سوشل میڈیا میں رائج جملہ” ہم ساری زندگی غلط نماز پڑھتے رہے“

سوشل میڈیا میں رائج جملہ” ہم ساری زندگی غلط نماز پڑھتے رہے“

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کل کئی نوجوان سوشل میڈیا پر آئے دن مختلف مسائل کے متعلق ویڈیو بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ساری زندگی غلط نمازو وتر پڑھتے،روزہ رکھتے اور دیگر عبادات کرتے رہے جبکہ شرعی مسئلہ یوں تھا۔ اب وہ ایک نیا مسئلہ پیش کرتے ہیں اور اس پر کسی حدیث کی تصویر بھی لگا دیتے ہیں جبکہ ہم نے مستند علمائے کرام سے اس کے خلاف وہ عمل سنا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے کیا کیا جائے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

یہ فتنوں کا دور ہے جس میں ہرکوئی اپنی چرب زبانی سے حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے کی کوشش میں ہے۔ فرقہ واریت کی مذمت میں سب سے زیادہ فرقے بن رہے ہیں اور اہل سنت و جماعت جنت کا جنتی گروہ ہونا احادیث،صحابہ ،تابعین اور ائمہ کرام سے ثابت ہے لیکن اس سے دوری اختیاری کی جارہی ہے بلکہ جو کہے میں سنی ہو ں اس کو بھی فرقہ واریت کہا جاتا ہے۔

یونہی فقہی معاملات میں ایک حدیث جس کی شروح میں محدثین و فقہائے کرام کی تفصیلی بحث ہوتی ہے اور اس کا معنی و محمل بیان کیا ہوتا ہے لیکن یہ نام نہاد اسلامی اسکالر بغیر اس حدیث کوسمجھے اس کا غلط مطلب لے رہے ہوتے ہیں بلکہ بعض مسائل تو حدیث کے سوفیصد مخالف ہوتے ہیں لیکن اس کو فریب کے ساتھ بیان کررہے ہوتے ہیں۔

یہ احادیث کوئی آج منظر عام پر نہیں آئی ہیں کہ پچھلے ادوار کے فقہائے کرام کو ان کا علم نہ تھا یا یہ کوئی ایسی زبان میں ہیں جن کو علمائے کرام پڑھنےو سمجھنے سے عاجز ہیں اور یہ ٹیڈی مجتہد اس کو زیادہ بہتر سمجھ رہے ہیں۔احادیث کا علم رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حضور علیہ السلام کی عبادات کے طریقے کچھ مختلف ہوتے تھے آپ علیہ السلام ایک عمل کو مختلف انداز میں کرتے تھے جس میں کئی حکمتیں ہوتی تھیں کبھی بطور جواز کے مختلف عمل کرتے تھے اور کبھی پچھلا عمل منسوخ فرمادیتے تھے۔ اب فقہائے کرام نے دیگر احادیث کی روشنی میں یہ تحقیقات کی ہیں کہ کونسا عمل آپ کا آخر تک سنت رہا ہے اور آج بھی ہمارے لیے بھی سنت ہے۔ اب دو مختلف احادیث میں دلائل کی روشنی میں تطبیق دیتے ہیں اور کئی کتب باقاعدہ اسی موضوع پر موجود ہیں جن میں احادیث میں تطبیق دی گئی ہے۔

لہذا اگر آج کوئی انجینئر،ڈاکٹر یا اور چرب زبان دوچار اردو تراجم کی کتب پڑھ کر صحابہ کرام،تابعین،ائمہ عظام پر طعن کرے اور خود کو ان سے زیادہ علم والے کہے اور صدیوں سے رائج نماز و دیگر عبادات کے طریقوں کو غلط کہہ کر امت محمدیہ کو گمراہ وغلط ثابت کرنے کی کوشش کرے تو ایسا شخص حدیث کے مطابق خود گمراہ ہے۔ امت مسلمہ کی اکثریت کبھی بھی گمراہ نہیں ہوسکتی۔یونہی چاروں ائمہ کرام(امام ابوحنیفہ،امام مالک،امام شافعی،امام حنبل)حق ہیں جوبھی مسلمان ان ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرتے ہوئے اپنی عبادات کرتے ہیں وہ سب ٹھیک ہیں کہ ان ائمہ کرام نے ہر فتوی قرآن وحدیث کی روشنی میں دیا ہے جس پر تفصیلی دلائل کتب فقہ میں موجود ہیں۔ان چارہی ائمہ کی فقہ صدیوں سےمسلمانوں میں رائج ہے اور ان کے علاوہ کسی بھی علمی شخصیت کی فقہ موجود نہیں۔ علمائے اسلاف نے صراحت کی ہے کہ ان چاروں ائمہ کو چھوڑ کر کسی اور کی تقلید کرنا ناجائز وگمراہی ہے۔

مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے نام نہاد محققین سے بچیں ،ان کی ویڈیوز کو نہ دیکھیں اور نہ ہی آگے شیئر کریں بلکہ علمائے کرام سے وابستہ رہیں۔چند کتابیں پڑھ کر کوئی شخص لوگوں کا دینی پیشوا نہیں بن سکتا۔ دین سکھانے کے لیے پہلے باقاعدہ اساتذہ سے دین سیکھنا پڑتا ہے۔

قرآن پاک میں ہے

”اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَoاَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ“

ترجمہ: کنزالایمان:اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ بقرہ ، آیت 11/12 )

حدیث مشکاة اور ترمذی میں ہے

”وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:”إن اللہ لا یجمع أمتی أو قال: أمة محمد علی ضلالة وید اللہ علی الجماعة ومن شذ شذ فی النار“

ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایتوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو یا فرمایا امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔اللہ عزوجل کا دست رحمت جماعت پر ہے جو اس جماعت سے الگ ہوا جہنم میں گیا۔ (مشکاة، جلد 1 صفحہ 30 ، مطبوعہ بیروت)

صحیح مسلم میں ہے

”عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ”إذا سمعت الرجل يقول‏:‏ هلك الناس، فهو اهلكهم‏‏“

ترجمہ:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے، تو وہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔(صحیح مسلم ، جلد 1،حدیث 1823، مطبوعہ کراچی)

مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے :

“اھلکھم کی دو قراءتیں ہیں کاف کے ضمہ سے یعنی صیغہ اسم تفضیل ہو اور کاف کے فتحہ سے ماضی۔یعنی جو مسلمانوں کے متعلق یہ کہتا رہے کہ سارے مسلمان ہلاک ہوگئے،رحمت خدا سے دور ہوگئے،بے دین ہوگئے تو ان سب میں زیادہ ہلاک ہونے والا یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو رحمت الٰہی سے دور سمجھ رہا ہے یا جو لوگوں کو رحمت الٰہی سے مایوس کرے اور کہے کہ لوگ برباد ہوگئے،کافر ہوگئے،فاسق ہوگئے تو ان لوگوں کو رب تعالیٰ نے ہلاک نہ کیا بلکہ اس نے ہلاک کیا اگر لوگ مایوس ہوکر گنہگار بن جاویں تو مجرم یہ ہوگا۔مسلمان کہتے ہیں گنہگار ہوں مگران شاءالله رحمت الٰہی ان کی دستگیری کرے گی انہیں سے کام لے گی کوئی انہیں ابھارنے والا ہو۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4821 ،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

تحذیر الخواص للسیوطی میں ہے

”وأكبر أَسبَابه أَنه قد يعاني هَذِه الصِّنَاعَة جهال بِالنَّقْلِ يَقُولُونَ مَا وجدوه مَكْتُوبًا وَلَا يعلمُونَ الصدْق من الْكَذِب فهم يبيعون علي سوق الْوَقْت وَاتفقَ أَنهم يخاطبون الْجُهَّال من الْعَوام الَّذين هم فِي عداد الْبَهَائِم فَلَا يُنكرُونَ مَا يَقُولُونَ وَيخرجُونَ فَيَقُولُونَ قَالَ الْعَالم فالعالم عِنْد الْعَوام من صعد الْمِنْبَر“

ترجمہ:اور اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس فن میں ان لوگوں نے دخل اندازی کی جو نقلی دلائل سے عاری و جاہل ہوتے ہیں۔ جو لکھا ہوا پاتے ہیں اسی کو یہ کہتے ہیں۔ صدق و کذب کی معرفت کی کسوٹی ان کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ سوق(کاروباری) وقت میں دینی خدمت کا کاروبار کرتے ہیں اور (لوگوں کا)اتفاق ہے کہ یہ عام طور پر عوام میں سے ایسے جاہلوں کو مخاطب کرتے ہیں، جو چوپایوں کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ ان کی غلطیوں پر انکار نہیں کرتے اور یہ کہتے ہوئے نکلتے ہیں کہ عالم نے کہا۔ پس عوام کے نزدیک وہی عالم ہے جو منبر (اسٹیج) پر چڑھ گیا(اور جو اس کی سمجھ میں وہ اس نےکہہ دیا۔)۔(تحذیر الخواص للسیوطی، صفحہ ۲۷۷-۲۷۸، دار الفکر بیروت)

فاضل علّامہ سیّدی احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲتعالیٰ حاشیہ دُرمختار میں فرماتے ہیں

’’من شذّ عن جمھور اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذّ فیما یدخلہ فی النار فعلیکم معاشرالمومنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باہل السنۃ والجماعۃ فان نصرۃ اﷲتعالٰی وحفظہ وتوفیقہ فی موافقتھم وخذلانہ وسخطہ فی مخالفتھم وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمھم اﷲ تعالٰی ومن کان خارجاعن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھو من اھل البدعۃ والنار‘‘

ترجمہ: جو شخص جمہور اہلِ علم وفقہ وسوادِاعظم سے جُدا ہو جائے وُہ ایسی چیز کے ساتھ تنہا ہوا جو اُسے دوزخ میں لے جائیگی ۔تو اے گروہ مسلمین !تم پر فرقہ ناجیہ اہلسنّت وجماعت کی پیروی لازم ہے کہ خداکی مدد اوراُس کا حافظ وکارساز رہناموافقتِ اہلسنّت میں ہے اوراُس کو چھوڑ دینا اورغضب فرمانا اور دشمن بنانا سنیوں کی مخالفت میں ہے ۔اورنجات والا گروہ اب چار مذاہب میں مجتمع ہے حنفی، مالکی، شافعی ، حنبلی اﷲتعالیٰ ان سب پر رحمت فرمائے اس زمانے میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی(گمراہ) جہنمی ہے۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار،کتاب الذبائخ،جلد4،صفحہ153، دارالمعرفۃ، بیروت)

تفسیرروح المعانی میں ہے

’’یشترط فی تقلید الغیر أن یکون مذہبہ مدوناً محفوظ الشروط والمعتبرات فقول السبکی إن مخالف الأربعۃ کمخالف الإجماع محمول علی ما لم یحفظ ولم تعرف شروطہ وسائر معتبراتہ من المذاہب التی انقطع حملتہا وفقدت کتبہا کمذہب الثوری والأوزاعی وابن أبی لیلی وغیرہم‘‘

ترجمہ:تقلید میں شرط ہے کہ وہ مذہب مدون ہو،اس مذہب کی شرائط محفوظ و معتبر ہوں۔ امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا کہ چاروں ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید نہ کرنا اجماع کے مخالف ہے ۔اس پر محمول ہے کہ ان چارمذاہب کے علاوہ دیگر مذاہب محفوظ نہیں اور ان کی شرائط کا پتہ نہیں،دیگر معتبر مذاہب اس وقت منقطع ہو چکے ہیں ،ان کی کتب موجود نہیں جیسے امام ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلیٰ،وغیرہ کے مذاہب ہیں۔(تفسیر روح المعانی،جلد14،صفحہ148،دار إحیاء التراث العربی ،بیروت)

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’فاذا کان إنسان جاہل فی بلاد الہند أو فی بلاد ما وراء النہر ولیس ہناک عالم شافعی ولا مالکی ولا حنبلی ولا کتاب من کتب ہذہ المذاہب وجب علیہ أن یقلد لمذہب أبی حنیفۃ ویحرم علیہ أن یخرج من مذہبہ لأنہ حینئذ یخلع ربقۃ الشریعۃ ویبقی سدی مہملا ‘‘

ترجمہ:اگر کوئی جاہل شخص ہندوستان یا ماورالنہر کے علاقے میں ہو اور وہاں کوئی شافعی،مالکی یا حنبلی عالم موجود نہ ہو اور نہ ان مذاہب کی کوئی کتاب دستیاب ہو تو اس پرصرف امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید واجب ہوگی اور ان کے مذہب کو چھوڑنا اس کے لئے حرام ہوگا، کیونکہ اس صورت میں وہ شخص شریعت کی پابندیاں اپنے گلے سے اتار کر بالکل آزاد اور مہمل ہو جائے گا ۔(الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف، صفحہ78،دارالنفائس)

حضرت سیدی عبد الوہاب الشعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’وقد تتبعت بحمد اللہ تعالی ادلۃ المجتھدین فلم اجد فرعاََ من فروع مذاھبہم الا وھو مستند الی دلیل اما آیۃ او حدیث او قیاس صحیح وکلھا مقتسبۃ من شعاع نور الشریعۃ التی ھو الاصل و محال ان یوجد فرع من غیر اصل‘‘

ترجمہ: میں نے تتبع کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ تمام ائمہ مجتہدین رضوان اللہ علیہم نے جو بیان کیا ہے کسی نہ کسی دلیل شرعی سے بیان کیا ہے اور یہ بات محال ہے کہ کوئی ایسا مسئلہ ان مقدس ہستیوں نے بیان کیا ہو جس کی اصل شریعت میں نہ ملتی ہو۔(الیواقیت والجواہر،جلد2،صفحہ475، دارالاحیاء التراث العربی ،بیروت)

اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’إِن هَذا الْعلم هُو لحمك ودمك وعَنه تسأَل يَوْم الْقيامة، فَانْظر عن من تأخذه‘‘

ترجمہ:یہ علم تمہارا گوشت اور خون ہے، اس کے بارے میں قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا، لہٰذا دیکھ لیا کرو کہ اسے کس سے حاصل کر رہے ہو۔(مؤطا امام مالک بتحقیق الاعظمی جلد 1 ، صفحہ 25 ، مطبوعہ بیروت)

الکفایۃ للخطیب میں ہے

’’لا يؤخذ العلم إلا عمن شهد له بالطلب‘‘

ترجمہ:علم اس شخص سے حاصل کیا جائے جس کے متعلم(استاد) ہونے کی اہل علم نے گواہی دی ہو۔(الکفایۃ للخطیب، جلد 1 ، صفحہ 375، مطبوعہ بیروت)

شرح الاصول الثلاثۃ میں ہے

”ثلاث مسائل:التعلم هنا معناه:التلقي عن العلماء والحفظ والفهم والإدراك، هذا هو التعلم، ليس المراد مجرد قراء ة أو مطالعة حرة كما يسمونها هذا ليس تعلما إنما التعلم هو: التلقي عن أهل العلم مع حفظ ذلك وفهمه وإدراكه تمامًا، هذا هو التعلم الصحيح، أما مجرد القراء ة والمطالعة فإنها لا تكفي في التعلم وإن كانت مطلوبة، وفيها فائدة لكنها لا تكفي، ولا يكفي الاقتصار عليها۔ولا يجوز التتلمذ علي الكتب كما هو الواقع في هذا الوقت، لأن التتلمذ علي الكتب خطير جدا يحصل منه مفاسد وتعالم أضر من الجهل، لأن الجاهل يعرف أنه جاهل ويقف عند حده، لكن المتعالم يري أنه عالم فيحل ما حرم اللّٰه، ويحرم ما أحل اللّٰه، ويتكلم ويقول علي اللّٰه بلا علم فالمسألة خطيرة جدا۔فالعلم لا يؤخذ من الكتب مباشرة إنما الكتب وسائل، أما حقيقة العلم فإنها تؤخذ عن العلماء جيلًا بعد جيل والكتب إنما هي وسائل لطلب العلم“

ترجمہ:تین مسائل (یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، رسول اللہ ﷺکی معرفت اور دین اسلام کی معرفت) یہاں تعلم (علم حاصل کرنے) سے مراد علماء کرام سے علم حاصل کرنا، اسے حفظ کرنا، اس کا فہم و ادراک حاصل کرنا ہے۔یہی تعلیم ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ محض پڑھائی یا جس طرح نام دیا جاتا ہے آزادانہ مطالعہ کیا جائے، یہ تعلم نہیں بلکہ تعلم تو یہ ہے کہ علماء کرام سے (علم) حاصل کیا جائے اس کے حفظ، فہم اور مکمل ادراک کے ساتھ، یہ ہے صحیح معنوں میں علم حاصل کرنا، جبکہ صرف خود کتاب پڑھنا اور مطالعہ کرنا اگرچہ مطلوب تو ہے مگر تعلم کے لیے کافی نہیں، اس میں فائدہ بھی ہے مگر یہ کفایت نہیں کرتا اور اس پر اقتصار کرنا کافی نہیں۔ کتابوں کا تلمذ اور شاگردی اختیار کرنا جائز نہیں جیسا کہ لوگوں کی موجودہ حالت ہے، کیونکہ کتابوں کا تلمذ اختیار کرنا بہت خطرناک ہے جس سے بہت مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور یہ تعالم تو جہل سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ جاہل جانتا ہے کہ وہ جاہل ہے لہٰذا وہ اپنی حد پر رک جاتا ہے، لیکن المتعالم (علم کا دعویدار)سمجھتا ہے کہ وہ عالم ہے لہٰذا وہ اللہ کے حلال کردہ کو حرام اور حرام کردہ کو حلال قرار دیتا ہے اور اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بولتا اور کلام کرتا ہے لہٰذا یہ مسئلہ بہت خطرناک ہے۔ چنانچہ علم کتابوں سے براہ راست حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ کتابیں تو وسیلہ ہیں، جبکہ حقیقی معنوں میں علم تو علماء کرام سے حاصل ہوتا ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے، اور کتابیں تو علم حاصل کرنے کے وسائل میں سے ہیں۔(شرح الاصول الثلاثۃ، صفحہ:۳۱-۳۲، مطبوعہ بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر(الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی)

19رمضان المبارک 1446ھ 20 مارچ 2025ء

نظرثانی و ترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں