زکوۃ میں اشیاء کا ریٹ موجودہ ہوگا یا سابقہ؟

زکوۃ میں اشیاء کا ریٹ موجودہ ہوگا یا سابقہ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے پچھلے سال کچھ کرسیاں بیچنے کی نیت سے خریدی تھیں اور وہ زکوۃ کے نصاب کو پہنچ گئی تھیں اور اب بھی ہیں ۔ پچھلے سال ایک کرسی کی قیمت 14 ریال جبکہ اس سال 10 ریال ہے ؟ تو زکوۃ کس حساب سے نکالوں؟( اس سال کی قیمت کے اعتبار سے یا پچھلے سال کی قیمت کے اعتبار سے) سائل : شمس عطاری ( سعودیہ عرب)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب

صورت مسئولہ میں اس موجودہ سال جو قیمت ہے اس حساب سے زکوۃ دینا ہوگی۔

فتاوی عالمگیر ی میں ہے :

”تعتبر القيمة عند حولان الحول“

ترجمہ:سال مکمل ہونے پر جو قیمت ہوگی اس کا اعتبار کیا جائے گا ۔(فتاوی عالمگیری ، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض وفيه فصلان،الفصل الثاني في العروض،جلد1،صفحہ179،دارالفکربیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”مالِ تجارت میں سال گزرنے پر جوقیمت ہوگی اس کا اعتبار ہے۔“( بہار شریعت ، صفحہ 907 ، جلد 01، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

و اللہ اعلم و رسولہ اعلم بالصواب ﷺ

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا ابو اجمل فیصل مدنی

02 رمضان المبارک 1446ھ بمطابق03 مارچ 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں