سامع کا نمازِ تراویح میں امام کے پیچھے قراءت کرنا

سامع کا نمازِ تراویح میں امام کے پیچھے قراءت کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نماز تراویح کی جماعت میں سامع امام کے پیچھے زبان کو حرکت دے کر قرآن پاک کی قراءت کر سکتا ہے یا نہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

بیان کی گئی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدی کا امام کے پیچھے قراءت کرنا ناجائز ومکروہ تحریمی اور مقتدی پر اعادہ واجب ہے ،نماز چاہے فرض ، واجب ،تراویح یا نفل ہو۔لہٰذا سامع پر لازم ہے کہ خاموشی سے کھڑا رہے البتہ زبان کو حرکت دیے بغیر دل میں قراءت کی طرف توجہ دیتا رہے تو درست ہے ۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

” وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ“

ترجمۂ کنز الایمان: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔(آیت204)

تفسیر کبیر میں ہے:

”فَمُقْتَضَاہُ أن یَکونَ الاِستماعُ والسکوتُ واجباً “

ترجمہ:قرآن پاک کی عظمت وشان کا تقاضا یہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا جائے اور خاموش رہا جائے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: 204، جلد 15 صفحہ نمبر 107 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

تفسیر مدارک میں علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”ظاھرُہُ وجوبُ الاستماعِ والاِنصاتِ وقتَ قراءۃِ القراٰنِ فِی الصلوٰۃِ وغیرِھا “

ترجمہ: اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (تفسیر مدارک،جلد اول ,سورۃالاعراف، تحت الآیۃ: 204، صفحہ 606 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ)

تفسیر ابن جریر(طبری) میں ہے :

”عنْ یُسَیرِ بنِ جابرِِ قال صلّی ابن مسعودِِ فسمعَ ناساً یقرؤون مع الامام فلما انصرفَ قال أمَا آنَ لکم أن تفْقَھُوا ؟ أمَا آن أن تعقِلوا” وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ“ کمَا أمرَکمُ اللہُ “

ترجمہ: حضرت یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قراء ت کررہے ہیں۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنی سمجھو : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔جیسا اللہ پاک نے تمہیں حکم دیا۔(تفسیر ابن جریر، الاعراف، تحت الآیۃ: 204، جلد 10 صفحہ 659 مطبوعہ مکتبۃ الاشاعت)

مسلم شریف میں حدیث پاک ہے :

”فَقَالَ أَبُو مُوسَی أَمَا تَعْلَمُونَ کَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَکُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ قَتَادَةَ مِنْ الزِّيَادَةِ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا“

ترجمہ:حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تم نہیں جانتے کہ تم کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے رسول اللہ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں ہماری سنت واضح کی اور ہمیں ہماری نماز سکھائی پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنی صفوں کو درست کرلو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کروائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں اتنا زائد ہے کہ اور جب وہ قراء ت کرے تو تم خاموش رہو۔ (مسلم، کتاب الصلاۃ، باب التشہد فی الصلاۃ، صفحہ 158، الحدیث: 404 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت, لبنان)

ابن ماجہ میں روایت ہے :

”عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:منْ كانَ له إمامُُ فقِراءَةُ الاِمامِ له قراءةُُ“

یعنی روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قراءت اس کی بھی قراءت ہے۔ (سنن ابن ماجة،باب إذا قرأ الإمام فأنصتوا، ج 01، ص276، دار الفكر، بیروت)

تنویر الابصار میں ہے :

”و المؤتم لا یقرأ مطلقاً فان قرأ کرہ تحریماً“

یعنی مقتدی اصلاً امام کے پیچھے قراءت نہیں کرے گا۔پس اگر مقتدی نے امام کے پیچھے قرأت کی تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار، ج 02، ص 327-326، مطبوعہ کوئٹہ)

درمختار میں ہے:

”وإنصات المقتدي“

یعنی مقتدی کا خاموش رہنا۔

اس عبارت کے تحت حاشیۃ طحطاوی میں ہے:

” فلو لم ینصت وقرا یجب علیہ اعادۃ الصلاۃ “

ترجمہ:”پس اگر مقتدی خاموش نہ رہا اور قراءت کی تو اس پر نماز کا اعادہ واجب ہوگا ۔“ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار،ج01،ص211،مطبوعہ کوئٹہ)

اعلی حضرت فتاوی رضویہ میں امام کے پیچھے قرأت کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:

”مذہبِ حنفیہ دربارہ قرأت مقتدی عدمِ اباحت و کراہتِ تحریمیہ ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،ج06،ص240،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

مولانامحمد عرفان مدنی قصوری

8 رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 9مارچ 2025

نظرثانی وترمیم:

مفتی محمد انس رضاقادری

اپنا تبصرہ بھیجیں