آخری قعدہ کے بعد کھڑے ہونا اور پھر بیٹھ کر تشہد و سجدسہو کے احکام
کیا فرماتے ہیں علمائےدین اس بارے میں کہ آخری رکعت میں التحیات کے بعد اٹھ کھڑے ہونے پھر یاد آنے پر بیٹھے تو کیا دوبارہ التحیات پڑھنی ہو گی یا ایسے ہی سجدہ سہو کریں گے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملك الوھاب
بیان کی گئی صورت حکم شرعی یہ ہے کہ جب آخری قعدہ میں تشہد پڑھ کر غلطی سے کھڑا ہوجائے تو یاد آتے ہی یا امام لقمہ لیتے ہی وآپس جائے اور بغیر تشہد پڑھے سجدہ سہو کرلے کہ اس صورت میں پہلا پڑھا ہوا تشہد باطل نہیں ہوتا ہے۔
در مختار میں ہے
”وان قعد فى الرابعة مثلا قدر التشهد ثم قام عاد و سلم ولو سلم قائمة صح“
ترجمہ اور اگر چوتھی رکعت میں مثلاً تشھد کی مقدار بیٹھ گیا پھر کھڑا ہو گیا تو لوٹ آئے اور سلام پھیر دے اگر کھڑے کھڑے سلام پھیر دے تب بھی صحیح ہے۔(درمختار، جلد 2، صفحہ 667، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
” عود کرکے بیٹھنا چاہیے اور معا سجدہ سہو میں چلا جائےدوبارہ التحیات نہ پڑھے۔“( جلد 8،صفحہ 183، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
16صفر المظفر1447ھ بمطابق 11اگست2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری