میت کا عرفہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ میت کا عرفہ کرنا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
تیرہ یا چودہ شعبان المعظم کو لوگ اس سال میں فوت ہونے والے اپنے رشتہ داروں کے نام سے ایصال ثواب کرتے ہیں اور اس میں شیرینی یا حلوہ،وغیرہ بنا کر فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کا اہتمام کرتے ہیں ،اس کو عرفہ منانا یا عرفہ کا ختم کہتے ہیں۔یہ مستحب و ایصال ثواب کا ہی ایک ذریعہ ہے اگر کوئی نہ بھی کرے تو کوئی حرج نہیں اسی طرح کوئی شب برات کی فاتحہ کے ساتھ ہی اپنے مرحومین کی فاتحہ دلادے تب بھی حرج نہیں ثواب مل جائے گا دونوں کو الگ الگ کریں یا چاہیں ایک ساتھ مقصود ایصال ثواب ہے۔
البتہ میت کے عرفہ میں یہ کہنا کہ شب برات سے ایک دن پہلے یا دو دن پہلے ہی ہو سکتا ہے یا جب تک عرفہ نہ ہو گا روح بھٹکتی رہے گی یا مؤمنین کی جماعت یعنی قبرستان میں داخل نہ ہوگی یہ سب جہالت ہے، اللہ تو فیق دے تو ہر دن ہر ہفتہ ہر مہینہ ایصال ثواب کرسکتے ہیں۔ پھر اس میں کسی خاص چیز پر ہی فاتحہ ہوتی ہے ایسا ماننا بھی درست نہیں ہر جائز اشیاء پر نیاز و فاتحہ درست ہے۔ اسی طرح یہ نظریہ رکھنا کہ فقط رشتے داروں یا امراء کو دینا اور غرباء و مساکین کو چھوڑ دینا درست نہیں۔
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے روح نکالنے،عرفہ سے پہلے میت کا فاتحہ الگ دینے اور برادری میں تقسیم کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
” روح نکالنا محض جہالت و حماقت وبدعت ہے،ہاں فاتحہ دلانا اچھا ہے، شکر، چاول مساکین کو تقسیم کرنا خوب ہے مگر برادری میں موت کے لئے نہ بانٹا جائے، عرفہ تک یابعد تک اگر الگ ہمیشہ فاتحہ دیں تو حرج نہیں، شامل رکھیں تو حرج نہیں، یہ سمجھنا کہ عرفہ تک الگ کا حکم ہے پھر شامل کا، یہ غلط وجہالت ہے، میّت کی دعوت برادری کے لیے منع ہے ان کا بُرا ماننا حماقت ہے، ہاں برادری میں جو فقیر ہو اسے دینا اور فقیر کے دینے سے افضل ہے۔ “(فتاوی رضویہ،جلد 9،صفحہ 611،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
17شعبان المعظم 1446 ھ /16فروری 2025 ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری