یہ کہنا کہ قرآن پاک میں کہیں قرآن پڑھنے کا ثواب نہیں لکھا ہے

یہ کہنا کہ قرآن پاک میں کہیں قرآن پڑھنے کا ثواب نہیں لکھا ہے

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یہ کہنا کیسا کہ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ اس کتاب کو پڑھنا ثواب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

قائل کا ایسا جملہ بولنا باطل ہے اور انکارِ حدیث کی طرف اشارہ ہے،منکرین حدیث بھی اسی آڑ میں اسلام کی کئی فرائض کا انکار کرتے ہیں کہ قرآن میں یہ حکم و طریقہ نہیں آیا ہے۔ اگر کوئی شخص محض یہ کہہ کر کسی حکم کو رد کرے کہ “قرآن میں صراحتاً نہیں لکھا”، تو اس سوچ کے نتیجے میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق اور دیگر بے شمار عبادات کے احکام و فضائل وغیرہ کا بھی انکار کرنا پڑے گا؛ کیونکہ ان کی جزئیات اور ثواب کی تفصیلات بھی زیادہ تر احادیث مبارکہ اور تفاسیر میں بیان کی گئی ہیں۔

باقی قرآن پڑھنے کا ثواب قرآن سے بھی ثابت ہے۔نیز قرآن میں اللہ کریم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور حضور علیہ السلام کی کس کس فعل میں کس طرح اطاعت ہے یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں اور احادیث میں قرآن کے ہر حرف اور مختلف سورتوں کے پڑھنے پر اجر عطاہونے کی صراحت ہے۔

قرآن پاک میں ہے:

”اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ“

ترجمہ: کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی۔تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔(پ22، سورہ فاطر: 29-30)

تفسیر خازن میں ہے:

”قوله عز وجل: (إن الذين يتلون كتاب الله) أي: يداومون على قراءته ويعلمون ما فيه ويعملون به (وأقاموا الصلاة) أي: ويقيمون الصلاة في أوقاتها (وأنفقوا مما رزقناهم) يعني: في سبيل الله (سراً وعلانية يرجون تجارة لن تبور) يعني لن تفسد ولن تهلك والمراد من التجارة ما وعد الله من الثواب (وليوفيهم أجورهم ويزيدهم من فضله) قال ابن عباس: سوى الثواب يعني مما لم تر عين ولم تسمع أذنأذن“

ترجمہ: اللہ عز وجل کے فرمان (بے شک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی تلاوت کو ہمیشہ جاری رکھتے ہیں، اس میں جو کچھ ہے اسے جانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ (اور نماز قائم کرتے ہیں) یعنی وہ نماز کو اس کے مقررہ اوقات میں ادا کرتے ہیں۔ (اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں) یعنی اللہ کی راہ میں، پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی۔ (وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو ہرگز تباہ نہ ہوگی) یعنی وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو نہ برباد ہوگی اور نہ ختم ہوگی۔ یہاں تجارت سے مراد وہ ثواب ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔ (تاکہ وہ انہیں ان کے اجر پورے پورے دے اور اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ عطا کرے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس سے مراد ثواب کے علاوہ وہ نعمتیں بھی ہیں، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں۔(تفسیر خازن، پ22، سورہ فاطر29-30، جلد5، صفحہ197، دار الکتب العلمیہ،بیروت)

تفسیر بغوی المعروف معالم التنزیل میں ہے:

”قوله تعالى: (إن الذين يتلون كتاب الله) يعني: قرأوا القرآن ( وأقاموا الصلاة وأنفقوا مما رزقناهم سراً وعلانية يرجون تجارة لن تبور ) لن تفسد ولن تهلك، والمراد من التجارة ما وعد الله من الثواب، (لِيُوَفِّيهم أجورهم) جزاء أعمالهم بالثواب (ويزيدهم من فضله)، قال ابن عباس: يعني سوى الثواب مما لم تر عين ولم تسمع أذن“

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے فرمان: (بیشک وہ لوگ جو ﷲ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں) یعنی جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، (اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی) یعنی وہ تجارت کبھی بھی برباد نہ ہوگی اور نہ ہی تباہ ہوگی۔ یہاں تجارت سے مراد وہ ثواب ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھر پور دے) یعنی اللہ انہیں ان کے اعمال کی جزا میں ثواب دے، (اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یعنی ثواب کے علاوہ وہ نعمتیں بھی ملیں گی جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی۔(تفسیر بغوی، پ22، سورہ فاطر29-30، جلد5، صفحہ197، دار الکتب العلمیہ،بیروت)

تفسیر صراط الجنان میں ہے:

”{اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللہ: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو پابندی کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور اس میں موجود اَحکام وغیرہ کی معلومات حاصل کرتے اور ان پر عمل کرتے ہیں اور نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت یعنی ثواب کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کا ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور اپنی رحمت کے خزانوں سے انہیں اور زیادہ عطا کرے جس کے بارے میں عمل کرتے وقت انہوں نے تَصَوُّر تک نہ کیا ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی خطاؤں کو بخشنے والا اور ان کے نیک اعمال کی قدر فرمانے والا ہے۔ “(صراط الجنان، پ22، سورہ فاطر:29-30، جلد8، صفحہ199-200، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

قرآن پاک میں ہے:

”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ“

ترجمہ کنز العرفان: اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو۔ (پ:28، الحشر:07)

قرآن پاک میں ہے:

”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“

ترجمہ کنز العرفان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نےاﷲ کا حکم مانا۔(پ:5، النساء:80)

ترمذی شریف میں ہے:

”عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ حرفاً من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول: الم حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف“

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کتابُ اللہ کا ایک حَرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا الٓـمّٓ ایک حَرف ہے، بلکہ اَلِف ایک حَرف، لام ایک حَرف اور میم ایک حَرف ہے۔ (ترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب ما جآء فیمن قرأ حرفا من القرآن…الخ، جلد4، صفحہ35، حدیث:3151، مطبوعہ: دار التاصیل)

صحیح مسلم شریف میں ہے:

”عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة، والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه، وهو عليه شاق، له أجران“

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پڑھنے میں ماہر ہے، وہ کراماً کاتبین کے ساتھ ہے اور جو شخص رک رک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اُس پر شاق ہے یعنی اُس کی زبان آسانی سے نہیں چلتی، تکلیف کے ساتھ ادا کرتا ہے، اُس کے لیے دو اجر ہیں۔ (صحیح مسلم، کتا صلاۃ المسافرین، باب فضل الماھر بالقرآن ۔۔۔ إلخ، الحدیث: 798، صفحہ365، دار الفکر، بیروت)

وﷲ تعالی اعلم بالصواب

کتبه

ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی

نظر ثانی:

ابو احمد مفتی انس رضا قادری

مؤرخہ 25 شعبان المعظم 1446ھ بمطابق 24 فروری 2025ء، بروز پیر

اپنا تبصرہ بھیجیں