نمازِ جنازہ میں اگر کوئی تکبیر رہ جائے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز جنازہ میں کوئی تکبیر بھولے سے رہ جائے تو کیا حکم شرع ہے؟ نیز کیا مقتدی کیلئے بھی نماز جنازہ میں تکبیرات کہنا ضروری ہیں؟ شرعی رہنمائی فرمادیجیے۔
بسم الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ نماز جنازہ میں کوئی تکبیر رہ جائے تو نماز جنازہ ادا نہیں ہوگی، کیونکہ نماز جنازہ میں چاروں تکبیرات ركن يعنى فرض ہیں۔ان میں سے ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے، جس طرح کوئی رکعت رہ جانے سے نماز نہیں ہوتی اسی طرح کوئی تکبیر رہ جانے سے نماز جنازہ بھی نہیں ہوگی۔اب اگر امام نے ایسا کیا ہے اور میت کو دفن کرنے سے پہلے پتہ چل جائے تو اسی وقت نماز جنازہ دوبارہ پڑھنی ہوگی اور اگر اس وقت نماز جنازہ کے فساد کا پتہ نہ چلا اور میت کو دفن کر دیا گیا تو اس بارے میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جب تک ظن غالب ہو کہ میت کا جسم پھٹا نہیں ہوگا تو اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی لیکن اگر ظن غالب ہو کہ جسم پھٹ چکا ہوگا تو نہیں پڑھی جائے گی۔امام کے ساتھ ساتھ مقتدیوں کے لئے بھی چاروں تکبیرات کہنا فرض ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
”وصلوۃ الجنازۃ أربع تکبیرات, ولو ترک واحدۃ منھا لم تجز صلوتہ ھکذا فی الکافی“
ترجمہ: اور نماز جنازہ کی چار تکبیریں ہیں اور اگر کسی نے چاروں میں سے ایک تکبیر بھی چھوڑ دی تو اس کی نماز جنازہ ادا نہیں ہوگی اسی طرح” کافی” میں ہے ۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الصلوٰۃ، باب فی الجنائز، جلد 1، صفحہ 180،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے
”(وركنها)شيئان (التكبيرات) الأربع، فالأولى ركن أيضاً لا شرط، فلذا لم يجز بناء أخرى عليها (والقيام) فلم تجز قاعدا بلا عذر“
ترجمہ:(اور اس کے ارکان) دو چیزیں ہیں: (چار تکبیریں)، پہلی تکبیر بھی رکن ہے، شرط نہیں، اسی لیے اس پر دوسری تکبیر کی بناء کرنا جائز نہیں۔ (اور قیام)، لہٰذا بلا عذر بیٹھ کر (نمازِ جنازہ) پڑھنا جائز نہیں۔(تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الجنازۃ، جلد 3،صفحہ 124،مطبوعہ رشیدیہ، کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے :
نماز جنازہ میں دو رکن ہیں:(۱) چار بار اﷲ اکبر کہنا (۲)قیام، بغیر عذر بیٹھ کر یا سواری پر نماز جنازہ پڑھی، نہ ہوئی(بہار شریعت، باب نماز جنازہ کا بیان،جلد 1،حصہ 4، صفحہ 833,834 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)
بدائع الصنائع میں ہے:
”کل تکبیرۃ من ھذہ الصلاۃ قائمۃ مقام رکعۃ بدلیل انہ لو ترک تکبیرۃ منھا تفسد صلاتہ کما لو ترک رکعۃ من ذوات الاربع“
ترجمہ:نماز جنازہ کی ہر تکبیر رکعت کے قائم مقام ہے،اس کی یہ دلیل ہےکہ اگر کسی نے ان تکبیرات میں سے ایک تکبیر بھی چھوڑ ی ،تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،جس طرح کوئی چار رکعت والی نماز میں ایک رکعت چھوڑ دے (تو اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔)(بدائع الصنائع ،کتاب الصلوٰۃ ،باب کیفیۃ صلاۃ الجنازۃ،جلد 2،صفحہ53،مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے
” (وهي أربع تكبيرات) كل تكبيرة قائمة مقام ركعة “
ترجمہ:(اور یہ چار تکبیریں ہیں)، ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الجنازۃ، جلد 3 ، صفحہ 128،مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار میں ہے :
”قوله : (وَأُهِيلَ عَلَيْهِ التَّراب) فإن لم يُهَل أخرج وصلي عليه“
ترجمہ:صاحب در مختار کا قول “وَأُهِيلَ عَلَيْهِ التَّراب” (اور اس پر مٹی ڈال دی گئی) پس اگر اس پر مٹی نہ ڈالی گئی ہو تو اسے نکالا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔(حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الجنازۃ، جلد 3، صفحہ 101،دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
”ولو دفن الميت قبل الصلاة أو قبل الغسل فإنه يصلى على قبره إلى ثلاثة أيام والصحيح أن هذا ليس بتقدير لازم بل يصلى عليه ما لم يعلم أنه قد تمزق كذا في السراجية“
ترجمہ :اور اگر میت کو نماز جنازہ سے پہلے یا غسل سے پہلے دفن کر دیا جائے، تو اس کی قبر پر تین دن تک نماز پڑھی جا سکتی ہے، اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ کوئی لازمی مدت (تین دن) نہیں، بلکہ جب تک یقین نہ ہو جائے کہ میت بوسیدہ ہو چکی ہے (تب تک نماز پڑھی جا سکتی ہے)۔اسی طر ح “السراجیہ” میں ہے۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الصلوٰۃ،باب فی الجنائز،جلد1،صفحہ 184،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
”(وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحساناً (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير، هو الأصح“
ترجمہ:(اور اگر کسی کو دفنا دیا گیا) اور اس پر مٹی ڈال دی گئی (بغیر نماز جنازہ پڑھے) یا نماز تو پڑھی گئی مگر بغیر غسل دیے یا ایسے شخص نے نماز پڑھائی جسے اس کا اختیار (ولایت) نہیں تھا (تو اس کی نماز جنازہ قبر پر پڑھی جائے گی) استحساناً (جب تک کہ غالب گمان نہ ہو کہ وہ جسم پھٹ چکا ہے)یعنی بغیر کسی مقررہ مدت کے، یہی قول زیادہ صحیح (راجح) ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الجنازۃ،جلد3،مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے:
”میّت کو بغیر نماز پڑھے دفن کر دیا اور مٹی بھی دے دی گئی تو اب اس کی قبر پر نماز پڑھیں ، جب تک پھٹنے کا گمان نہ ہو اور مٹی نہ دی گئی ہو تو نکالیں اور نماز پڑھ کر دفن کریں اور قبر پر نماز پڑھنے میں دنوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کہ کتنے دن تک پڑھی جائے کہ یہ موسم اور زمین اور میّت کے جسم و مرض کے اختلاف سے مختلف ہے، گرمی میں جلد پھٹے گا اور جاڑے میں بدیر تر یا شور زمین میں جلد خشک اور غیر شور میں بدیر فربہ جسم جلد لاغر دیر میں۔“(بہار شریعت،نماز جنازہ کابیان،جلد 1،حصہ 4، صفحہ 845 ،مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت ارشاد فرماتے ہیں:
”یکبرون الافتتاح مع رفع الیدین ثم یقرءون الثناء ثم یکبرون ویصلون علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ثم یکبرون و یستغفرون للمیت ثم یکبرون و یسلمون “
ترجمہ :امام و مقتدی کانوں تک ہاتھ اٹھا کر تکبیرِافتتاح کہیں گے ،پھر ثناء پڑھیں گے ،پھرتکبیر کہیں گے اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود پاک پڑھیں گے،پھر تکبیر کہیں گے اور میت کے لیے استغفار کریں گے،پھر تکبیر کہیں گے اور سلام پھیر دیں گے۔ (فتاوی رضویہ ،باب الجنائز،جلد 9،صفحہ 194،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بالصواب
کتبہ
محمد عرفان مدنی قصوری
7 شوال المکرم 1446ھ بمطابق 6اپریل 2025
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری