گردن کے مسح کی شرعی حیثیت
سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہا جاتا ہے وضو میں گردن یعنی گدی کا مسح کرنا سنت سے ثابت نہیں بلکہ یہ بدعت ہے کیا یہ بات درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرما دیجئے.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ وضو میں ہاتھوں کی انگلیوں کی پشت سے گردن کے پچھلے حصے یعنی گدی کا مسح کرنا مستحب ہے کہ یہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور اس کو بدعت کہنے والا شخص احادیث طیبہ، عمل صحابہ اور فقہی کتب سے ناواقف ہے۔ البتہ گردن کے اگلے حصے یعنی حلق کا مسح کرنا بدعت ہے۔
صحیح بخاری میں ہے
”حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ : نَعَمْ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَهُ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ“
ترجمہ:ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں، سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ ہاں! پھر انہوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے۔ پھر تین مرتبہ کلی کی، تین بار ناک صاف کی، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طور پر اپنے ہاتھ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے۔ (مسح) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے (مسح) شروع کیا تھا، پھر اپنے پیر دھوئے۔ (صحیح بخاری ٬ کتاب الوضو٬باب مسح الرأس کلہ٬ صفحہ 52 ، دارالکتب العلمیہ بیروت)
السنن الكبرى للبيهقي میں ہے:
”وأخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجار المقري بالكوفة، أنا أبو القاسم جعفر بن محمد بن عمرو الأخمسي، ثنا أبو حصين الوادعي، ثنا يحيى الحماني، ثنا حفص، عن ليث، عن طلحة، عن أبيه، عن جده ” أنه أبصر النبي صلى الله عليه وسلم حين توضأ مسح رأسه وأذنيه وأمر يديه على قفاه “
ترجمہ:اور ہمیں ابو القاسم عبد الواحد بن محمد بن اسحاق بن النجار المقری نے کوفہ میں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو القاسم جعفر بن محمد بن عمرو الاخمسی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو حصین الوادعی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں یحیی الحمانی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حفص نے، لیث سے، انہوں نے طلحہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے وضو کیا تو اپنے سر اور کانوں کا مسح فرمایا اور اپنے ہاتھوں کو اپنی گُدی (گردن کے پچھلے حصے) پر پھیرا۔ ( كتاب الطهارة، أبواب سنة الوضوء وفرضه، باب إمرار الماء على القفا، جلد 1، صفحہ 99 ٬ دار الكتب العلمية، بيروت)
شرح معانی الآثار میں حدیث پاک ہے
”عن طلحة بن مصرف، عن أبيه، عن جده قال: «رأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – مسح مقدم رأسه حتى بلغ القذال. مؤخر الرأس من مقدم عنقه»“
ترجمہ:طلحہ بن مصرف نے اپنے والد سے، اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی، وہ کہتے ہیں:”میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے سر کے اگلے حصے (پیشانی کی طرف) سے مسح کیا یہاں تک کہ قَذال (یعنی گردن کے اوپر والا حصہ، سر کا پچھلا حصہ) تک پہنچ گئے۔”(شرح معاني الآثار، کتاب الطھارۃ ٬باب فرض مسح الرأس فی الوضوء ٬ جلد 1′ صفحہ 26 ٬ البیان ناشران و تاجران کتب)
وہابیوں کے پیشوا شوکانی کی کتاب نیل الاوطار من اسرار منتقی الاخبار میں ہے:
”عن أنس بن سيرين عن (ابن عمر أنه كان إذا توضأ مسح عنقه ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم -: من توضأ ومسح عنقه لم يغل بالأغلال يوم القيامة)“
ترجمہ:انس بن سیرین سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے تو اپنی گردن کا مسح کرتے اور فرمایا کرتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اپنی گردن کا مسح کیا، وہ قیامت کے دن طوق (یعنی زنجیروں) میں جکڑا نہیں جائے گا۔(نیل الاوطار من اسرار منتقی الاخبار ٬كتاب الطهارة، باب مسح العنق، جلد 1، صفحہ207، مطبوعہ دار الحديث، مصر)
مزید شوکانی صاحب لکھتے ہیں
”وبجمیع ھذا تعلم أن قول النووی مسح الرقبۃ بدعۃ وأن حدیثہ موضوع مجازفۃ، وأعجب من ھذا قولہ ولم یذکرہ الشافعی ولا جمھور الأصحاب وإنما قالہ ابن القاص وطائفۃ یسیرۃ، فإنہ قال الرویانی من أصحاب الشافعی فی کتابہ المعروف بالبحر مالفظہ: قال أصحابنا ھوسنۃ، وتعقب النووی أیضاً ابن الرفعۃ بأن البغوی وھو من ائمۃ الحدیث قد قال باستحبابہ قال: ولا مأخذ لاستحبابہ الاخبر أو أثر لأن ھذا لا مجال للقیاس فیہ“
ترجمہ : ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نووی کا یہ کہنا کہ گردن کا مسح کرنا بدعت ہے اور یہ کہ اس بارے میں وارد حدیث موضوع (من گھڑت) ہے، یہ ایک مبالغہ آمیز بات ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات ان کا یہ قول ہے کہ “اسے امام شافعی اور جمہور اصحاب (شافعی علما) نے ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف ابن القاص اور ایک قلیل جماعت نے اس کو کہا ہے”۔ حالانکہ رویانی، جو امام شافعی کے اصحاب میں سے ہیں، اپنی معروف کتاب البحر میں صراحت سے لکھتے ہیں: “ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ یہ (یعنی گردن کا مسح) سنت ہے۔”
اور امام نووی پر ابن الرفعہ نے بھی تعقب کیا ہے کہ البغوی، جو کہ ائمۂ حدیث میں سے ہیں، انہوں نے بھی اس کے استحباب (مستحب ہونے) کا قول کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: “اس کے استحباب کی بنیاد یا تو حدیث ہو سکتی ہے یا اثر، کیونکہ اس باب میں قیاس کی گنجائش نہیں۔(نیل الاوطار ٬ کتاب الطھارۃ ‘باب مسح العنق ‘جلد 1’ صفحہ 195 مطبوعہ دارالحدیث مصر)
فتاوی عالمگیری میں ہے
”والثانی مسح الرقبۃ ھو بظہر الیدین واما مسح الحلقوم فبدعۃ کذا فی البحر الرائق“
ترجمہ:اور دوسرا (یعنی دوسرا مسئلہ) گردن کا مسح ہے، یہ دونوں ہاتھوں کی پُشت سے (کیا جاتا ہے)اور جہاں تک حلقوم (گلے کے سامنے کے حصے) کے مسح کا تعلق ہے، تو وہ بدعت ہے۔البحر الرائق میں اسی طرح ہے۔
(فتاوی عالمگیری٬ کتاب الطھارۃ٬ باب الوضو ٬الفصل الثالث فی المستحبات ٬جلد 1 صفحہ 10٬ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے :
”( ومسح الرقبة) بظهر يديه (لا الحلقوم)“
ترجمہ: اور گردن کا مسح کرنا اپنے ہاتھوں کی پشت سے (سنت ہے) نہ کہ حلق کا۔(تنویر الابصار مع در مختار ٬کتاب الطھارۃ ‘ باب الوضو٬ جلد1 ٬صفحہ 268 ٬ مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
ردالمحتارعلی الدرالمختارمیں ہے
”قال الزيلعي وتكلموا في كيفية المسح والأظهر أن يضع كفيه وأصابعه على مقدم رأسه ويمدهما إلى القفا على وجه يستوعب جميع الرأس ثم يمسح أذنيه بأصبعيه“
ترجمہ:امام زیلعی نے کہا کہ فقہاء نے مسح کے طریقہ پر کلام کیا ہے، اور اظہر قول یہ ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں اپنے سر کے اگلے حصے پر رکھے، پھر انہیں گُدی (سر کے پچھلے حصے) تک لے جائے، اس طرح کہ پورے سر کا مسح ہو جائے، پھر اپنی انگلیوں سے دونوں کانوں کا مسح کرے۔(ردالمحتار علی الدر المختار ٬کتاب الطھارۃ ٬ باب الوضوء ٬جلد 1 ٬ صفحہ 262 ‘ مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”ملا علی قاری موضوعاتِ کبیر میں حدیث مسح گردن کا ضعف بیان کرکے فرماتے ہیں:
الضعیف یعمل بہ فی الفضائل الاعمال اتفاقا ولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبۃ مستحب اوسنۃ ۔
ترجمہ: فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے اسی لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنّت ہے۔“(فتاوی رضویہ٬ جلد 5 ،صفحہ 489 ٬مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )
بہار شریعت میں “وضو کے مستحبات میں ہے “
” اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح کرنا۔“(بہار شریعت ٬ باب وضو کا بیان٬ فصل وضو کے مستحبات’ جلد 1 ‘حصہ دوم ‘صفحہ 299 ٬ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد عرفان مدنی قصوری
22 شوال المکرم 1446ھ بمطابق21 اپریل 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری