عورتوں کے دودھ کا بینک اور جاوید غامدی کا نظریہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ غامدی نے ملک بینک کے بارے میں کہا کہ رضاعت ایک اہتمام سے کرنے والا عمل ہے جس میں رضاعی والدہ اور بچے کے والدین کی باہمی رضامندی شامل ہو اور عورت بچے کو گود میں لے کر اپنی چھاتی سے دودھ پلائیں تب ہی رضاعت ثابت ہوگی۔ اس میں ایک متعین خاتون کا ہونا اور اس کا اس حیثیت سے پلانا کہ میں اب اس کو رضاعی ماں کے طور پر دودھ پلاؤں گی تب ہی رضاعت ثابت ہوگی ورنہ دو تین قطرے نکال کر پلادینے سے اور اس طرح مختلف عورتوں کے دودھ کے اختلاط کے نتیجہ میں رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور چونکہ ڈونر کا ارادہ اس کی رضاعی ماں بننے کا نہیں بلکہ عام چیریٹی کی طرح جیسے پیسے وغیرہ ڈونیٹ کرنا ہوتا ہے اور دوسرا اس میں عورتوں کے دودھ کا اختلاط ہوتا ہے تو اس صورت میں حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی اور دودھ بیچنا تو انسان کے پاس کوئی چیز موجود ہے تو اسے بیچ سکتا ہے کیونکہ قرآن میں دودھ پلانے والی کو معاوضہ دینے کا حکم ہے اس کے علاوہ اگر بیوی کو طلاق دے دی اور بعد طلاق اسے بھی اپنے بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ دینا ہوگا تو اب اگر کوئی معاوضہ لے لیں تو اسے حرام نہیں کہہ سکتے ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
جاوید غامدی کا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جو لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو کرکے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔تاریخ میں بھی ایسے گمراہ کن مولوی شیخ ابوالفضل جیسے آئے ہیں۔ جاوید غامدی ہر اس مسئلہ میں رعایت دے گا جو ایک جدید مسئلہ ہوگا اور شریعت کے مخالف ہوگا تاکہ عام عوام اور سیکولر قسم کے لوگ غامدی کو پسند کریں کہ یہ بہت روشن خیال ہے۔جاوید غامدی احادیث کا منکر بلکہ دیگر کئی اہم عقائد کا بھی منکرہونے کے ساتھ ساتھ قادیانی نواز بھی ہے،اس شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ انگریزوں کا ایجاد کردا فتنہ ہے جسے میڈیا کے کچھ لوگ عوام میں مشہور کرکے سیکولر و لبرل ازم کو عام کرنے کی مذموم کوشش میں ہیں۔
جاوید غامدی ہر مسئلہ میں اپنی عقل و فلسفہ کو زبردستی گھسانے کی کوشش کرتا ہے۔ اب اس مسئلہ میں دیکھ لیں کی رضاعت کا حکم بغیر کسی قید کے قرآن وحدیث میں بیان ہوا اب اس نے اپنے پاس سے قیودات لگالیں کہ اس طرح پیا جائے گاتو ہوگاورنہ نہیں ہوگا۔ اس طرح کی قیودات تو اس کے چیلے اور بھی لگاسکتے ہیں کہ فلاں موسم میں بچہ دودھ پیےگا تو حرمت ہوگی، عورت نہ کھڑی ہو نہ بیٹھی ہو تب ہوگی۔یونہی پھر دیگر اہم مسائل میں بھی ایسی بیہودہ قیودات کوئی لگاسکتا ہے جیسے خنزیر کا حرام ہونا قرآن سے ثابت ہے اب غامدی یا اس کا کوئی چیلا یہ کہہ دے کہ خنزیر وشراب تب حرام ہیں جب گرم علاقے میں ہوں اور بندہ حرام کی نیت سے ہی اسے کھائےاور پیے ورنہ ٹھنڈے علاقے میں کوئی سردی سے بچنے کے لیے خنزیر کھائے یا شراب پیے تو معاذ اللہ جائز ہے۔
رضاعت کے بارے میں حدیث پاک میں واضح اصول فرمایا گیا ہے کہ جو رضاعت نشوونما کا ذریعہ ہو وہ حرمت کو پیدا کرتی ہے۔ اب مدت رضاعت میں یہ دودھ کسی بھی ذریعے سے بچے کے پیٹ میں جائے بلکہ ناک کے ذریعے جانے سے بھی رضاعت ثابت ہوجائے گی۔یونہی ایک قطرے کی صورت میں بھی دودھ پینے سے بھی رضاعت متحقق ہو جائے گی کیونکہ حرمت رضاعت میں قلیل اور کثیر میں کوئی فرق نہیں ہے۔
لہذا عورتو ں کے دودھ بینک سے جو بچہ اپنی رضاعت کی مدت میں دودھ پیے گا تو اس کی حرمت اس دودھ والی عورت سے ہوجائے گی۔ عورتوں کا دودھ اگر آپس میں مل جائے تو رضاعت تب بھی متحقق ہوگی لیکن کس کی طرف سے ہوگی اس بارے میں مختلف قول ہے ایک قول کے مطابق جس کا دودھ غالب ہوا اس کی طرف سے رضاعت متحقق ہوگی اور اگر دونوں کا دودھ برابر ہو تو دونوں کی طرف سے رضاعت متحقق ہوگی اور ایک قول کے مطابق غالب اور مغلوب کا اعتبار نہیں دونوں کی طرف سے رضاعت متحقق ہو جائے گی ۔ اب بینک والے مختلف عورتوں کا دودھ مکس کریں گے تو یہ لحاظ رکھنا کہ کس پیکٹ میں کس کس عورت کا کتنا دودھ ہے یہ بہت مشکل بلکہ فی زمانہ جو اداروں کے حالات ہیں اس میں تو ناممکن ہے۔
غامدی کا یہ کہنا کہ کہ انسان اپنے اعضاء بیچ سکتا ہے اور مذکورہ قرآنی آیات سے اس کا استدلال باطل ہے کیونکہ کسی کو اجرت پر رکھنا اور کسی چیز کو بیچنا دو الگ الگ معاملات ہیں اور کسی چیز کو بیچنے کے لیے اس کا مال ہونا ضروری ہے جبکہ انسانی دودھ اور اعضاء مال نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے پاس اللہ عزوجل کی امانت ہیں جبکہ کسی جگہ اجرت پر کام کرنا مثلاً کئی جاب کرنا اور وقت کا اجارہ کرنا یہ الگ معاملہ ہے عورت کو طلاق دینے کے بعد اس کا نان و نفقہ شوہر پر واجب نہیں ہوتا اس لیے اپنے اخراجات کے لیے وہ سابقہ شوہر سے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے اور دائی کو دودھ پلانے کی اجرت اس کی اس خدمت کا اجر یا عوض ہے جو اس نے دودھ پلا کر بچے پر احسان کیا ہے کہ جس وقت اس کی خوارک کا ذریعہ فقط اس کا دودھ تھا۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
” وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ “
ترجمہ کنز الایمان : (تم پر حرام ہوئیں )تمہاری وہ مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں ۔(پارہ 4، سورۃ النساء ،آیت 23)
صحیح البخاری میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب“
ترجمہ:جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت(دودھ کے رشتے کی وجہ ) سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔(صحیح البخاری ،کتاب الشہادات ، باب الشہادۃ علی الخ ، جلد1، صفحہ360،مطبوعہ کراچی)
سنن بیہقی اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
”لارضاع الّا ما أنشز العظم و أنبت اللحم“
ترجمہ: اس رضاعت کا اعتبار ہے جس سے گوشت اور ہڈیاں بنیں۔(سنن البيهقي الكبرى ، باب ما ورد في اللبن يشبه عليه، جلد 8 ، صفحہ 765،دار الكتب العلمية بیروت)
سنن ترمذی میں ہے
” عن سلمة قالت رسول الله صلی الله عليه وآلہ وسلم لا يحرم من الرضاعة إلا ما فتق الأمعاء في الثدي وكان قبل الفطام “
ترجمہ : حرمت صرف اُس رضاعت سے ثابت ہوتی ہے ، جس سے میں بچے کی آنتیں صرف پستانوں کے دودھ سے کھلیں ، اور یہ دودھ چھڑانے کی مدت سے قبل ہو ۔ (سنن ترمذی، كتاب الرضاع، جلد 3، صفحہ 458 رقم 1152 ،دار احياء التراث العربي بيروت)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے :
فی الثدیفتق کے فاعل کا حال ہے جیسے”تَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالَ بُیُوتًا”یعنی جو دودھ عورت کے پستان میں سے ہو اور بچے کی آنتوں میں پہنچ کر اس کی بھوک دفع کرے خواہ پستان ہی سے پلایا جائے یا چمچے وغیرہ میں لے کر۔خلاصہ یہ ہے کہ بچہ کو شیر خوارگی کی مدت میں جو دودھ پلایا جائے اس پر رضاعت کے احکام مرتب ہوں گے بعد میں نہیں۔
حضرت ابن مسعود ہے کہ اس زمانہ میں شیر خوارگی حرمت ثابت کرے گی۔جب دودھ سے گوشت بنے اور ہڈی بڑھے ۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 5 ، حدیث نمبر 3173، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ردالمختار میں ہے
”الحق بالمص الوجور والسعوط(الحق بالمص الخ) تعریض بالرد علی صاحب البحر حیث قال التعریف منقوض طردا اذ قد یوجد المص ولا رضاع ان لم یصل الی الجوف وعکسا اذ قد یوجد الرضاع ولا مص کما فی الوجود والسعوط ثم اجاب بان المراد بالمص الوصول الی الجوف من المنفذین وخصه لانہ سبب للوصول فاطلق السبب واراد السبب واعترضه فی النھر یستلزم الوصول الی الجوف لما فی القاموس مصصته شربتہ شربا رقیقا وجعل الوجود والسعوط ملحقین بالمص“
ترجمہ:گلے اور ناک میں دودھ ٹپکانے کو چوسنے کے ساتھ لاحق کیا گیا ہے ۔اور اس کا قول چوسنے کے ساتھ لاحق کیا گیا ہے صاحب بحر پر رد کیا ہے کیونکہ انہوں نے کہا اور یہ تعریف جامع مانع نہ ہونے کی وجہ سے رد کی گئی کیونکہ بعض اوقات چوسنا پایا جاتا ہے اور رضاعت نہیں ہوتی اگر پیٹ میں دودھ نہ پہنچے اور کبھی رضاعت پائی جاتی ہے اور چوسنا نہیں پایا جاتا جس طرح حلق اور ناک میں قطرات ٹپکانا ۔پھر اس قول کا جواب دیا ہے کہ مص سے مراد دونوں راستوں سے پیٹ تک دودھ کا پہنچنا ہے اسے خاص کیا گیا ہے کیونکہ یہ وصول کا سبب ہے سبب ذکر کیا اور مراد مسبب لیا ۔نہر میں اس پر اعتراض کیا ہے کہ مص پیٹ تک دودھ پہنچانے کو مستلزم ہے کیونکہ قاموس میں مصصتہ میں نے اسے نرمی سے پیا حلق اور ناک میں ٹپکانے کو چوسنے کے ساتھ لاحق کیا گیا ہے۔(ردالمختار ، باب الرضاع ،جلد 4، صفحہ 386 ، دار الفکر بیروت)
بحر الرائق میں ہے
”وصول اللبن من ثدی المراة الی جوف الصغیر من فمه او انفه فی مدہ الرضاع الاتیه۔۔۔۔ فان الحرمة تثبت بایجار ھذا اللبن صبیا وان لم یوجد المص“
ترجمہ: دودھ عورت کے پستان سے بچے کے پیٹ میں پہنچے چاہیے وہ منہ سے ہو یا ناک سے مدت رضاعت میں ۔ تب بھی حرمت ثابت ہو جائے گی جب کہ اس بچے کی نشوونما کا سبب بنے اگرچہ چوسنا نہ پایا جائے۔(بحر الرائق ، جلد 3 صفحہ 387، دار الکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے :
”رضاع (یعنی دودھ کا رشتہ) عورت کا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے، مرد یا جانور کا دودھ پینے سے ثابت نہیں اور دودھ پینے سے مراد یہی معروف طریقہ نہیں بلکہ اگر حلق یا ناک میں ٹپکایا گیا جب بھی یہی حکم ہے اور تھوڑا پیا یا زیادہ بہرحال حرمت ثابت ہوگی۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 7، صفحہ 37 ،مکتبہ المدینہ کراچی)
شرح مشکل الآثار میں ہے :
”کان فی ھذا الحدیث ترک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کشف عدد الرضاع الذی ذکرت تلک السوداء انھا ارضعت عقبۃ والمراۃ التی تزوجھا وفی ذلک ما قد دل علی استواء قلیلہ وکثیرہ فی الحرمۃ لانہ لو کان من شریعتہ ان لا تحرم الرضعۃ والرضعتان الی العدد المذکور فی ذلک الحدیث الذی روینا لاستحال ان یکون رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یامر الذی سالہ بفراق من قد ارضعتہ والمراۃ التی قد تزوجھا المراۃ التی ذکرت لہ انھا ارضعتھما رضا عا لا یمنع من تزویجہ ایاھا ولکن یقف عقبۃ فیقول لہ سلھا عن عدد الرضاع الذی ارضعتکما ، کم ھو؟ لیقف بذلک علی انہ من الرضاع الذی یحرم علیہ ان یتزوجھا اذا کان فی الحقیقۃ کذلک والتورع عن ذلک اذا کان الشک فیہاو انہ من الرضا ع الذی لا یحرم علیہ تزویجھا فیخلیہ وذلک التزویج ، وفی ترکہ کذلک ما قد دل علی انہ لا فرق کان عندہ بین قلیل الرضاع وبین کثیرہ فی الحرمۃ“
یعنی اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سیاہ رنگ والی عورت سے حضرت عقبہ اور ان کی بیوی کو دودھ پلانے کی تعداد کا سوال نہ فرمانا اس پر دلیل ہے کہ حرمت میں قلیل اور کثیر برابر ہیں کیونکہ اگر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شریعت میں ایک دو یا روایت کردہ احادیث سے ثابت عدد مذکور تک چسکیاں حرمت ثابت نہیں کرتی تو محال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سوال کرنے والے کو جس نے خود اور اس کی بیوی نے ایسا دودھ پیا کہ شادی کرنا ہی منع ہو جائے ، ان کو جدائی کا حکم دیتے، بلکہ توقف کر کے عقبہ سے فرماتے کہ اس عورت سے پوچھو ، اس نے کتنی بار تم دونوں کو دودھ پلایا ؟ تا کہ جانا جا سکے کہ یہ مقدار اتنی ہے کہ اگر حقیقت میں ایسا ہی ہو تو اس سے شادی کرنا حرام ہو جائے ، اور اس کے ثبوت میں شک ہو تو بچنا بہتر ہو اور اتنا دودھ پلایا ہو کہ جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو اسے اور اس کی بیوی کو چھوڑ دیا جائے ، اس پوچھنے کو ترک کرنے میں اس پر دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نزدیک بھی حرمت میں قلیل و کثیر رضاعت میں کوئی فرق نہیں ۔ (شرح مشکل الآثار ، باب بیان مشکل ما روی الخ ، جلد11، صفحہ499، مؤسسۃ الرسالۃ)
بنایہ میں ہے :
”قليل الرضاع وكثيره سواء إذا حصل في مدة الرضاع يتعلق به التحريم، وكذا روي عن علي بن أبي طالب ،وعبد الله بن مسعود، وعبد الله بن عمر، وعبد الله بن عباس ، وبه قال الحسن البصري وسعيد بن المسيب، وطاوس، وعطاء ومكحول، والزهري، وقتادة، وعمرو بن دينار، والحكم، وحماد، والأوزاعي، والثوري، ووكيع، وعبد الله بن المبارك، والليث بن سعد ومجاهد، وزاد الشيخ أبو بكر الرازي: عمر بن الخطاب والشعبي والنخعي. وقال ابن المنذر: وهو قول أكثر الفقهاء. وقال النووي: وهو قول جمهور العلماء۔۔۔ وھذا لان کل حق یتعلق بعلۃ فی الشرع یثبت الحکم بوجودہ لا تعدد فیہ ، وقیل لابن عمر ان ابن الزبیر یقول لا باس بالرضعۃ والرضعتین ، قال قضاء اللہ خیر من قضاء ابن الزبیر وقال ابو بکر ابن العربی الرضاع وصف ثبت بنفس الفعل وھذا معلوم عربیۃ وشرعا ، قال عزوجل وامھاتکم اللاتی ارضعنکم ارتبط التحریم بالرضاع مطلقا من غیر تقیید بخمس او سبع او عشر او نحو ذلک فمن قدرہ بعدد لا یدل القرآن علیہ فقد رفع حکم الایۃ بامر مضطرب لا یعول علیہ“
یعنی دودھ پلانا تھوڑا ہو یا زیادہ ، جبکہ مدت رضاعت میں ہو ، اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی ۔ اسی طرح حضرت علی ، عبد اللہ بن مسعود ، حضرت عبد اللہ بن عمر ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ، حسن بصری ، سعید بن مسیب ، طاوس ، عطا ، مکحول ، زہری ، قتادہ ، عمر و بن دینار، حکم، حماد ، اوزاعی ، ثوری ، وکیع ، عبد اللہ بن مبارک ، لیث بن سعد ، مجاہد نے یہی بات بیان فرمائی ، شیخ ابو بکر رازی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، شعبی اور نخعی کا اضافہ فرمایا جبکہ امام ابن منذر نے فرمایا یہ اکثر فقہاء کا قول ہے ، امام نووی علیہ الرحمہ نے فرمایا یہ جمہور علما کا قول ہے ۔یہ اس وجہ سے کہ ہر وہ حق جو شریعت میں کسی علت سے متعلق ہواس کا حکم علت پائے جانے پر پایا جاتا ہے جس میں تعدد نہیں ہوتا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی گئی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ایک دو چسکیوں میں حرج نہیں جانتے تو آپ نے فرمایا اللہ کا فیصلہ ابن زبیر کے فیصلے سے بہتر ہے ، امام ابو بکر ابن عربی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ رضاعت ایک وصف ہے جو نفس فعل سے پایا جاتا ہے اور یہ بات عربی لغت اور شریعت کےجاننے والے کو معلوم ہے ، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا اور تمہاری رضاعی مائیں ، حرمت کو مطلق رضاعت سے معلق فرمایا جس میں پانچ یا سات یا دس وغیرہ کسی عدد کی قید کو ذکر نہ فرمایا لہذا جو اسے کسی ایسے عدد سے خاص کرتا ہے جس پر قرآن دلالت نہیں کرتا تو اس نے آیت مبارکہ کے حکم کو ایسے مضطرب معاملے کی وجہ سے ختم کر دیا جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ۔ (بنایہ ، کتاب الرضاع ، جلد6، صفحہ291-294، مطبوعہ ملتان )
احکام القرآن میں ہے
”عن ابن عباس أنه سئل عن الرضاع فقلت: إن الناس يقولون لا تحرم الرضعة ولا الرضعتان قال: “قد كان ذاك, فأما اليوم فالرضعة الواحدة تحرم ۔۔۔۔فقد عرف ابن عباس وطاوس خبر العدد في الرضاع وأنه منسوخ بالتحريم بالرضعة الواحدة“
یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ ان سے رضاعت کے بارے میں سوال ہوا تو میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ایک دو چسکیاں حرام نہیں کرتی ، آپ نے فرمایا یہ پہلے تھا ، اب ایک چسکی بھی حرام کر دیتی ہے ۔تحقیق حضرت ابن عباس اور طاؤس رضی اللہ عنہم نے رضاعت کی تعداد کو جان لیا اور یہ بات بھی جان لی کہ یہ حکم ایک بار دودھ پلانے سے منسوخ ہو چکا ۔(احکام القرآن ،سورۃ آل عمران ، جلد2، صفحہ125، مطبوعہ لاہور)
ھدایہ میں ہے
”واذا اختلط لبن امراتین تعلق التحریم باغلبھما“
ترجمہ:اور جب دو عورتوں کا دودھ مل جائے تو ان دونوں میں سے جس کا دودھ اغلب ہوا اس کے ساتھ حرمت رضاعت متحقق ہو جائے گی۔(ھدایہ ، کتاب النکاح ، باب الرضاع ، جلد 4 ، صفحہ 210، مطبوعہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے:
”پانی یا دوا میں عورت کا دودھ ملا کر پلایا تو اگر دودھ غالب ہے یا برابر تو رضاع ہے مغلوب ہے تو نہیں ۔ یوہیں اگر بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میں ملا کر دیا تو اگر یہ دودھ غالب ہے تو رضاع نہیں ورنہ ہے اور دو عورتوں کا دودھ ملا کر پلایا تو جس کا زیادہ ہے اس سے رضاع ثابت ہے اور دونوں برابر ہوں تو دونوں سے۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ بہرحال دونوں سے رضاع ثابت ہے۔“(بہار شریعت ، جلد 2 ، حصہ 7 ، صفحہ 40، مکتبہ المدینہ کراچی)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
”اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰى“
ترجمہ:عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی گنجائش کے مطابق اور انہیں تکلیف نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگروہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بچہ جَن دیں پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو اور آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرلو اور اگر تم آپس میں دشواری سمجھو تو عنقریب اسے کوئی دوسری عورت دودھ پلادے گی۔(سورۃ الطلاق ، آیت 6)
خزائن العرفان میں ہے :
” شوہر اپنی زوجہ پر بچہ کے دودھ پلانے کے لیے جبر نہیں کر سکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کر سکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح یا عدت میں رہے، اگر کسی شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور عدت گزرچکی تو وہ اس سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔“(خزائن العرفان مع کنز الایمان ، سورۃ البقرۃ، آیت 133، مکتبہ المدینہ کراچی)
تفسیر صراط الجنان میں ہے :
” جن عورتوں کو تم نے طلاق دی انہیں وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق انہیں رہائش دو اور انہیں یوں تکلیف نہ دو کہ ان کے مکان کو گھیر کر ان کی جگہ تنگ کر دو، یا کسی نا موافق کو ان کے ساتھ رہائش دے دو نیز تم انہیں کوئی ایسی ایذا دے کر تنگی نہ پہنچاؤ کہ وہ گھر سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں اور اگر طلاق والی عورتیں حمل والیاں ہوں تو ان پر شریعت کے مطابق خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بچہ پیدا کر دیں کیونکہ اُن کی عدت بچہ پیداہونے پر ہی پوری ہوگی، پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کے کام کی اجرت دو اور اجرت سے متعلق آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرلو اور یہ خیال رکھو کہ نہ مرد عورت کے حق میں کوتاہی کرے، نہ عورت اِس معاملہ میں سختی کرے، پھر اگر تم آپس میں یہ معاملہ طے کرنے میں دشواری سمجھو اوربچے کی ماں کسی دوسری عورت کے برابر اُجرت پر راضی نہ ہوبلکہ زیادہ اجرت کا مطالبہ کرے اور باپ زیادہ دینا نہ چاہے تو قریب ہے کہ اسے کوئی اورعورت دودھ پلادے گی یعنی پھر شوہر کسی دوسری کا انتظام کرلے۔(مدارک، الطلاق، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۲۵۳، خازن، الطلاق، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۲۸۰، ملتقطاً)
بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں ، باپ کی ذمہ داری ہے کہ اجرت دے کر دود ھ پلوائے لیکن اگر بچہ ماں کے سوا کسی اور عورت کا دود ھ نہ پئے، یا باپ فقیر ہو تواس حالت میں ماں پر دود ھ پلانا واجب ہوجاتا ہے، بچے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاقِ رجعی کی عدت میں ہو تو ایسی حالت میں اسے دود ھ پلانے کی اجرت لینا جائز نہیں ، عدت کے بعد لینا جائز ہے ۔۔۔۔۔کسی عورت کو مُعَیَّن اجرت پر دود ھ پلانے کیلئے مقرر کرنا جائز ہے۔۔۔۔۔ اجرت پر دود ھ پلانے کیلئے غیر عورت کی بہ نسبت ماں زیادہ مستحق ہے۔اگر ماں زیادہ اُجرت طلب کرے تو پھر غیر عورت کو مقرر کرنے میں اصلاً کوئی حرج نہیں ۔“(تفسیر صراط الجنان ، سورۃ الطلاق ، آیت 6، جلد 10،صفحہ 407، مکتبہ المدینہ کراچی)
سنن ابو داؤد میں ہے
”حدثنا عبد الله بن محمد النفیلی حدثنا ابو معاویه ح وحدثنا ابن العلاء حدثنا ابن ادریس عن ھشام بن عروة عن ابیه عن حجاج بن حجاج عن ابیه قال قلت یا رسول ﷲ مایذھب عنی مذمة الرضاعة ؟ قال الغزة العبد او الامة“
ترجمہ:حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی یا غلام (دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے) سے۔ (سنن ابي داود ، كِتَاب النِّكَاح، جلد 1 ، حدیث 2064، مطبوعہ کراچی)
فتاوی ہندیہ میں ہے
” واجمعوا علی ان مدۃ الرضاع فی استحقاق اجرۃ الرضاع مقدر بحولین حتی ان المطلقۃ اذا طالبتہ بعد الحولین باجرۃ الرضاع فابی الاب ان یعطی لا یجبر ویجبر فی حولین کذا فی فتاوی قاضی خان “
ترجمہ:اس پر اجماع ہے کہ اور مدت رضاعت میں وہ اجرت کی مستحق ہے جس کی مقدار دو سال ہے یہاں تک کہ اگر مطلقہ دو سال بعد بھی اجرت طلب کرے تو باپ انکار کر سکتا ہے اور اس اجرت کے معاملے میں جبر نہیں کیا جائے گا اور دوسال تک جبر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فتاویٰ قاضی خاں میں ہے ۔(الفتاوی الھندیۃ ، جلد 1 ، صفحہ 343، دار المعرفۃ بیروت)
بہار شریعت میں ہے :
” عورت کو طلاق دے دی اس نے اپنے بچہ کو دو برس کے بعد تک دودھ پلایا تو دو برس کے بعد کی اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتی یعنی لڑکے کا باپ اجرت دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور دو برس تک کی اجرت اس سے جبرا لی جا سکتی ہے ۔“(بہار شریعت، جلد 2 ، حصہ 7 ، صفحہ 38 ، مکتبہ المدینہ کراچی)
ارشادِ خداوندی ہے:
﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا﴾
ترجمہ : اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر بہت سی برتری دی۔ (پ15، بنی اسرائیل:70)
النافع الکبیر علی جامع الصغیر میں ہے
’’لأن الإنسان مكرم فلا يجوز أن يكون منه شيء مبتذل ‘‘
ترجمہ:کیونکہ انسان کو عزت والا بنایا گیا ہے، لہذا یہ جائز نہیں کہ اُس کے بدن کے کسی حصے کو (بیع وشراء) کے ذریعے حقیر وذلیل بنایا جائے۔ (النافع الكبير علی الجامع الصغير ، صفحہ328، مطبوعہ دار عالَم الكتب، بيروت)
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے
’’جزء الآدمی لیس بمال۔۔۔وما لیس بمال لا یجوز بیعہ‘‘
ترجمہ: آدمی کا جزو مال نہیں اور جو چیز مال نہ ہو،اس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔(العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد6، صفحہ 390، مطبوعہ کوئٹہ)
مجلس شرعی کے فیصلےمیں ہے:
”انسان اپنے اعضاء آنکھ ،گردے ،پھیپڑے وغیرہ کا مالک نہیں ،یہ تمام اعضاء بندے کے پاس اللہ عزوجل کی امانت ہیں ،لہٰذا انسان اپنےیہ اعضاء نہ تو دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے نہ کسی کو ہبہ یا خیرات کر سکتا ہے ،نہ ہی اپنے کسی عزیز وغیرہ کے لیے بعد وفات یہ اعضاء دینے کی وصیت کر سکتا ہے ۔یوں ہی دوسرا شخص کسی انسان سے اعضاء خرید سکتا ہے نہ ہی اعضاء ہبہ ،صدقہ یاوصیت قبو ل کرسکتا ہے ،نہ لے سکتا ہے ۔“ ( مجلس شرعی کے فیصلے،جلد 1،صفحہ 184،ہند)
تبیین الحقائق میں ہے:
”ولبن إمرأة يعني لا يجوز بيعه“
ترجمہ: عورت کے دودھ کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، جلد4، صفحہ50، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
20 ذی الحجہ 1445ھ27 جون 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری