میدان کربلا اور پانی کا مسئلہ

میدان کربلا اور پانی کا مسئلہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا شہدائے کربلا کو پانی کی کمی تھی یا نہیں؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ حسن رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ ۔ مفتی نعیم الدین مرادآبدی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اور حضرت علامہ مفتی جلال الدین رحمۃ اللہ علیہ ان حضرات نے لکھا ہے کربلا میں تین دن پانی بند تھا۔ تاریخی کتب میں پانی بند ہونے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگرچہ پانی کے گھاٹ پر نافع بن ہلال کا مع لشکر پہرا تھا البتہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت ان سے لڑ کر بیس مشکیزے بھر کر لائے تھے ۔حتی کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دس محرم غسل کرنے والی روایت بھی موجود ہے جس سے پہلے شیعہ ذاکر لکھتا ہے کہ آپ نے کنوا کھودوایا تھا پھر غسل کرنے، وضو کرنے، کپڑے دھونے اور پھر اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر ادا کرنے کا بھی ذکر ہے اور جب کوفیوں کے آپ کو شہید کرنے کا ارادے کے متعلق جان کر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بےہوش ہوگئی تو آپ کے چہرہ مبارک پر پانی چھڑکنے کا بھی تذکرہ موجود ہے۔

ان دلائل کی روشنی میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ پانی پر پہرا لگادینے کے بعد پانی کی قلت تھی اور اگرچہ پانی موجود تھا لیکن بہت زیادہ نہ تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ شہادت کے قریب بالکل ختم ہوگیا ہو اور آپ پیاسے ہی شہید ہوئے ہوں جیسا کہ امام حاکم نے پیاسا شہید ہونے پر اشعار لکھے ہیں۔ واللہ اعلم۔

امام اہلسنت فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب و دانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا۔“(فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 593)

تاریخ طبری میں ہے

”فقام فتیه و سقوا القوم من الماء‌ حتی أرووهم، و اقبلوا یملأون القصاع و الأتوار و الطساس من الماء و یدنونها من الفرس“

جوانوں کا ایک گروہ کھڑا ہوگیا اور انہوں نے ان سب کو سیراب کیا ، ان کے پیالوں اور برتنوں کو پانی سے بھر دیا اور ان کے گھوڑوں کو بھی سیراب کیا۔(تاریخ طبری ، جلد 5 ، صفحہ 401 ، مطبوعہ بیروت)

تاریخ طبری میں ہے

”ولما اشتد علی الحسین و اصحابہ العطش دعا العباس بن علی بن ابی طالب اخاہ ، فبعثہ فی ثلاثین فارسا و عشرین راجلا و بعث معھم بعشرین قربتہ فجاءوا حتی دنوا من الماء لیلا و استقدم امامھم باللواء نافع بن ھلال الجملی ، فقال عمرو بن الحجاج الزبیدی من الرجل، فجیء فقال، ما جاء بک، قال جئنا نشرب من ھذا الماء الذی حلأتمونا عنہ،، ھنسیٔا، قال لا واللہ،، لا اشرب منہ قطرتہ و حسین عطشان و من تری من اصحابہ فطلعوا علیہ۔، فقال لا سبیل الی سقی ھؤلاء انما وضعنا بھذا المکان لنمنعھم الماء ،، فلما دنا منہ اصحابہ قال لرجالہ،۔ املئوا قربکم ،، فشدر الرجالتہ فملوئوا قربھم وثار الیھم عمرو بن الحجاج و اصحابہ فحمل علیھم العباس بن علی و نافع بن ھلال فکفہ وھم، ثم انصرفوا الی رحالھم ، امضوا و وقفو دونھم فعطف علیھم عمرو بن الحجاج و اصحابہ واطردو قلیلا ان رجالا من صداء طعن من اصحاب عمرو بن حجاج طعنہ نافع بن ھلال فظن انھا لیست بشء ، ثم انھا انتقضت بعد ذلک فما منھا وجاء اصحاب حسین بالقرب فادخلوھا علیہ“

جب آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر پیاس کا غلبہ ہوا، تو آپ نے اپنے بھائی عباس بن علی رضی اللہ علہ کو بلایا تیس گھڑ سوار بیس پیادے بیس مشکیں ان کے ساتھ کردیں اور پانی لانے کے لیے روانا کیا ۔ یہ لوگ رات کے وقت نہر کے قریب پہنچے نافع بن ھلال جلی علم لیے ہوۓ سب سے آگے بڑھ گئے، ابن حجاج کہنے لگا کون ہے آو کیوں آۓ ہو ۔ نافع نے کہا ہم تو یہ پانی پینے آۓ ہیں۔

جس پر تم لوگوں نے پہرا دیا ہوا ہے۔ اس نے کہا پانی پی لو کہا امام عالی مقام کو پیاس لگی ہے اور ان کے ساتھیوں کو ان کے بغیر ہم ایک قطرہ بھی نہ پیوں گا۔، اتنے میں اور لوگ بھی اس کے سامنے آۓ ابن حجاج نے کہا ان لوگوں کو پانی پلانا ممکن نہیں۔ ہم اسی کے لیے پہرا دے رہے ہیں، نافع کے ساتھ والے جب آگے اۓ تو انہوں نے پیادوں سے کہا اپنی اپنی مشکیں بھر لو۔ پیادے دوڑ پڑے سب نے مشکیں بھر لی ابن حجاج نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان پر حملہ کیا۔یہ دیکھ کر عباس بن علی نافع بن ھلال نے بھی ان پر حملہ کیا۔ سب کا منہ پھیر دیا پھر اپنے خیموں کی طرف واپس جانے لگے پیادوں سے کہا نکل جاؤ اور خود دشمنوں کو روکنے کے لیے ٹھیرے رہے عمرو بن الحجاج اپنے ساتھیوں کے ساتھ پھر ان لوگوں پر پلٹ پڑا اور ہٹا دیا اصحاب ابن حجاج میں سے ایک شخص پر نافع بن ھلال نے نیزہ کا وار کیا جس سے اس کو زخم لگا بعد میں وہ پھٹ گیا اور وہ مر گیا اور اصحاب امام عالی مقام کی بارگاہ میں پانی سے بھری مشکیں لیکر آئیں اور آپ کی خدمت میں پیش کردی۔(تاریخ طبری ، جلد 5 ، صفحہ 405، مطبوعہ بیروت)

البدایه والنہایه میں ہے

”فعدل الحسین الٰی خمیۃ قد نصبت فاغتسل فیھا وتطیب بمسک کثیر ودخل بعدہ بعض الامراء فعلوا کما ف“

پس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خیمے کی طرف آئے جو نصب کیا گیا تھا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے غسل فرمایا اور بہت سی مشک کی خوشبو لگائی اور ان کے بعد بہت سے امراء داخل ہوئے جنہوں نے آپ کی طرح کیا یعنی غسل کیا اور خوشبو لگائی ۔ (البدایة والنھایة،جلد 8 ، صفحہ 165، مکتبہ المعارف بیروت)

البدایه والنہایه میں ہے

”یا اھل الکوفہ ادعوتم الحسین الیکم حتٰی اذا اتٰکم وحلتم بینہ وبین الماء الفرات الذی یشرب منہ الکلب والخنزیر وقد صرعنھم العطش “

اے اہل کوفہ تم نے حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا یہاں تک کہ وہ تمہارے پاس آگئے تو تم ان کو اورماء فرات کے درمیان حائل ہوگئے جس پانی میں سے کُتے اور خنزیر بھی پیتے ہیں ۔ (البدایہ والنہایہ ،جلد 8، صفحہ 166، مکتبہ المعارف بیروت)

تاریخ طبری و البدایہ والنہایہ میں ہے

حضرت امام عالی مقام سے حضرت زینب آہ و زاری کرتی ہیں اور کہتی ہیں یہ لوگ آپ کو کیا قتل کریں گے ؟ اور آپ آہ وزاری کر رہی تھیں

”و خرت مغشیا علیھا فقام الیھا الحسین فصب علی وجھھا الماء“

بے ہوش ہوکر گر جاتی ہیں۔ امام عالی مقام اگے آئےاور آپ کے چہرہ پر پانی چھڑکا۔(تاریخ طبری، جلد 5 ،صفحہ 420، مطبوعہ بیروت، البدایہ والنہایہ ،جلد 8،صفحہ 177،مکتبہ المعارف بیروت)

بحار الانوار میں شیعہ ذاکر محمد باقر المجلسی لکھتا ہے

”ثم ان الحسین امر بحفیرة فحفرت حول عسکرہ“

پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے کنوا کھودنے کا حکم دیا پس لشکر کے گرد کنوا کھودا گیا۔

آگے لکھتا ہے

”ثم قال لا صحابہ قوموا فاشربوا من الماء یکن آخر زادکم و توضؤوا واغتسلوا و اغسلوا ثیابکم لتکون اکفانکم ثم صلیٰ بھم الفجر“

پھر امام رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا اٹھو ، پانی پیو ، شاید تمھارے لیے یہ دنیا میں پینے کی آخری چیز ہو اور وضو کرو ، نہاؤ اور اپنے لباس کو دھو لو تاکہ وہ تمہارے کفن بن سکیں ، اس کے بعدامام حسین نے اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز فجر باجماعت پڑھی ۔ (بحارالانوار، جلد 44 ص 318 317 ، ، دار احیاء التراث العربی بیروت)

الاخبار الطوال میں شیعہ ذاکر ابو حنیفہ احمد بن داؤد الدینوری لکھتا ہے

”ولما اشتد بالحسین واصحابه العطش امر اخاہ العباس بن علی وکانت امه من بنی عامر بن صعصة ان یمضی فی ثلاثین فارسا وعشرین رجلا مع کل رجل قربة حتی یاتوا الماء فیحاربوا من حال بینھم وبینه فمضی العباس نحو الماء وامامھم نافع بن ھلال حتی دنو من الشریعة فمنعھم عمرو بن الحجاج فجالدھم العباس علی الشریعة بمن معه حتی ازالوھم عنھا واقتحم رجالة الحسین الماء فملاو قربھم ووقف العباس فی اصحابه یذبون عنھم حتی اوصلوا الماء الی عسکر الحسین“

پس جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے اصحاب نے سخت پیاس محسوس کی تو آپ نے اپنے بھائی عباس بن علی کو حکم دیا کہ وہ جن کی والدہ کا تعلق بنی عامر بن صعصعہ سے تھا پھر آپ تیس گھوڑوں کے ساتھ اور بیس مردوں کے ساتھ گئے اور ہر شخص کے ساتھ ایک پانی کا مشکیزہ تھا پس وہ آپ اور ان کے درمیان جنگ ہوگئی پس حضرت عباس پانی کے پاس گئے کہ جس پر نافع بن ھلال لشکر کا سپہ سالار تھا یہاں تک کہ اس نے آپ کو گھاٹ سے پانی لینے کی اجازت دی پس عمرو بن الحجاج نے آپ کو روکا ۔پس حضرت عباس اس پانی کے گھاٹ تک پہنچ گئے اپنے ساتھیوں سمیت اور آپ نے انہیں ہٹھایا اور حسینی لشکر خطرہ مول لے کر پانی تک پہنچا سب نے اپنے مشکیزے بھرے اور حضرت عباس نے اپنے اصحاب کے ساتھ وقف کیا اور انہیں ہٹا کر وہ پانی لے کر لشکر حسین سے جاملے۔(الاخبار الطوال ، صفحہ 255 ، دار احیاء التراث العربی بیروت)

الفتوح میں شیعہ ذاکر احمد بن اعثم الکوفی لکھتا ہے

”فقد بغلنی ان الحسین یشرب الماء ھو و اولادہ وقد حفروا الا بار و نصبوا الاعلام فانظر اذا ورد علیک کتابی ھذا فا منعھم من حفر الا بار ما استطعت و ضیق علیھم ولا تدعھم یشربوا من ماء الفرات قطرتہ واحدتہ“

ابن زیاد نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ امام عالی مقام نے اور ان کی اولاد و اصحاب نے پانی پینے کے لۓ کنویں کھود رکھے ہیں۔ اور میدان میں جھنڈے گاڑ رکھے ہیں خبر دار میرا خط جب تمہیں مل جاۓ تو مزید کھدائی سے روک دیں اور انہیں اتنا تنگ کیا جاۓ وہ فرات سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکیں۔الفتوح ،جلد 5 ،صفحہ 91، دار الاضواء)

فتاویٰ شارح بخاری میں ہے :

”امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے عاشوراہ کی صبح کو غسل فرمایا یہ روایت بدایہ نہایہ میں ہے

فعدل الحسین الی خیمتہ قد نصبت

فاغتسل فیھا وانطلی بالنورتہ وطیب بمسک کثیر۔ و دخل بعدہ بعض الأمراء ففعلوا کما فعل۔

امام عالی مقام نے جب اپنے ساتھیوں کی صف بندی کردی پھر آپ اپنے نصب کیۓ ہوۓ خیمے میں واپس آۓ اور آپ نے غسل کیا چونے کی مالش کی بہت سی کستوری کی خوشبو لگائی پھر آپ کے بعد کچھ امراء آۓ انہوں نے غسل کیا خوشبو لگائی بلکہ اسی ایک صفحہ پہلے یہ روایت بھی ہے

و خرت مغشیا علیھا فقام الیھا و صب علی وجھھا الماء،

حضرت زینب بیہوش ہوکر گر پڑی امام عالی مقام پاس گۓ اور ان کے چہرے پر پانی چھڑکا،،

طبری میں بھی یہ روایت ہے بلکہ رافضیوں کی کتب میں بھی ہے ہمارے یہاں کے شیعوں نے نقن میاں کو بلایا تھا جو مجتھد تھے انہوں نے تقریر میں یہ روایت بیان کی جس پر جاہلوں نے بہت شور کیا ان کو گالیاں دیں ایک جاہل نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ایسے دو ایک واعظ آگۓ تو ہمارا مذہب۔۔۔۔۔۔۔۔میں مل جاۓ گا جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اس روایت میں استبعاد نہیں ہے صحیح ہو سکتی ہے یہ صحیح ہے کہ سات محرم کو ابن زیاد کے حکم سے نہر فرات پر پہرہ بیٹھا تھا۔ کہ امام عالی مقام کے لوگ پانی نہ لینے پائیں۔، مگر یہ بھی روایت ہے اس پہرے کے با وجدو حضرت عباس کچھ لوگوں کو لیکر کسی نہ کسی طرح پانی لایا کرتے تھے۔، شہادت کے ذاکرین لیکن آب بندی کی روایت کو جس طرح بیان کرتے ہیں۔،

اگر نہ کریں تو محفل کا رنگ نہیں جمیگا۔، اس روایت میں اور وقت شہادت علی اصغر و حضرت علی اکبر کا پیاس سے جو حال مذکور ہے منافات نہیں۔

ہو سکتا ہے صبح کو پانی اس قدر ہو کہ سب نے غسل کرلیا پھر پانی ختم ہو گیا،جنگ شروع ہوجانے کی وجہ سے فرات کے پہرے داروں نے زیادا سختی کردی ہو اس کی تائید اس سے بھی ہو رہی ہے کے حضرت عباس فرات سے مشک بھرکر لارہے تھے کہ شہید ہوۓ،، ہمیں اس پر اصرار نہیں کہ یہ روایت صحیح ہے ۔ مگر میں قطعی یہ حکم بھی نہیں دے سکتا کہ یہ روایت غلط ہے، تاریخی واقعات جذبات سے نہیں جانچے جاتے۔

حقائق اور روایات کی بنیاد پر جانچے جاتے ہیں۔“(فتاوی شارح بخاری ،جلد 2 ،صفحہ 68، مطبوعہ دائر البرکات)

البدایہ والنہایہ میں ہے:

” أَنْشَدَهُ الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ وَغَيْرُهُ لِبَعْضِ الْمُتَقَدِّمِينِ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ

جَاءُوا بِرَأْسِكَ يَا ابْنَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ … مُتَزَمِّلًا بِدِمَائِهِ تَزْمِيلَا

وَكَأَنَّمَا بِكَ يَا ابْنَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ … قَتَلُوا جِهَارًا عَامِدِينَ رَسُولَا

قَتَلُوكَ عطشانا ولم يتدبروا … في قتلك القرآن والتنزيلا

وَيُكَبِّرُونَ بِأَنْ قُتِلْتَ وَإِنَّمَا … قَتَلُوا بِكَ التَّكْبِيرَ والتهليلا “(البداية والنهاية،جلد8،صفحہ198،دار الفكر)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

05 محرم الحرام 1446ھ11 جولائی 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں