خدا کے وجود پر عقلی دلائل

خدا کے وجود پر عقلی دلائل

سوال: زید کہتا ہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا کیونکہ خدا کا وجود مسلمانوں کے قرآن سے ثابت ہے، عقلی طور پر ثابت نہیں۔ اس دعوی کی کیا حقیقت ہے؟ اور زید کے بارے کیا حکم ہوگا؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

زید خدا کا منکر، ملحد اور کافر ہے۔ اس کا دعوی بے بنیاد اور جہالت پر مبنی ہے۔ خدا کے وجود پر نقلی دلائل سے بھی کہیں زیادہ عقلی دلائل موجود ہیں۔ اس پوری کائنات کا ایک ایک ذرہ خدا (صانع) کے وجود پر دلیل ہے۔ زمین، آسمان، انسان، جانور، پیڑ، پودے وغیرہ تمام خدا کے ہونے کا واضح و بیّن ثبوت ہیں۔

وجود خدا پر عقلی دلائل:

1۔ جیسا کہ امام شافعی علیہ الرحمہ خدا کے وجود پر دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

“ورقة الفرصاد طعمھا ولونھا وریحھا وطبعھا واحد عندکم؟ قالوا: نعم، قال: فتأکلھا دودة القز فیخرج منھا الإبریسم، والنحل فیخرج منھا العسل۔ والشاة فیخرج منھا البعر ویأکلھا الظباء فینعقد فی نوافجھا المسک فمن الذی جعل ھذا الأشیاء کذالک مع أن الطبع واحد؟

(تفسیر کبیر، 333/1، مکتبہ علوم اسلامیہ)

توت کے پتے کا ذائقہ، رنگ، خوشبو اور مزاج کیا تمہارے نزدیک ایک جیسے ہیں؟

انہوں نے کہا: ہاں۔

تو امام شافعی علیہ الرحمہ نے فرمایا: پھر اسی پتے کو ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو اس سے ریشم نکلتا ہے، شہد کی مکھی کھاتی ہے تو اس سے شہد نکلتا ہے، بکری کھاتی ہے تو اس سے مینگنیاں نکلتی ہیں، اور ہرن کھاتا ہے تو اس کے نافے میں مشک بنتا ہے۔

تو بتاؤ، وہ کون ذات ہے جس نے ان تمام چیزوں کو یوں پیدا کیا، حالانکہ ان سب کا غذائی مادہ ایک ہی تھا؟

2۔ عالم اور اس کے تمام اجزاء حادث (فنا ہونے والے) ہیں اس طرح کہ ان میں سے بعض کا حادث ہونا مشاہدے کے ذریعے ثابت ہے اور بعض کا ثبوت دلائل قطعیہ کے ذریعے۔ اب جب عالم حادث ہے تو یہ بدیہی اور مسلم بات ہے کہ اس کا کوئی نا کوئی مُحْدِث (فنا کرنے والا) بھی ہوگا۔ کیونکہ اگر محدث نہ ہو تو وجود کو عدم یا عدم کو وجود پر ترجیح دینے والے کے بغیر ترجیح کا پایا جانا لازم آئے گا جو کہ باطل ہے۔

اب وہ محدث یا تو اجزاء خود ہوں گے جو کہ ممکن نہیں کیونکہ ایک چیز خود اپنی ذات کے لیے محدث نہیں ہوسکتی یا پھر ان اجزاء کے علاوہ کوئی چیز ہوگی جو کہ ان اجزاء کی طرح حادث نہیں ہوگی بلکہ واجب الوجود ہوگی۔ کیونکہ اگر وہ محدث بھی حادث ہو تو اس کا بھی کوئی محدث ہوگا۔ اس سے دور لازم آئے گا جو کہ باطل ہے۔ فلہذا جب محدث کا واجب الوجود ہونا متعین ہوگیا تو وہی صانع اور خدا ہوگا۔

جیسا کہ علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ الرحمہ وجود خدا پر دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

ولَمَّا ثبت أنّ العالم محدث، ومعلوم أن المحدث لا بد له من محدث، ضرورة امتناع ترجّح أحد طرفي الممكن من غير مرجح، ثبت أن له محدثاً.

(شرح عقائد نسفیہ، ص 113، مکتبة المدینہ)

اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ عالم (کائنات) حادث ہے (یعنی پیدا شدہ ہے)، اور یہ بات معلوم ہے کہ ہر حادث چیز کے لیے لازمی طور پر ایک مُحدِث (پیدا کرنے والا) ہونا ضروری ہے، کیونکہ ممکن (چیز) کے دو پہلوؤں میں سے کسی ایک کا بغیر کسی مرجِّح (ترجیح دینے والے) کے غالب آ جانا محال ہے، تو یہ ثابت ہوا کہ اس (عالم) کا بھی ایک مُحدِث (پیدا کرنے والا) ہے۔

ان چند مختصر اور اجمالی دلائل کی روشنی میں خوب واضح ہوتا ہے کہ خدا کے وجود پر عقلی دلائل موجود ہیں اور اگر ان عقلی دلائل میں سے ایک ایک دلیل کی جزئیات پر غور و خوض کریں تو بے شمار مزید دلائل ظاہر ہو جاتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ: ممبر فقہ کورس

Arqf-2025-224

23 رمضان المبارک 1446ھ 24 مارچ 2025ء

اپنا تبصرہ بھیجیں