ہے۔(ت)
صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگرانتساب باقی رہا تونظروالے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظرنہیں وہ نزع میں قبر میں حشرمیں اس کے فوائد دیکھیں گے۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔“ (فتاویٰ رضویہ جلد26 ص:570۔۔مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن)
فتاویٰ افریقہ میں ہے:
”ایک یہ کہ بے پیرا فلاح نہ پائے گا۔ حضرت سیدنا شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں۔ سمعت کثیرا من المشائخ یقولون من لم یر مفلحا لا یفلح۔یعنی میں نے بہت اولیاء کرام کو فرماتے سنا کہ جس نے کسی فلاح پاۓ ہوۓ کی زیارت نہ کی وہ فلاح نہ پاۓ گا۔ دوسرے یہ کہ بے پیرے کا پیر شیطان ہے۔
عوارف شریف میں ہے”روی عن ابی یزید انه قال من لم یکن لہ استاذ فامامہ الشیطان“یعنی سیدنا بایزید بسطامی علیہ الرحمہ سے مروی ہوا کہ فرماتے ہیں جس کا کوئی پیر نہیں اسکا امام شیطان ہے۔
رسالہ مبارکہ امام اجل ابو القاسم قشیری میں ہے:
”یجب علی مرید ان یتادب لشیخ فان لم یکن لہ استاذ لا یفلح ابدا ھذا ابو یزید یقول من لم یکن لہ استاذ فامامہ الشیطان“
یعنی مرید پر واجب ہے کہ کسی پیر سے تربیت لے کہ بے پیر شیطان ہے۔۔
پھر فرمایا” سمعت الاستاذ بو علی الدقاق یقول الشجرۃ اذا نبتت بنفسھا سن غیر غارس فانھا تورق ولکن لا تثمر کذالک المرید اذا لم یکن لہ استاذ یاخد منہ طریقه نفسا فنفسا فھو عابد ھواہ لا یجد نفاذا“
یعنی میں نے حضرت ابو علی دقاق کو فرماتے سنا کہ پیڑ جب بے کسی بونے والے کے آپ سے اُگے تو پتے لاتا ہے مگر پھل نہیں دیتا یونہی مرید کے لیے اگر کوئی پیر نہ ہو جس سے ایک ایک سانس پر راستہ دیکھے تو وہ اپنی خواہشِ نفس کا پجاری ہے ۔ راہ نہ پاۓ گا۔ “(فتاویٰ افریقہ۔ص 117۔۔ناشر:مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
29 شوال المکرم 1446ھ بمطابق 28 اپریل 2025ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری