موجودہ دور میں چاندی کوچھوڑ کر سونے کو معیار کیوں نہیں بنایا جاتا؟

موجودہ دور میں چاندی کوچھوڑ کر سونے کو معیار کیوں نہیں بنایا جاتا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کے دور میں چاندی بہت سستی ہےا ور سونا کافی مہنگا ہے،اب شرع کہتی ہے کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی جتنی رقم ہے اس پر زکوۃ فرض ہے جبکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم موجودہ دور میں ایک تولہ سونے کے برابر نہیں۔یونہی آج کل غریب سے غریب کے پاس بھی ایک آدھ تولہ سونا اور کچھ روپے ہوتے ہیں جن کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی جتنی بن جاتی ہے تو علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس پر زکوۃ و فطرہ بلکہ قربانی بھی لازم ہے۔ اب اس میں حرج بہت ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ اب ہم اس مسئلہ میں چاندی کو چھوڑ کر ساڑھے سات تولہ سونے کومعیار بنا لیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کثیر احادیث میں سونے اور چاندی کا نصاب الگ الگ بیان کیا ہے،ایسا نہیں کہ شریعت نے یہ اختیار دیاہو کہ سونے یا چاندی میں سے کسی ایک کے حساب سے زکوۃ دو۔دونوں کے نصاب الگ ہونے پر نص وارد ہے جس میں قیامت تک کوئی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا۔اگر آج چاندی سستی ہے تو اس میں شریعت کا کوئی قصور نہیں۔

یونہی جب دو مختلف نصاب ہوں اور دونوں اپنے نصاب تک نہ پہنچتے ہوں جیسے ایک تولہ سونا اور ایک تولہ چاندی ہے یا کچھ سونا اور کچھ پیسے ہیں جن کو ملائیں تو اس کی رقم ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی جتنی بنتی ہے تو جس بھی نصاب تک وہ مال پہنچ جائے گا اس کےمطابق زکوۃ بلکہ فطرہ اور قربانی واجب ہوجائے گی۔آج کے دور میں چونکہ چاندی سستی ہے ،اس لیے اگر کسی کے پاس کچھ سونا اور کچھ پیسے ہیں جن کو ملانے سے کل مالیت ساڑھے باون تولے چاندی جتنی بن جاتی ہے تو اس پر زکوۃ لازم ہوجائے گی۔ اس پربکثرت دلائل صحابہ کرام وتابعین اور فقہائے کرام سے ثابت ہیں کیونکہ فی زمانہ چاندی کے نصاب کو معیار بنانے میں فقراء کے لیے زیادہ فائدہ ہے،حتی کہ سامان تجارت اور دیگر نصاب کرنسی وغیرہ میں بھی چاندی کے نصاب کا ہی اعتبار ہوگا۔نیز زکوۃ ایک فریضہ ہے جو کہ بہت بڑی سعادت ہے اور دنیا و آخرت میں اس کا اجر ہے،اس لیے اس کی ادائیگی میں دل تنگ نہیں ہونا چاہیے۔

ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے:

”عن ابن عمر، وعائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم، «كان يأخذ من كل عشرين دينارا فصاعدا نصف دينار، ومن الأربعين دينارا دينارا»“

ترجمہ:حضرت ابن عمر و حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیس دینار(ساڑھے سات تولہ سونا)پر نصف دینار اور چالیس دینار پر ایک دینار سونا زکوۃ لیتے تھے۔(سنن ابن ماجه،جلد1،صفحہ571،دار إحياء الكتب العربية،الحلبي)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

” عن جعفر، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا بلغ المال مائتي درهم ففيه خمسة دراهم» “

ترجمہ:حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مال دوسودرہم(ساڑھے باون تولہ چاندی)تک پہنچ جائے تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔(الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار،جلد2،صفحہ354،مكتبة الرشد،الرياض)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

”حدثنا اسماعیل بن عیاش عن عبید اللہ بن عبید اللہ قال قلت المکحول یا ابا عبدالله ان لی سیفا فیه خمسون و مائة درھم فھل علي فیه زکاة قال اضف علیه ماکان ذلک من ذھب و فضة فاذا بلغ مائتی درھم ذھب و فضة فعلیک فیه الزکاة“

ترجمہ:ہم سے اسماعیل بن عیاش نے عبید اللہ بن عبید اللہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت مکحول سے کہا: اے ابو عبداللہ! میرے پاس ایک تلوار ہے جس میں پچاس اور سو درہم ہیں، کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:اس پر اتنا اضافہ کرو جتنا وہ سونا اور چاندی ہے، پھر جب وہ مجموعی طور پر دو سو درہم سونا اور چاندی بن جائیں، تو تم پر اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔(الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار،جلد2،صفحہ358،مكتبة الرشد،الرياض)

بدائع الصنائع میں ہے

”مضت السنة من اصحاب رسول الله صلی اللّٰه عليه وسلم بضم الذهب الی الفضة والفضة الی الذهب لاخراج الزکاة“

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت رہی ہے کہ زکوٰۃ نکالنے کے لیے سونے کو چاندی میں اور چاندی کو سونے میں ضم کرکے تکمیل نصاب کرتے تھے۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الزکاة، جلد 2 ، صفحہ 18 ، دار الفکر بیروت)

العنایة شرح الھدایة میں ہے

”ألاتری أنہ إن کان یقومہا بأحد النقدین یتم النصاب وبالآخر لایتم یقوم بمایتم بالاتفاق احتیاطاً لحق الفقراء فکذلک ھذا کذا فی النھایة“

ترجمہ:کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی ایک نقدی سے یہ کرتا ہے تو نصاب مکمل ہو جائے گا، اور دوسرے سے نہیں ہوگا؟ وہ جو بھی کرتا ہے احتیاطاً فقرا کے حق کے لیے جو اتفاق سے ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی ہے جیسا کہ نھایہ میں موجود ہے۔ (العنایہ شرح الہدایہ، ، جلد 1 ، صفحہ 567، مطبوعہ مصر)

بدائع الصنائع میں ہے

”فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌الصنفان ‌جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا“

ترجمہ:اگر کسی کے پاس دونوں قسمیں ہوں، یعنی سونا اور چاندی دونوں، اور ان میں سے ہر ایک نصاب تک نہ پہنچے، جیسے کہ دس مثقال سونا اور سو درہم چاندی ہو، تو ہمارے یہاں دونوں کو ملا کر نصاب مکمل کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الزکاة، جلد 2 ، صفحہ 18 ، دار الفکر بیروت)

در مختار مع ردالمختار میں ہے

”(أو ) فی (عرض تجارۃ قیمتہ نصاب ) (من ذہب أو ورق ) (مقوّما بأحدہما ) إن استویا فلو أحدہما أروج تعین التقویم بہ ولو بلغ بأحدہما نصابًا دون الآخر تعین ما یبلغ بہ ولو بلغ بأحدہما نصابًا وخمسًا وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقیر، سراج ۔ و فی الرد: قولہ (من ذہب أو ورق ) بیان لقولہ نصاب وأشار ب’’أو‘‘ إلٰی أنہٗ مخیر إن شاء قومہا بالفضۃ وإن شاء بالذہب لأن الثمنین فی تقدیر قیم الأشیاء بہما سواء ، بحر لکن التخییر لیس علٰی إطلاقہٖ کما یأتی قولہ (مقوّما بأحدہما ) تکرار مع قولہٖ من ذہب أو ورق لأن معناہما التخییر ومحل التخییر إذا استویا فقط أما إذا اختلفا قوّم بالأنفع اہ ح قولہ (تعین التقویم بہ) أی إذا کان یبلغ بہٖ نصابًا لما فی النہر عن الفتح یتعین ما یبلغ نصابًا دون ما لا یبلغ فإن بلغ بکل منہما وأحدہما أروج تعین التقویم بالأروج“

ترجمہ:عرض تجارت کی قیمت نصاب کے مطابق ہوگی، خواہ وہ سونا ہو یا چاندی، ان میں سے کسی ایک کے مطابق قیمت لگائی جائے گی۔ اگر دونوں کی قیمت برابر ہو تو دونوں میں سے جو زیادہ مفید ہو، اس کی قیمت لگائی جائے گی۔ اور اگر ایک کے ذریعے نصاب پورا ہو اور دوسرے کے ذریعے کم ہو تو وہ قیمت اختیار کی جائے گی جو نصاب کے برابر ہو، اور اگر ایک کے ذریعے نصاب اور پانچواں حصہ پورا ہو اور دوسرے کے ذریعے کم ہو، تو اس کی قیمت لگائی جائے گی جو فقیر کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ سراج نے فرمایا: ’’من ذہب او ورق‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعے قیمت لگانے میں آزاد ہیں، کیونکہ دونوں کا استعمال اشیاء کی قیمت کو جانچنے میں برابر ہے، لیکن یہ اختیار ہمیشہ کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ بحر نے کہا: یہ اختیار صرف اس صورت میں ہے جب دونوں کی قیمت برابر ہو، اگر قیمت میں فرق ہو تو زیادہ فائدے والی قیمت اختیار کی جائے گی۔ رد المحتار میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’من ذہب او ورق‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعے قیمت لگائی جائے گی، اور اگر دونوں قیمتیں نصاب کے برابر ہوں تو جو زیادہ فائدہ مند ہو، اس کی قیمت لگائی جائے گی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکات، باب زکات المال، ج2 ، ص 299 ، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

”وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز…لكن يجب أن يكون التقويم بما هو ‌أنفع ‌للفقراء “

ترجمہ:عروض کی قیمت کو سونے اور چاندی کے ساتھ ملا کر شمار کیا جائے گا، جیسے خزانے میں ہوتا ہے… مگر یہ ضروری ہے کہ تقویم اس طرح ہو جو غریبوں کے لئے زیادہ فائدہ مند ہو۔(فتاوی عالمگیری ، کتاب الزکاة، الباب الثالث، الفصل الثاني في العروض، جلد 1 ، صفحہ 179، مطبوعہ بیروت)

تبیین الحقائق میں ہے:

”واعتبار الأنفع مذہب أبی حنیفۃ ومعناہ یقوم بما یبلغ نصابًا إن کان یبلغ بأحدہما ولا یبلغ بالآخر احتیاطًا لحق الفقراء“

ترجمہ: امام ابوحنیفہ کے مذہب کے مطابق اس قیمت کا اعتبار ہوگا جو کہ زیادہ نفع بخش ہو اور اس کا اعتبار ہوگا جو کہ نصاب کو پہنچ جائے کہ اگر ایک قیمت کے ذریعے نصاب پورا ہو اور دوسرے کے ذریعے نہ ہو، تو فقراء کے حق میں احتیاط کرتے ہوئے پہلی قیمت اختیار کی جائے گی۔(تبیین الحقائق ،کتاب الزکات، باب زکات المال، ج 2، ص 77، دار الفکر بیروت)

النہر الفائق میں ہے

”و عن الإمام فی روایۃ النوادر یقوّمہا بالأنفع للفقراء وجعلہ الشارح مذہب الإمام“

ترجمہ:اور امام سے روایۃ النوادر سے مروی ہے ہے کہ وہ قیمت لگائی جائے جو کو فقراء کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو اور شارح نے اسے امام کا مسلک قرار دیا ہے۔ (نہر الفائق ،کتاب الزکات، باب زکات المال، ج 1 ، ص 441، ط: دارالکتب العلمیۃ)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے

”(قولہٗ یقومہا بما ہو أنفع للفقراء والمساکین ) تفسیر الأنفع أن یقومہا بما یبلغ نصابًا عند أبی حنیفۃ“

ترجمہ:اور قول کہ فقراء اور مساکین کے لیے زیادہ فائدہ مند قیمت کا مطلب یہ ہے کہ وہ قیمت لگائی جائے جو نصاب تک پہنچے، جیسا کہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے۔” ( الجوہرۃ النیرۃ ، ص 160 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

المحیط البرہانی میں ہے

”وعن أبی حنیفۃ أنہ یقوم بما فیہ إیجاب الزکاۃ، حتی إذا بلغ بالتقوم بأحدہما نصابًا ولم یبلغ بالآخر قوم بما یبلغ نصابًا، وہو إحدی الروایتین عن محمد“

ترجمہ:امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ قیمت ایسی لگائی جائے جس کے ذریعے زکاۃ واجب ہو، یہاں تک کہ اگر ایک قیمت سے نصاب پورا ہو اور دوسرے سے نہ ہو، تو وہ قیمت اختیار کی جائے جو نصاب کو پورا کرے اور یہی امام محمد کی دو روایتوں میں سے ایک ہے۔ (المحیط البرھانی ،کتاب الزکات، الفصل الثالث، ج 2 ، ص 432، دار إحیاء التراث العربی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی

20شعبان المعظم 1446ھ 19 فروری 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں