نماز عشاء کے فرض فاسد ہونے کی وجہ سے تراویح دوبارہ پڑھنے کا حکم

نماز عشاء کے فرض فاسد ہونے کی وجہ سے تراویح دوبارہ پڑھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز عشاء، تراویح اور وتر پڑھ لینے کے بعد پتہ چلا کہ کسی وجہ سے عشاء کے فرض فاسد ہو گئے تھے تو کیا صرف فرضوں کا اعادہ ہوگا یا تراویح اور وتر کا بھی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر عشاء کے وقت کے دوران پتہ چل گیا تو فرضوں کے ساتھ نماز تراویح کو بھی دوبارہ پڑھنا ہوگا کیونکہ نماز تراویح عشاء کے تابع ہے جبکہ وتر کی نماز درست ہوگئی لہذا دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں ۔نیز اگر عشاء کا وقت گزر جانے کے بعد پتہ چلا تو تراویح کی قضاء نہیں ہوگی نہ جماعت کے ساتھ اور نہ تنہا،اگر تراویح قضاء پڑھ بھی لی تو نفل مستحب ہوں گے۔

الحلبی الکبیری(غنیۃ المستملی) میں شیخ ابراہیم حلبی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

”لو صلی العشاء بإمام أي مع إمام أو مقتدیا بإمام وصلی التراویح بإمام آخر ثم علم أن الإمام الأول کان قد صلی العشاء علی غیر وضوء أوعلم فسادھا بوجہ من الوجوہ فإنہ یعید العشاء لفسادھا ویعید التراویح تبعا لھا کما یعید سنتھا ولا یلزمہ إعادۃ الوتر في مثل ھذہ الصورۃ عند أبي حنیفۃ لاستقلالہ وعدم تبعیتہ للعشاء عندہ“

ترجمہ: اگر کسی نے عشاء کی نماز کسی امام کے ساتھ یعنی کسی امام کے ساتھ مقتدی ہو کر پڑھی پھر تراویح کسی دوسرے امام کے ساتھ ادا کی بعد میں معلوم ہوا کہ پہلا امام (جس کے ساتھ عشاء پڑھی تھی) اس نے بے وضو نماز پڑھا دی تھی یا کسی اور وجہ سے اس کی نماز فاسد ہوگئی تھی تو ایسی صورت میں وہ عشاء کی نماز دوبارہ پڑھے گا کیونکہ وہ فاسد ہوچکی ہے اور تراویح کی نماز بھی اس کے تابع ہونے کی وجہ سے دوبارہ پڑھنی ہوگی جیسے کہ اس کی سنت کو دوبارہ پڑھے گا۔لیکن ایسی صورت میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وتر کو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہوگا کیونکہ وتر ان کے نزدیک عشاء کے تابع نہیں بلکہ ایک مستقل عبادت ہے۔(الحلبی الکبیری، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل و التراویح، صفحہ404،403،مطبوعہ دار سعادت)

بنایہ شرح ہدایہ میں علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

”إمام صلى العشاء بغير وضوء ولم يعلم ثم صلى بهم إمام آخر التراويح ثم علموا فعليهم إعادة العشاء والتراويح لأن وقتها بعد العشاء وهو المختار “

ترجمہ:ایک امام نے بغیر وضو عشاء کی نماز پڑھائی اور اسے علم نہیں تھا، پھر ایک دوسرے امام نے ان لوگوں کو تراویح پڑھائی۔ بعد میں جب انہیں اس بات (پہلے امام کا بغیر وضو کے نماز پڑھانا) کا علم ہوا تو ان پر عشاء اور تراویح دونوں کی دوبارہ ادائیگی لازم ہے کیونکہ تراویح کا وقت عشاء کے بعد ہوتا ہے، اور یہی مختار قول ہے۔(البنایہ شرح ہدایہ،کتاب الصلوۃ،فصل فی قیام شھر رمضان،صفحہ 561، دارالکتب العلمیہ،بیروت)

مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے

”وقت التراويح بعد صلوة العشاء إلى آخر الليل لأنها تبع للعشاء دون الوتر حتی لو ظھر أن العشاء صليت بلاطهارة والتراويح بطهارة أعيدت التراويح مع العشاء لا الوترعند الامام“

ترجمہ:تراویح کا وقت نمازِ عشاء کے بعد سے لے کر رات کے آخر تک ہے کیونکہ یہ عشاء کے تابع ہیں مگر وتر عشاء کے تابع نہیں یہاں تک کہ اگر یہ ظاہر ہو جائے کہ عشاء بغیر طہارت کے پڑھی گئی تھی، جبکہ تراویح طہارت کے ساتھ ادا کی گئی تھی، تو عشاء کے ساتھ تراویح کو دوبارہ پڑھا جائے گا نہ کہ وتر کو امام اعظم کے نزدیک ۔(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، کتاب الصلوٰۃ، باب التراویح، جلد 1 ،صفحہ 136، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”والصحیح أن وقتہا ما بعد العشاء إلی طلوع الفجر قبل الوتر وبعدہ حتی لو تبین أن العشاء صلاہا بلا طہارۃ دون التراویح والوتر أعاد التراویح مع العشاء دون الوتر؛ لأنہا تبع للعشاء ہذا عند أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالی فإن الوتر غیر تابع للعشاء في الوقت عندہ. والتقديم إنما وجب لِاجلِ الترتيب وَذالِكَ يسقط لِعذرِ النسيان فيصح إذا أدى قبل العشاء بالنسيان بخلاف التراويح فإِن وَقْتها بعْد أَدَاء الْعِشَاء“

ترجمہ:اور صحیح یہ ہے کہ اس (تراویح) کا وقت عشاء کے بعد سے فجر طلوع ہونے تک ہے وتر سے پہلے بھی(تراویح پڑھ سکتے) اور بعد میں بھی یہاں تک کہ اگر یہ ظاہر ہو جائے کہ اس نے عشاء بغیر طہارت کے ادا کی تھی جبکہ تراویح اور وتر طہارت کے ساتھ ادا کیے تھے تو وہ عشاء کے ساتھ تراویح کو بھی دوبارہ پڑھے گا لیکن وتر نہیں دہرائے گا کیونکہ تراویح عشاء کے تابع ہے یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے کیونکہ ان کے نزدیک وتر عشاء کے وقت کے تابع نہیں ہیں اور تقدیم ( فرضوں کا وتر پر مقدم ہونا) ترتیب کی وجہ سے واجب ہوئی اور یہ(وجوبِ ترتیب) عذرِ نسیان کی وجہ سے ساقط ہو جائے گی پس اگر کسی نے بھول کر وتر نماز عشاء سے پہلے ادا کر لیے تو وہ صحیح ہوں گے ،لیکن تراویح کا معاملہ اس سے مختلف ہے کیونکہ اس کا وقت عشاء کے ادا کرنے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔(الفتاوی العالمکیریۃ، کتاب الصلوۃ، فصل فی التراویح، جلد نمبر 1،صفحہ 126،127 ، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”اس (تراویح) کا وقت فرضِ عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہیں اور بعد بھی تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہوگیا تو امام کے ساتھ و تر پڑھ لے پھر باقی ادا کرلے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے اوراگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ نماز عشا بغیر طہارت پڑھی تھی اور تراویح و وتر طہارت کے ساتھ تو عشا و تراویح پھر پڑھے وتر ہوگئے۔“( بہار شریعت، باب تراویح کا بیان،جلد 1، حصہ4، صفحہ 694 ، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

تنویر الابصار مع درمختار میں ہے

”ولا تقضى إذا فاتت اصلاً ولا وحده فى الاصح فإن قضاها كانت نفلا مستحبا ولیس بتراویح کسنۃ مغرب وعشاء“

ترجمہ:اور جب (تراویح) فوت ہو جائیں تو اس کی اصلاً(جماعت کے ساتھ) قضا نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اکیلے قضا کی جائے گی، یہی اصح قول ہے۔ پس اگر کوئی اس کی قضا کر لے تو وہ نفل مستحب شمار ہوں گی وہ تراویح نہیں کہلائے گی جیسے مغرب و عشاء کی سنتیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الصلوٰۃ، فصل فی التراویح، جلد 1 ،صفحہ 598 ، رشیدیہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے

”اذا فاتت التراویح لا تقضی بجماعۃ ولابغیرھا وھو الصحیح ھکذا فی فتاوی قاضیخان“

ترجمہ:اگر تراویح کی نماز چھوٹ جائے تو اسے نہ جماعت کے ساتھ قضا کیا جائے گا اور نہ ہی بغیر جماعت کے۔ یہی صحیح قول ہے اسی طرح “فتاویٰ قاضی خان” میں مذکور ہے۔(فتاوی عالمگیری،کتاب الصلوٰۃ،فصل فی التراویح،جلد 1،صفحہ 129،دارالکتب العلمیہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”اگر(تراویح) فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں اور اگر قضا تنہا پڑھ لی تو تراویح نہیں بلکہ نفل مستحب ہیں ، جیسے مغرب و عشا کی سنتیں۔“(بہار شریعت، باب تراویح کا بیان، جلد1، حصہ 4،صفحہ 694 ، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصواب

کتبہ

محمد عرفان مدنی قصوری

ممبر فقہ کورس

15 رمضان المبارک 1446 ھ بمطابق 16 مارچ 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں