کھانے کےدوران سلام کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین کھانا کھاتے وقت یا دوران تلاوت و خطاب (تقریر) سلام کرسکتے ہیں ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب
اگر کھانا کھانے والے کے منہ میں نوالا (لقمہ وغیرہ) ہو تو ایسے شخص کو سلام کرنا ممنوع نا مناسب ہے البتہ اگر کوئی دسترخوان پر ہو لیکن ابھی کھانا شروع نہ کیا ہو یا کھانے سے فارغ ہوگیا ہو لیکن دسترخوان پر ہی ہو تو ان صورتوں میں سلام کرسکتے یا کوئی ایسا بھوکا شخص آیا جسے معلوم ہو کہ سلام کرنے سے مجھے بھی کھانے میں شریک کر لیا جائے گا تو اس صورت میں بھی سلام کرسکتے ہیں اگر کوئی تلاوت قرآن، درس و تکرار میں مشغول ہو یا عالم دین خطاب فرما رہے ہوں، شرعی مسئلہ بیان کر رہے ہوں اور لوگ بغور سن رہے ہوں تو ان صورتوں میں آنے والا شخص سلام نہ کرے بلکہ اطمنان سے ایک جگہ بیٹھ جائے۔
” یکره السلام علی العاجز عن الجواب حقیقةً کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعاً کالمشغول بالصلاة وقراءة القرآن، ولو سلم لایستحق الجواب”.
ایسے شخص کو سلام کرنا مکروہ ہے جو حقیقت میں جواب دینے سے عاجز ہو، جیسے کہ وہ شخص جو کھانے میں مصروف ہو یا قے کر رہا ہو، یا اسلامی شریعت کے مطابق، جیسے کوئی شخص نماز پڑھنے اور قرآن پڑھنے میں مصروف ہو، اگرچہ وہ سلام کرے۔ جواب دینے کے لائق نہیں.
(شامی، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا،۱/ ۶۱۷)
صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”لوگ کھانا کھارہے ہوں اس وقت کوئی آیا تو سلام نہ کرے، ہاں اگر یہ بھوکا ہے اور جانتا ہے کہ اسے وہ لوگ کھانے میں شریک کرلیں گے تو سلام کرلے۔یہ اس وقت ہے کہ کھانے والے کے منہ میں لقمہ ہے اور وہ چبا رہا ہے کہ اس وقت وہ جواب دینے سے عاجز ہے اور ابھی کھانے کے لیے بیٹھا ہی ہے یا کھا چکا ہے تو سلام کرسکتا ہے کہ اب وہ عاجز نہیں۔“(بہار شریعت،جلد3،صفحہ461،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
مزید فرماتے ہیں:کوئی شخص تلاوت میں مشغول ہے یا درس و تدریس یا علمی گفتگو یا سبق کی تکرار میں ہے تو اس کو سلام نہ کرے۔ اسی طرح اذان و اقامت و خطبہ جمعہ و عیدین کے وقت سلام نہ کرے۔ سب لوگ علمی گفتگو کررہے ہوں یا ایک شخص بول رہا ہے باقی سن رہے ہوں،دونوں صورتوں میں سلام نہ کرے، مثلاً عالم وعظ کہہ رہا ہے یا دینی مسئلہ پر تقریر کررہا ہے اور حاضرین سن رہے ہیں، آنے والا شخص چپکے سے آکر بیٹھ جائے سلام نہ کرے۔
(بہارِ شریعت جلد3،صفحہ 462،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
مفتی منیب الرحمن مدظلہ العالی فرماتے :
کھانے والے شخص کو اگر کسی نے سلام کر لیا تو جواب دے سکتا ہے
کیونکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کے دوران بات چیت ثابت کا جواز ثابت ہے
(تفہیم المسائل دوم ص 107)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کـتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
محمد عادل رضا قادری حنفی
١٤ ربیع الآخر ١٤٤٦ ہجری / 18 اکتوبر 2024 عیسوی