مقتدی سے سجدہ سہو والا عمل ہوجائے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ا س بارے میں کہ ہم امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں تو کبھی ایسا ہوتا ہے چار رکعت والی نماز میں امام صاحب دوسری رکعت میں التحیّات پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ہم التحیّات پڑھ کر غلطی سے کچھ آگے(درود شریف وغیرہ) بھی پڑھ لیتے ہیں،تو اس صورت میں ہماری کا کیا حکم ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب
امام و منفرد کے لئے فرض و واجب اور سنت مؤکدہ کے قعدہ اولی میں صرف التحیّات پڑھنا ہے اگر بھولے سےالتحیّات کے بعد درود شریف اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تک پڑھ لے تو سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔البتہ اگر کوئی مقتدی بھولے سے ایسا کر لے تو اس پر سجدہ سہو نہیں۔
حدیث پاک میں ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ليس على من خلف الإمام سهو ، فإن سها الإمام فعليه وعلى من خلفه السهو
ترجمہ: امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پرسجدہ سہو نہیں، ہاں! ا گر امام بھول جائے، تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر سجدہ سہو لازم ہے۔(سنن دارقطنی ، باب لیس علی المقتدی سھو، جلد02، صفحہ212، حصہ 1413، مؤسسة الرسالہ، بيروت)
مراقی فلاح میں ہے :
”قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الامام لکم ضامن یرفع عنکم سھوکم وقراء تکم “
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: امام تمہارے لئے ضامن ہے اور تمہاری سہو اور قراء ت کو اٹھا لیتا ہے ۔ (مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ،باب سجود السہو ،صفحہ 252، نور محمد کارخانہ تجارت کتب ،کراچی)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:
”(و مقتد بسھو امامہ ان سجد امامہ)لوجوب المتابعۃ(لا بسھوہ)اصلاً “
یعنی مقتدی پر اپنے امام کے سہو کی وجہ سے تو سجدہ سہو واجب ہوگا ،اگر امام سجدہ سہو کرے کہ امام کی متابعت واجب ہے، لیکن مقتدی پر اپنے سہو کی وجہ سے اصلاً سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔ ( الدر المختار مع رد المحتار ، کتاب الصلاۃ، جلد 02، صفحہ 658 ، مطبوعہ کوئٹہ)
مجمع الأنهر شرح ملتقى الابحر میں ہے :
” لا يلزم سجود السهو بسهو المقتدي لا عليه ولا على إمامه “
یعنی مقتدی کے سہو سے مقتدی و امام دونوں پر سجدہ سہو لازم نہیں۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ، كتاب الصلاة ، باب سجود السهو ،جلد1،صفحہ149)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے فتاویٰ رضویہ ،جلد8،صفحۃ 35 میں میں بھی ایسا ہی فرمایا ہے اور بہار شریعت میں ہے:
”اگر مقتدی سے بحالتِ اقتدا سہو واقع ہوا، تو سجدۂ سہو واجب نہیں۔“(بہار شریعت ،جلد01،صفحہ715 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
مفتی وقار الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
”اور اگر امام کے پیچھے سہواً کوئی واجب چھوٹ گیا تو پھر سجدہ سہو واجب نہ ہوگا ۔“(وقار الفتاوی،ج02،ص210،بزم وقار الدین، کراچی، ملخصاً)
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
محمد عادل رضا قادری حنفی
٠١ شعبان المعظم ١٤٤٦ھ 31 جنوری 2025
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری