ناشزہ (نافرمان )بیوی کے نفقے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی کا نفقہ شوہر پر واجب ہے لیکن اگر بیوی اپنے میکے بیٹھ جائے اور شوہر کے بلانے پر بھی سسرال نہ آئے تو کیا اس صورت میں بھی نفقہ واجب ہوگا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیان کی گئی صورت میں بیوی شوہر کی رضامندی کے بغیر اپنے میکے بیٹھ جائے اور شوہر کے بلانے پر بھی نہ آئے تو ایسی عورت فقہی اصطلاح میں ناشزہ(نافرمان) کہلاتی ہے اور ایسی عورت کا نان نفقہ شوہر کے ذمہ لازم نہیں جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو جائے۔
علامہ تمرتاشی حنفی متوفی1004ھ اور علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی1088ھ لکھتے ہیں
”لا نفقة لأحد عشر : مرتدة ، ومقبلة ابنه ، ومعتدة موت ومنكوحة فاسدا وعدته ، وأمة لم تبوأ ، وصغيرة لا توطأ ، و خارجة من بيته بغير حق وهي الناشزة حتى تعود“
ترجمہ: گیار قسم کی عورتوں کا نفقہ لازم نہیں ہوگا مرتدہ، (بطور شہوت)خاوند کے بیٹے کا بوسہ لینے والی، موت کی عدت گزارنے والی،اور نکاح فاسد کے ساتھ منکوحہ، نکاح فاسد کی عدت گزرنے والی،ایسی لونڈی جس کورات گزارنے کے لیے جگہ نہ دی گئی ہو، اور اسی صغیرہ جس کے ساتھ وطی نہ کی جا سکتی ہو اور نا حق خاوند کے گھر سے باہر نکلنے والی وہ ہی ناشزہ ہے یہاں تک کے لوٹ آئے۔(ردالمحتار على الدر المختار،ج5ص،288-289 مکتبہ رحمانیہ)
ہندیہ میں ہے
”وان نشزت فلا نفقة لها حتى تعود الى منزله
ترجمہ: اگر عورت نافرمان ہو کر (شوہر کے گھر سے نکل) جائے تو جب تک وہ واپس (شوہر کے) گھر لوٹ کر نہ آ جائے اس کا نان نفقہ شوہر کے ذمے نہیں ہے۔(فتاوی عالمگیری ج،1,ص545, مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”انوار میں ہے”لا نفقه للناشزة وان قدر على ردها الى الطاعه قهرا ولو هربت منه او خرجت بلا اذنه من بيته فناشزة“ترجمه: نافرمان بیوی کے لیے نفقہ کا استحقاق نہیں ہے اگر بیوی شوہر کا گھر چھوڑ کر بھاگ گئی یا اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل گئی تو وہ نافرمان ہی قرار پائے گی خواہ وہ جبرا اسے واپس لانے پر قدرت رکھتا ہوں۔“(فتاوی رضویہ ج،12ص،473 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
” عورت شوہر کے یہاں سے ناحق چلی گئی تو نفقہ نہیں پائے گی جب تک واپس نہ آئے اور اگر اُس وقت واپس آئی کہ شوہر مکان پر نہیں بلکہ پردیس چلا گیا ہے جب بھی نفقہ کی مستحق ہے اور اگر عورت یہ کہتی ہے کہ میں شوہر کی اجازت سے گئی تھی اور شوہر انکار کرتا ہے یا یہ ثابت ہوگیا کہ بلا اجازت چلی گئی تھی مگر عورت کہتی ہے کہ گئی تو تھی بغیر اجازت مگر کچھ دنوں شوہر نے وہاں رہنے کی اجازت دیدی تھی تو بظاہر عورت کا قول معتبر نہ ہوگا۔“(بہار شریعت حصہ 8،ص262 مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ محمد یاسر عباسی
مورخہ09/دسمبر/2022